بوسون: عصر حاضر کی عظیم ترین طبیعاتی دریافت(2)

بوسون: عصر حاضر کی عظیم ترین طبیعاتی دریافت(2)
بوسون: عصر حاضر کی عظیم ترین طبیعاتی دریافت(2)

  

دُنیا بھر کے چنیدہ ماہرین طبیعات (Physicists) ایک طویل عرصے سے ایک نہایت گراں قیمت تجربہ گاہ میں کام کر رہے تھے۔ یہ تجربہ گاہ سوئٹزر لینڈ اور فرانس کی سرحد پر واقع ہے اور اس کا نام لارج ہاڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider) ہے۔....

4جولائی2012ءکو بدھ کا دن تھا اور اس تجربہ گاہ کے ارباب ِ کار نے کئی دنوں سے اعلان کر رکھا تھا کہ ہم اس ”ذرے“ کو دیکھنے اور دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو نہ صرف ہمارے کرہ¿ ارض پر بلکہ تمام کائنات میں زندگی کی موجودگی کی بنیاد اور اس کا سبب ہے۔ اس بظاہر حقیر ترین اور خفیف ترین ذرے کی اصل مادی ہے اور کائنات کی سب رنگا رنگی اس ننھے سے ذرے کی مرہون ِ احسان ہے۔

دُنیا کے چند ترقی یافتہ ملکوں نے مل کر جو یہ تجربہ گاہ بنائی ہے اس پر ابتدائی لاگت10ارب ڈالر آئی تھی۔ آج پاکستانی کرنسی میں اس رقم کو تبدیل کیا جائے تو 950ارب روپے بنتی ہے اور یہ بھی دیکھئے کہ یہ لیبارٹری آج سے تین چار عشرے پہلے بنائی گئی تھی۔ اس کی فنڈنگ جس تنظیم نے کی اس کا نام”پورپین آرگنائزیشن فار نیو کلیئر ریسرچ “ ہے۔ جس کا ہیڈ کوارٹر جنیوا میں ہے۔(اس کو فرانسیسی زبان میں سرن(CERN) کہتے ہیں) جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے جنیوا سوئٹزر لینڈ کا دارالحکومت ہے۔ اپنے اسی ہیڈ کوارٹر میں تجربہ گاہ کے ڈائریکٹر جنرل، رولف ہیوئر(Rolf Huver) نے یہ تاریخی اعلان کیا کہ:” بالآخر ہم نے اس ذرے کو دریافت کر ہی لیا ہے۔ یہ دریافت انسانی تاریخ کا اہم ترین سنگ میل ہے“.... سائنس کی تاریخ میں یہ ریسرچ سب سے زیادہ طویل اور سب سے زیادہ گراں قیمت تھی۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ اگر سائنس کا نصیب ”نیک“ہوا تو بہت جلد یہ معلوم کر لیا جائے گا کہ کائنات کا آغاز کس طرح ہوا تھا....اس پر اقبال ؒ کی یہ ٹانٹ یاد آئی:

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ مَیں اس فکرمیں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

قارئین کرام!یہ کائنات کس طرح وجود میں آئی اور ایک ”عظیم دھماکہ“(Big Bang)کیسے ہوا، میرا ایمان ہے کہ اس کا پتہ چلے نہ چلے ہمارے لئے اللہ کا یہ فرمان کافی ہے کہ اُس نے”کُن“ کہا اور ”فیکون“ یعنی وہ ہو گیا۔ اس ہونے میں چھ دن لگے یا سات، وہ کتنے لمبے یا مختصر تھے، اس پر قرآن کی تفاسیر میں سیرحاصل بحث ملتی ہے۔ لیکن سائنس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدائی اسرار کو تب تک تسلیم نہیں کرتی،جب تک اپنے تجربے اور اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے۔

اس ذرے( بوسون ) کا وزن125ارب وولٹ کے برابر ہے اور فزکس کی تھیوری”سٹینڈرڈ ماڈل“ میں بیان کئے گئے قرائن کے عین مطابق ہے۔”سٹینڈرڈ ماڈل“ نام کا نظریہ تقریباً50برس سے تسلیم شدہ ہے اس کی تفصیل ہم آپ کو ضرور بتائیں گے، لیکن پہلے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سطور بالا میں، لفظ”ذرہ“ کا جو استعمال کیا گیا ہے، وہ دراصل ذرہ نہیں بلکہ ذرے کا کئی ہزارواں حصہ ہے۔ انگریزی زبان میں تو ذرے (Atom) سے چھوٹی چیز کو” سب ایٹم“ (Sub-Atom) کہا جاتا ہے۔ لیکن اُردو زبان میں اس کا مترادف کوئی اور لفظ نہیں تھا، اس لئے اُن قارئین سے جو فزکس کے طالب علم ہیں درخواست ہے کہ وہ زبان کی اس محدودیت کو معذوری سمجھ کر معاف کر دیں۔

دراصل مادے(Matter) اور عنصر (Element) کی بحث بہت پرانی ہے۔ مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ حکمائے یونان کے ہاں مادہ چار عناصر پر مشتمل تھا (اس نظریئے کو بعد میں تبدیل ہونا پڑا)، یعنی آگ، ہوا ، پانی اور مٹی .... ساری نیچر یا ساری کائنات ان ہی چار عناصر سے بنی تھی۔ غالب کا مشہور شعر ہے۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے، انہی اجزا کا پریشاں ہونا

سائنس جوں جوں ترقی کرتی جاتی ہے، یہ راز کھلتا جاتا ہے کہ مادی زندگی، واقعی آگ، ہوا، پانی اور مٹی کا ایک ا یسا مجموعہ ہے جس کا توازن ایک ایسی ہستی نے قائم کر رکھا ہے جسے ہم خدا کہتے ہیں۔ لیکن سائنس جہاں ان عناصر(Elements) کو تسلیم کرتی ہے، وہاں خدا کے وجود کی منکر ہے۔ (خدا نظر جو نہیں آتا!....) کارن آرم سٹرانگ (Karen Armstrong)کی ایک مشہور کتاب جس کا عنوان”خدا کی تاریخ“ ہے، اِس میں آخری دو باب ”خدا کی موت“ اور ”خدا کا مستقبل“ کے عنوان سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بظاہر یہ دونوں عناوین بہت اشتعال انگیز ہیں۔ اقبال نے تو ایک نطشے کے بارے میں کہا تھا کہ وہ مجذوب فرنگی اگر میرے زمانے میں ہوتا تو مَیں اُس کو مقامِ کبریا کی تفصیل بتاتا۔ لیکن عصرِ حاضر کے تو درجنوں فلاسفر ایسے ہیں جو کٹر ملحد ہیں اور خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔

.... البرٹ آئن سٹائن(1879-1955ئ) ہی کو لے لیجئے جو عصر حاضر کا سب سے بڑا جرمن سائنس دان تسلیم کیا جاتا ہے اور جو کشش ثقل کے علاوہ زمان و مکاں، حرکت، روشنی اور مادے کے متعلق بہت سے نئے نظریات کا بانی ہے۔ اسی کے نظریات کے زیر اثر دُنیا نے جوہری قوت کا سراغ پایا اور انسان خلاﺅں کی وسعتوں میں سفر کرنے کے قابل ہوا۔ وہ ہٹلر کے دور میں بھاگ کر امریکہ چلا گیا اور وہاں دُنیا کا پہلا جوہری ہتھیار بنانے میں ایک بالواسطہ لیکن اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ستم یہ ہے کہ وہ خدا کا منکر ہے اور یہی حال موجودہ دور کے دیگر بہت سے فلاسفہ کا بھی ہے۔ سائنس دانوں اور سائنس کی انہی معذوریوں پر اقبال نے بالخصوص اپنے فارسی کلام میں بڑے زور دار ابطالی تبصرے کئے ہیں اور وجود باری تعالیٰ کے اثبات پر ایسی ایسی محکم دلیلیں دی ہیں کہ بائد و شائد.... مغرب کے مفکرین ذاتِ خداوندی کی نیرنگیوں پر آفرین کہنے کے باوجود خداوند تعالیٰ کے وجود کے انکاری ہیں.... اُن کی عقل پر مجھے تو حیرت ہوتی ہے اور ترس آنے لگتا ہے۔

اقبال کے دو تین اشعار جو ایک طویل نظم بعنوان ”پیام“ کا حصہ ہیں اور حضرت علامہ نے”پیام مشرق“ میں درج کئے ہیں، ان کو یہاں کوٹ کرنے کی اجازت چاہوں گا:

عقل چوں پائے دریں راہِ خم اندر خم زد

شعلہ در آب دوانید و جہاں برہم زد

کیمیا سازی¿ او ریگ ِ رواں را زر کرد

بر دلِ سوختہ اکسیرِ محبت کم زد

ہنرش خاک بر آورد ز تہذیب ِ فرنگ

باز آں خاک بچشمِ پسرِ مریم زد

(ترجمہ: عقل نے جب اس پیچ در پیچ راہوں میں قدم رکھا تو گویا پانی کے اندر شعلہ دوڑا دیا اور سارے جہاں کو تہہ و بالا کر ڈالا.... عقل کی کیمیا گری نے ریت کو سونا تو بنا دیا، لیکن صد حیف کہ اس جلے دل پر محبت کا پھاہا نہ رکھا جس کی اشد ضرورت تھی.... عقل نے پہلے تو تہذیب فرنگ کو علم وہنر سے لاد دیا اور پھر وہاں کی خاک اُٹھا کر حضرت مریم کے بیٹے کی آنکھوں میں ڈال دی)۔

ہم مادے کا ذکر کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اس کے چار عناصر (Elements) ہیں جو آگ، پانی، مٹی اور ہوا ہیں۔ یہی عناصر اربعہ ساری کائنات میں زندگی کے بڑے بڑے اجزائے ترکیبی ہیں۔ لیکن یہ عناصر جن اجزا سے مل کر بنے ہیں انہیں پارٹیکل (Particles) کہا جاتا ہے۔ پارٹیکل کا اُردو میں مطلب ہے:”خفیف ذرہ“۔ فزکس جب انہی ذرات سے بحث کرتی ہے، تو ان کو ”عنصری ذرات“ (Elementary Particles) کہا جاتا ہے مثلاً فوٹون، الیکٹران، نیوٹران، ہائپران وغیرہ.... ان کی تعداد 30ہے اور دریافتوں کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ یہی ذرات ہیں جو کائنات کے مکان کی”اصل اینٹیں“ ہیں.... اور مادے کو فنا نہیں۔ مادہ صرف اپنی اشکال بدلتا رہتا ہے.... پھر سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے کہ یہ ذرات مزید تقسیم یا تحلیل نہیں ہو سکتے یعنی ان کی تقسیم و تحلیل کی بھی ایک انتہا ہے۔ اسی انتہا کو بوسون (Boson) کا نام دیا جاتا ہے۔

بوسون کو صرف بوسون نہیں کہا جاتا، بلکہ ماہرین طبیعات اس کو ”ہگز بوسون “(Higgs Boson) کہتے ہیں۔

ہگز کا پورا نام ہپیٹر ہگز(Peter Higgs) ہے۔ اس نے ہی یہ تھیوری پیش کی تھی کہ اگر بوسون کا پتہ چلا لیا جائے اور وہ نظر آ جائے تو تخلیق آدم اور تخلیق کائنات کے اس راز سے پردہ اُٹھ سکتا ہے جو ابتدائے آفرینش سے اب تک ایک راز رہا ہے۔ اس نظریئے کی اساس وہ نظریہ تھا جسے طبیعات کی دُنیا میں ”سٹینڈرڈ ماڈل“ کہا جاتا ہے۔

سٹینڈرڈ ماڈل کا نظریہ 1924ءمیں فزکس کے ماہرین نے پیش کیا تھا جس کو آج تک رد نہیں کیا جا سکا۔ نظریہ یہ ہے کہ کائنات ایک بندھے ٹکے اور منضبط پراسس کے نتیجے میں ظہور میں آئی اور آ رہی ہے۔ یہ جو لالہ و گل ہر آن کھلتے اور مرجھاتے رہتے ہیں اور انسان اور دوسرے جاندار پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں تو یہ ایک ”سٹینڈرڈ ماڈل“ ہے۔ یہ عمل خود کار ہے اور ہوتا رہتا ہے۔ اس سٹینڈرڈ سسٹم میں تبدیلی اس وقت ہوتی ہے، جب اس کائنات کا کوئی کردار مثلاً انسان یا کوئی اور جاندار، طے شدہ سسٹم (سٹینڈرڈ ماڈل) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

کائنات کا یہ سٹینڈرڈ اصول ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ اس کی صورت کو اگر کوئی بگاڑتا یا سنوارتا ہے تو وہ ہم خود ہیں جو فطرت کے اصولوں کو توڑتے یا اُن سے انحراف کرتے ہیں اور اس کارخانے کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ بوسون وہ ذرہ ہے جو تمام ذراتِ کائنات کی اساس ہے۔ اس اساس کو اگر کسی طرح ریگولیٹ کر دیا جائے تو درہم بر ہم ہونے کا یہ سلسلہ رُک سکتا ہے۔

یہ بوسون مادے کی گویا اصل ماں ہے جس کی کوکھ سے سارے مادی ذرات تشکیل پذیر ہوتے ہیں۔ اگر بوسون ، یعنی مادی ذرات کا وجود نہ ہو تومادے کی تمام اقسام روشنی کی رفتار سے گردش کرنا شروع کر دیں گی۔ چونکہ مادہ نہیں ہو گا تو زندگی بھی نہ ہو گی۔ صرف روشنی ہو گی جو اس طرح نظر سے پھسلے گی جس طرح ہماری ہتھیلی سے پھسلتی اور گزرتی نظر آتی ہے مگر ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ گزر رہی ہے اور نظر آ رہی ہے....یعنی یہ بوسون ہی ہے جو مادی وجود پر دال ہے۔

گزشتہ چھ سات ماہ سے فزکس کے3000 سائنس دان اس تجربہ گاہ میں مصروف ِ تحقیق و جستجو تھے جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے اور جس پر ابتدائی طور پر 10ارب ڈالر لاگت آئی تھی۔ اس تجربہ گاہ میں دیو ہیکل مشینوں (Detectors) میں ننھے ننھے پروٹونوں (Protones) کو توڑا اور آپس میں ٹکرایا جاتا ہے۔ تین ہزار سائنس دانوں کی دو ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جو دن رات مشاہدہ کرتی رہتی تھیں کہ پروٹونوں کے ٹکرانے سے جو ذرات ٹوٹتے ہیں ان میں صغیر ترین (Smallest) ذرہ کون سا ہے۔ اسی کو بوسون کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا تصور عشروں سے موجود تھا البتہ اس کو ہنوز دیکھا نہیں جا سکا تھا۔آپ سائنس دانوں کی محنت ِ شاقہ کا اندازہ کریں کہ گزشتہ دو برسوں میں 800 ٹریلین پروٹونوں کو اس تجربہ گاہ میں توڑا گیا(ایک ٹریلین برابر ہے ایک ہزار بلین اور ایک بلین برابر ہے ایک ہزار ملین اور ایک ملین برابر ہے دس لاکھ.... آپ خود حساب لگا لیں کہ800 ٹریلین کتنے لا کھ بنیں گے!) .... سائنس دانوں کی ان دونوں ٹیموں نے بالآخر4 جولائی 2012ءاعلان کیا کہ وہ صغیر ترین ذرہ (Boson) نظر آ گیا ہے جو ساری مادی کائنات کی اساس ہے۔ اسی ذرے سے ہم، آپ اور یہ ساری مادی کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے، تشکیل پائی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس دانوں کو آخر کیا مصیبت پڑی تھی کہ وہ اتنے برس، بوسون کی تلاش میں سر کھپاتے رہے اور کیا ضرورت تھی اربوں ڈالر ضائع کر کے یہ تحقیق کرنے کی؟.... کیا بنی نوع انسان کو اس انکشاف کا کچھ فائدہ بھی ہوا یا نہیں؟.... اس کا جواب اگلی قسط میں!    (جاری ہے)  ٭

مزید : کالم