فخرالدین جی ابراہیم کا انتخاب

فخرالدین جی ابراہیم کا انتخاب

اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کو چیف الیکشن کمشنر کے لئے نامزد کردیا ہے۔ یہ معاملہ کافی عرصے سے معلق چلا آرہا تھا، اگرچہ بہت سے نام تجویز کئے گئے لیکن ان پر اتفاق رائے نہیں ہورہاتھا۔ پھر پارلیمانی کمیٹی کی کمپوزیشن ایسی ہے کہ اگر رائے شماری کرائی جاتی تو مسئلہ حل نہیں ہوسکتاتھا، بالآخر مسلم لیگ (ن) کی تجویز مان کر مسئلہ حل کرلیا گیا اور یہ سارا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پاگیا۔ اب جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کا اپنا امتحان شروع ہوگا۔ ایسے شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا اُن کی ذمہ داری بن گئی ہے جن پر سب کا اتفاق ہوا۔ بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کسی بھی دور میں ہونے والے انتخابات پر ہمارے ہاں اعتماد قائم نہیں ہوسکا اور کسی نہ کسی جانب سے انتخابات پر دھاندلی کے الزام لگتے رہے۔ 1977ءکے انتخابات تو اسی بنیاد پر کالعدم ہوگئے اور بالآخر ملک میں طویل مارشل لاءلگ گیا۔ اب اگر جسٹس (ر) جسٹس فخر الدین جی ابراہیم انتخابی عمل پر لوگوں اور سیاسی جماعتوں کا اعتماد قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ ان کی عمر عزیز اگرچہ 86 برس ہوچکی ہے، اگر وہ اس عمر میں الیکشن کمیشن کو ایسا ادارہ بنا دیتے ہیں جو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا کریڈٹ حاصل کرلیتا ہے تو اُن کا یہ کارنامہ ہمیشہ قابل فخر رہے گا اور شاید آئندہ کے لئے قابل تقلید بھی بن جائے۔

مزید : اداریہ