قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالا توہین عدالت بل امتیازی ہے، سپریم کورٹ سے کالعدم کر دے گی ، آئنی ماہرین

قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالا توہین عدالت بل امتیازی ہے، سپریم کورٹ سے کالعدم ...

اسلام آباد(اخترصدیقی)حکومت اورعدلیہ کے درمیان توہین عدالت قانون پراختلافات بڑھنے پر حکومت کوتوہین عدالت کے بھی نوٹس جاری کئے جاسکتے ہیںکہ حکومت نے اس وقت ایسے معاملات کوپارلیمنٹ میں کیوں زیر بحث لائی ہے کہ جب یہ معاملات سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھے کیاانھوں نے ایساکرکے توہین عدالت نہیں کی ہے ، حکومت جوبل مرضی منظور کرالے اسے سوئس حکام کو خط تحریر کرناہی پڑیگا،خط کا معاملہ نئی قانون سازی سے پہلے کاہے اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 204کاجائزہ لیاجائیگاجبکہ این آراو کیس کے فیصلے کاپیراگراف نمبر 178کاجواب بھی حکومت نے دیناہے اس لیے معاملہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کاہے سینئر آئینی ماہرین کی رائے ہے کہ حکومت کوتوہین عدالت بل کومنظوری کے لیے اس وقت تک سینیٹ میں نہیں لے جاناچاہیے جب تک اس حوالے سے عدلیہ اوردیگر قانونی ماہرین کے تحفظات دورنہیں ہوجاتے قومی اسمبلی سے پاس کردہ توہین عدالت کابل امتیازی ہے اس لےے عدالت عظمیٰ اس کو کالعدم قر اردے دے گی ، ذرائع کاکہناہے کہ حکومت کل 12جولائی کوتوہین عدالت بل کاڈرافٹ ساتھ لے کر جائیگی اس کی ایک کاپی اٹارنی جنرل پاکستان عرفان قادر کو بھی بھجوادی گئی ہے وہ بدھ کو اس کا جائزہ لے کر حکومت کو اس حوالے سے اپناآئینی مشورہ دیں گے اس کے بعدہی وفاقی حکومت کی جانب سے سوئس مقدمات کے دوبارہ کھولنے بارے جواب سے سپریم کورٹ کوآگاہ کیاجائیگا۔کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ پارلیمینٹ کے فیصلے کااحترام کرے گی اورنئی ترامیم کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے گی سپریم کورٹ اگر اس پر کوئی فیصلہ د ے گی بھی تووہ عدالت کی آئینی رائے اورتشریح ہوگی اس لیے اس بل کے کالعدم ہونے کے امکانات نہیں ہیں

مزید : صفحہ اول