قانون نافذ کرنیوالے ادارے چند تخریب کاروں کے ہاتھو ں کیوں بے بس ہیں چیف جسٹس

قانون نافذ کرنیوالے ادارے چند تخریب کاروں کے ہاتھو ں کیوں بے بس ہیں چیف جسٹس

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی کے ساتھ ساتھ صوبے کے عوام کے حقوق اور ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے ، قانون نافذکرنے والے ادارے چند تخریب کاروں کے ہاتھوں کیوں بے بس ہیں..چیف جسٹس آف پاکستان نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیئے ، سماعت کے دوران انہوں نے صوبائی سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ ماہ جون اور جولائی میں کتنے لوگ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے جس پر عدالت عظمی کو بتایا گیا کہ ماہ جون میں کل ایک سو ایک ٹارگٹ کلنگز ہوئی جن میں 86عام افراد اور 15پولیس اہلکار نشانہ بنے، عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایک کاروائی کے دوران لشکر مہدی کے تین کارکن گرفتار ہوئے جنہوں نے 24علمائ کا قتل قبول کیا ، اس موقع پر سی سی پی او کوئٹہ نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ میں شیعہ اور دیوبندی مسلک کے علمائ ، سندھی اور پنجابی آبادکاروں کو ماراجارہا ہے، عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس سال کے بجٹ میں فرانزک لیبارٹری کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ مختلف واقعات میں 56ٹاگٹ کلرز بھی مارے گئے ہیں ، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت نے یہ سب کچھ کیا مگر نتیجہ کیا نکلا، سی سی پی او کوئٹہ نے عدالت عظمی میں بیان تھا کہ ہم عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے مرنے اور مارنے کو تیار ہیں اور یہ آنے والا وقت بتائیگا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پروفیشنل انداز میں کام کررہے ہیں اور جلد کامیاب ہوں گے، دوسری جانب چیف سیکرٹری نے عدالت عظمی میں اعتراف کیا کہ امن و امان کے حوالے سے چیزیں بہت اچھی نہیں وہ حالت جنگ میں ہیں ، فرقہ ورانہ دہشت گردی، کالعدم تنظیموں سے لڑائیاں ہیں ، دہشت گرد اگر پولیس یا لیویز تھانہ پر حملہ کریں تو وہ پیچھا کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے،واشک اور آواران میں تخریب کار انتظامیہ کو دھمکاتے ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ وہ پولیس اور لیویز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف سی کو کیوں ہر جگہ استعمال نہیں کرتے، ان کے پاس مکمل وسائل ہیں ، ایک موقع پر چیف جسٹس نے وزیراعلی بلوچستان کے بھتیجے کے قتل کے کیس کے بارے میں بھی دریافت کیا کہ اس کا کیا بناََ اور پولیس کیا کررہی ہے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہر کیس پولیس کیلئے اہم اور صوبے میں ہونے والا ہرقتل میر حقمل جیسا ضروری ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ ایک اندھا کیس ہے اس میں کوئی سراغ ان کے پاس نہیں ماسوائے کہ اس فیملی کی کوئی دشمنی ہو، تاہم عدالت نے حکم دیا کہ انہیں کیس کو پروفیشنل انداز میں دیکھنا ہوگا،کالعدم تنظیموں کے حوالے سے عدالت نے کہا کالعدم تنظیموں کو اہم کردار فنڈنگ کا ہے کیا حکومت نے کبھی انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، اور اگر ان تنظیموں کی فنڈنگ روکی جاتی تو سب رک جاتا۔ جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ یہاں ہر آدمی کا قاتل غائب ہوجاتا ہے ساٹھ افراد کے قتل کی پولیس نے کیا تفتیش کی ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تربت میں جو لوگ مارے گئے ان کا کیا بنا جس پر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تربت میں مارے جانے والے افراد غیر قانونی طور پر ایران جارہے تھے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زائرین کی بسوں پر تین بار حملے ہوچکے ہیں آپ لوگوں کے پاس باتوں کی وضاحت ہے لیکن نتائج کیا ہیں سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ مستونگ واقعہ کے بعد زائرین کی پندرہ سو گاڑیاں بحفاظت پہنچائی گئیں ۔

مزید : صفحہ اول