نئے وزیراعظم کو بچانے کیلئے قانون میں ترمیم کی گئی، مذہبی جماعتیں

نئے وزیراعظم کو بچانے کیلئے قانون میں ترمیم کی گئی، مذہبی جماعتیں

لاہور(نمائندہ خصوصی( مذہبی جماعتوں نے قرار دےا ہے کہ حکومت نے نئے وزیراعظم کوبچانے کے لئے توہےن عدالت قانون مےں ترمےم کی ہے کیونکہ نئے وزیراعظم کو بارہ جولائی کو سپریم کورٹ میںسوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق جواب دنیاہے۔ اس بل کا ایک ایک لفظ چیخ چیخ کر کہہ رہاہے کہ یہ بل صرف صدر زرداری کی کرپشن کو تحفظ دینے کے لیے منظور کیا گیاہے تاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کے حکم سے جان چھڑائی جاسکے اس لئے حکومت نے جلد بازی میں قومی اسمبلی میں بل جمع کرایا اور اسی دن منظور بھی کروا لیاجو پارلیمانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بل ایک دن پیش کیا جائے اور اسی دن منظوربھی کرایا جائے ،امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے اس حوالے سے کہا کہ حکومت توہین عدالت ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور کرکے بد نیتی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث اداروں کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ملک ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مرکزی جمعےت اہلحدےث کے سربراہ پروفےسر ساجد مےر نے کہا کہ حکومت نے جس قسم کی محاذ آرائی شروع کی ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ۔ اس قانون میں وزیراعظم ، تمام گورنرز ، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزرائ، وزرائے مملکت کو استثنیٰ دے کر ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو بے وقعت کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 25کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس کے مطابق مملکت کے تمام شہری برابر ہیں۔ لیکن اس قانون سے چند افراد کو اٹھارہ کروڑ عوام پر فوقیت دی گئی ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ دریائے چناب کے کنارے گجرات سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر فائرنگ کا واقعہ سلالہ چیک پوسٹ سے ملتا جلتا اور ملک دشمن عناصر کی کاروائی ہے ،ملک میں جب تک ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگ آزادانہ گھومتے رہیں گے اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے،جے ےوآئی کے سےکرٹری جنرل مولانا عبدالغفو ر حےدری نے کہا کہ اےسے واقعات کو معمولی نہ سمجھا جائے اور ملک کے اندر سے غےرملکی اےجنٹوں کو باہر نکالا جائے ،ےہ ہماری سلامتی کے خلاف سازش ہے اس کو نہ صرف بے نقاب کےا جائے بلکہ ملوث مجرموں کو پکڑا جائے۔

مزید : صفحہ آخر