کچھ”لطائف الادب“!

کچھ”لطائف الادب“!
کچھ”لطائف الادب“!

  

قارئین کرام! آپ کی ادب دوستی اور ادبی ذوق و شوق کی تسکین کے لئے، ایک ایک کر کے گوہر نایاب کی صورت میں ”لطائف الادب“ چُنتا رہتا ہوں! حاصل ِ مطالعہ ”لطائف الادب“ آج کے کالم میں پیش ہیں....! ملاحظہ ہوں:

حُسام سے ِحسّام

ڈاکٹر محمد سلیم نے اپنی گراں قدر تالیف ”برصغیر کے چند مسلم رجالِ فن“ میں مولانا صلاح الدین احمد]مُدبر ادبی دُنیا[ کی زبانی یہ دلچسپ ادبی لطیفہ رقم کےا:

”ایک دفعہ ایک سینئر انسپکٹر آف اسکول سردار ہری سنگھ ہمارے اسکول میں آئے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب سے اُن کا نام پوچھا: کہا!

”حِسام الدین“!

”حِسام کیا؟.... حُسّام کہیئے.... حُسّام کے معنی ہیں تلوار۔ تو آپ دین کی تلوار ہیں!“۔

سکھ انسپکٹر نے اپنے خیال میں ہیڈ ماسٹر صاحب پر اپنا رُعب جما دیا تھا، مگر ہیڈ ماسٹر صاحب کب چُوکنے والے تھے۔کہنے لگے:

”جناب ِ والا! ماں باپ نے تو حُسّام ہی نام رکھا تھا، مگر مجاہد بننے کے بجائے مُعلم بن گیا اور وہ تلوار انگریز کے راج میں کِرپان کی طرح کُند ہو گئی۔ لہٰذا مَیں نے بھی مناسب سمجھا کہ اس کی پیش اُتار کر اِسے زیر کر دوں“....! انسپکٹر صاحب یہ جواب سُن کر اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئے....!

مےراثی جگت، بھانڈکی پھبتی....

عبید زاکانی عربی زبان کا مایہ ناز ادیب اور صاحب ِ فن شاعر تھا۔ برجستہ گوئی میں کوئی اُس کا ثانی نہ تھا۔ گفتگو کرتا تو گویا ادب کے پھول جھڑتے، ایک ایک جملے میں شگفتگی اس طرح بھری ہوتی جیسے تاتاری ہرن کے نافے میں مُشک اور محبوب کی نیم باز آنکھوں میں شراب کی مستی۔ ایک مرتبہ اُس کے ارادت مندوں نے اُسے بتایا کہ ”فلاں شاعر نے ہجویہ اشعار کے ذریعے آپ کے فن اور ذات میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی ہے“۔!

عبید زاکانی نے اپنے عقیدت گزاروں کی بات سنی تو یکایک اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے تُرت جواب دیا:

”میراثی کی جُگت، بھانڈ کی پھبتی،مسخرے کے طنز، زنَخے کے طعن، عورت کے تھپڑ اور معشوق کی گالی کا بُرا نہیںمنانا چاہئے“!

اےوبی دور کا وزےر

ایوب خاں کے دورِ حکومت میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات روزانہ ایوب کے دورِ ترقی کے قصیدے چھایا کرتے تھے۔ اُن دنوں ریڈیو پاکستان سے بیشتر خبروں کا آغاز اِن الفاظ سے کِیا جاتا:

”صدر ایوب نے کہا ہے“

اُسی دور میں یوں ہوا کہ سندھ کے ایک صحافی کو اطلاعات و نشریات کا وزیر بنا دیا گیا۔ ایک دن وہ وزیر صاحب براڈ کاسٹنگ ہاﺅس کا معائنہ کرنے تشریف لے گئے۔ وزیر موصوف اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان زیڈ اے بخاری کے ساتھ میٹنگ میں تھے کہ چپراسی چائے کی ٹِرے لے کر کمرے میں داخل ہوا۔ بخاری صاحب جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھے اور چائے کی ٹِرے چپراسی سے لے کر نہایت ادب واحترام کے ساتھ وزیر صاحب کے سامنے رکھ دی۔

وزیر صاحب قدرے پریشان ہو کر بخاری صاحب سے مخاطب ہوئے:

”ہم پُرانے دوست ہیں اب جبکہ مَیں وزیر بن گیا ہوں، آپ مجھے خوش کرنے کے لئے کیوں اِس قدر زحمت فرما رہے ہیں؟“۔

زیڈ اے بخاری صاحب نے برجستہ جواب دیا ]اور یقینا ایسا جواب صرف زیڈ اے بخاری ہی دینے کی جرا¿ت کر سکتے تھے[۔

”جناب ِ والا! مَیں آپ کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، مَیں تو اپنے چپراسی کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، جس کے بارے میں مجھے یہ خوف ہے کہ وہ کسی بھی دن میرا وزیر بن سکتا ہے“۔!

دلائل کا وزن

انتخابی سرگرمیاں زور شور سے جاری تھیں۔ انگریزی زبان کے مشہور ڈراما نگار جارج برنارڈشا کا ایک دوست بھی امیدوار تھا۔ اپنے دوست کی خاطر برنارڈشا انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ ایک انتخابی جلسے میں جب وہ تقریر کرنے لگے تو تقریر کے لئے باقاعدہ کوئی اسٹیج یا ڈائس نہیں تھا، چنانچہ برنارڈشا لکڑی کے ایک ڈرم پر کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگے۔ وہ بہت پُرجوش انداز میں، دُھواں دھار تقریر کر رہے تھے کہ زور پڑنے پر اچانک ڈرم ٹوٹ گیا اور برنارڈشا ڈرم کے اندر جا گرے، مگر جھٹ پٹ وہ ڈرم سے باہر نکل آئے اور نہایت اطمینان کے ساتھ تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بلند آواز سے بولے:

”سامعین! آپ نے میرے دلائل کا وزن ملاحظہ فرمایا“۔

صوفی کو فارسی نہیں آتی

پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم اُستادوں کے اُستاد تھے جگت اُستاد تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی پڑھاتے تھے،جہاں احمد شاہ بخاری]پطرس بخاری ”پطرس کے مضامین، والے[ پرنسپل تھے۔ ایک مرتبہ بخاری صاحب کسی کلاس میں گئے۔ صوفی تبسم کے صاحبزادے بھی کلام روم میں بطور طالب علم موجود تھے۔ فارسی شاعری پرکوئی بات چلی تو پطرس بخاری نے پوچھا: ” تم لوگوں کو فارسی کون پڑھاتا ہے؟“۔ صوفی صاحب کے صاحبزادے نے فخریہ بتایا کہ”ابا پڑھاتے ہیں“۔ بخاری صاحب نے کہا:

” اونوں تے آپ فارسی نئی آﺅندی تہانوں کی پڑھائے گا؟“

]یعنی” اُسے تو آپ فارسی نہیں آتی وہ آپ لوگوں کو کیا پڑھائے گا؟“[

یہ بات فارسی کے مستند اُستاد کے بارے میں اُس کے بیٹے سے کہی جا رہی تھی، خیر بات آئی گئی ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد صوفی صاحب کا بخاری صاحب سے آمنا سامنا ہوا تو صوفی صاحب نے گِلہ کیا”یار بخاری! گل تے تیری سچی اے، پر بَچیاںنوں اے گلاں نئی دسّی دِیاں“ ....] یعنی” یار بخاری! بات تو تمہاری سچی ہے (کہ مجھے فارسی نہیں آتی) مگر یہ باتیں بچوں کو تو نہیں بتائی جاتیں“!

گم

مشہور شاعر انجم رومانی ایک بار پاکستان رائٹرز گلڈ کی ایگزیکٹو باڈی کے الیکشن میں امیدوار تھے۔ اشفاق احمد گلڈ کے سیکرٹری تھے۔ الیکشن کے موقع پر انجم رومانی اپنا نام امیدواروں میںنہ پا کر حیران و پریشان ہو ئے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی اشفاق احمد کے سُپرد کر کے مطمئن تھے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اشفاق احمد سے پوچھا انہوں نے کہا:”میری جیب سے وہ کاغذاتِ نامزدگی کہیں گم ہو گئے“۔ یُوں مقررہ تاریخ گزر جانے کے سبب انجم رومانی دوبارا بھی کاغذات نہ جمع کرا سکے اور الیکشن لڑنے سے رہ گئے تاہم انہوں نے ایک قطعہ کہہ کر یُوں اپنا غصہ نکالا:

اشفاق گُم نہ دخترِِ ”لیل و نہار“ گُم

ہوتے ہیں کاغذات مگر بے شمار گُم

”تُو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے؟“

صوفی و اختر و اثر و انتظَار گُم

مزید : کالم