لاشوں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور گھرمیں لیویزکی ڈیوٹیاں ختم کرنے کا حکم، آرڈر دیاتو سب دیکھ لیں گے : سپریم کورٹ

لاشوں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور گھرمیں لیویزکی ڈیوٹیاں ختم کرنے کا حکم، آرڈر ...
لاشوں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور گھرمیں لیویزکی ڈیوٹیاں ختم کرنے کا حکم، آرڈر دیاتو سب دیکھ لیں گے : سپریم کورٹ

  

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے بلوچستان سے ملنے والی لاشوں کا ریکارڈ مرتب کرنے اورلوگوں کے گھروں کی سیکیورٹی پر مامور لیویز اہلکاروں کو واپس بلانے کا حکم دے دیاہے ۔عدالت نے سندھ سے لاپتہ عبدالرشید کیس میں ایڈوکیٹ جنرل سندھ کونوٹس جاری کردیا۔ امن وامان کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ چودہ بندے ایف سی کے پاس ہیں ، سپریم کورٹ سب کچھ اپنے اوپر لے رہی ہے ، لوگ فورسز کو ہی ملوث کرتے ہیں ، فرنٹیئر کانسٹیبلری حکام کو بلاکر آرڈر جاری کیا تو سب دیکھ لیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم روز آتے ہیں ، تقریریں سنتے ہیں لیکن کچھ کام نہیں ہوتا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایف سے وکیل راجہ ارشاد سے کہاکہ 14بندے ایف سی کے پاس ہیں ، دو کی لاشیں ملیں ، کیا آپ نے اُن لاشوں کا پوسٹمارٹم کرایا؟ چیف جسٹس نے کہاکہ کیس بند کردیتے ہیں ، بندے لے آﺅ۔اُنہوں نے کہاکہ سب کو عزت کا راستہ اختیار کرناچاہیے ، ایف سی کمانڈنٹس کو بلا کر بیانات کے بعد آرڈر دیا تو آپ دیکھ لیں گے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ بلوچستان میں وہ کام ہورہاہے جوعدالت نہیں کہہ رہی ، سبکچھ اپنے اوپر لے رہے ہیں ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ حالات کوپٹڑی پر لانا ہوگا، وفاق نے نہ لایاتو ہم لائیں گے ، ہمیں پتہ ہے کہ کس طرح پر عمل کراناہے ۔ چیف جسٹس نے راجہ ارشاد سے کہاکہ دو کاموں میں سے ایک آپ کو کرناہوگا، یابندے لے آئیں یا ایف سی کے کمانڈنٹس پیش کریں ۔ ایجنسیوں کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ آئی جی ایف سی اسلام آباد میں ہیں جبکہ ڈی آئی جی بریگیڈیئر شہزاد کے گھر پر حملہ ہواہے ۔عدالت نے کہاکہ آپ یہ سارے غلط کام بند کردیں جس پر ایف سی کے وکیل نے کہاکہ ایف سی اہلکاروںکی لاشیں ملتی ہیں لیکن اُنہیں کوئی نہیں دیکھتاجس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت اُنہیں دیکھتی ہے لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے غم میں دنیا کو بھول جائیں ۔عدالت نے کہاکہ بندے غائب ہیں، ڈپٹی کمشنرکو پتہ ہی نہیں ، سرکاری افسران کالے شیشے والی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں ۔راجہ ارشاد نے عدالت سے مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ کل تک سب کلیئرہوجائے گا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو بہت سی چیزوں کی صفائی دینی ہے ۔جسٹس جواد نے کہاکہ یہ اونٹ کا زمانہ نہیں ، جدید دور ہے ، فاصلے جلد طے ہوتے ہیں ،آپ کے پاس بندے نہیں تو ریکارڈ توہوگا۔جسٹس خلجی عارف نے ایف سی کے وکیل سے استفسار کیاکہ کیاوجہ سے کہ ہر دوسرے میں ایف سی کو ملوث کیاجاتاہے جس پر راجہ ارشاد نے کہاکہ یہ سوال اُن کے ذہن میں بھی اُٹھتاہے ۔عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیاکہ لاشیں کون پھینک رہاہے ؟ صوبے میں ہر آدمی پریشانی دکھائی دیتاہے ۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ سیاسی وجوہات ، سابق لوکل باڈیز سسٹم نے صوبے کو مایوسی میںدھکیل دیاجس پر چیف جسٹس نے کہاکہ بلدیاتی نظام ہوتا تو لوگوں کے مسائل حل ہوتے ، سب سے بڑا مسئلہ فیلڈ ورک ہے جس پر چیف سیکرٹری نے کہاکہ صوبے میں احتساب اور فنڈز کے استعمال پر نظررکھے ہوئے ہیں ،این ایف سی ایوارڈ میںملنے و الے اسی ارب روپے تنخواہ میں برابر ہوگئے ہیں ۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو ملنے والی لاشوں کا ریکارڈ مرتب کر نے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ڈپٹی کمشنر جرائم کی روک تھام پر کوئی تجربہ نہیں رکھتے ۔عدالت نے کہاکہ گھر میں بیٹھنے سے کچھ حل نہیں ہوگا،لاشیںملیں تو کبھی پتہ چلا یاکہ کس نے کیوں مارا؟چیف جسٹس نے کہاکہ ایف سی ، پولیس اور لیویز کوبلایالیکن کوئی ایک ٹارگٹ کلر بھی نہیں پکڑا گیا ۔عدالت نے لیویز کو لوگوں کے گھروں کی ڈیوٹی سے واپس بلانے کا حکم دے دیا۔ڈی پی او خضدار نے بتایاکہ ضلع میں اغواءکاروں کے دس سے زائد گرو پ ہیں ، میں اُن کے پیچھے ہوں ،نہیں چھوڑوں گا۔عدالت نے لاپتہ عبدالرشید کیس میں ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : کوئٹہ /Headlines /Breaking News