جاگنے کا وقت

جاگنے کا وقت
جاگنے کا وقت

  

”بہت پریشان ہوں،ملک میں دہشتگردی عروج پر ہے،مہنگائی،کرپشن اور بد امنی جیسے مسائل نے مجبور کر دیا ہے کہ آپ دوستوں سے مشورہ کرکے کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جائے ،نئی حکومت بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہے لیکن ہم نجانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ بھارت اور امریکہ پاکستان کے کھلے دشمن ہیں،پاکستان کی ساکھ،عزت،حرمت پر وار کر رہے ہیں،یہ جاگنے کا وقت ہے،نئی سوچ اور نئے فیصلے کا وقت ہے۔“

صاحبو!! یہ الفاظ پروفیسرحافظ محمد سعیدکے تھے،انہوں نے گذشتہ روز ملک کے چند نامور صحافیوں اور کالم نگاروں کو اکٹھا کیا اور پاکستان کے مستقبل پر لمبی چوڑی بحث کا آغاز کیا،کوئی شک نہیں کہ پروفیسرحافظ سعید کا نام دنیا کے کسی کونے میں لیا جائے ،فوری پہچانے جاتے ہیں،بھارت کے تو بچے بچے کو پروفیسر حافظ سعید کے نام سے واقفیت ہے،جیسے شیر کا خوف ہر کسی پر طاری رہتا ہے بالکل ایسے ہی ان کا خوف بھی بھارت پر طاری ہے،جو لوگ حافظ صاحب کو ذاتی طور پر جانتے ہیں،انہیں پتا ہے کہ حافظ صاحب کی شخصیت کتنی معصوم سی ہے لیکن ان کا کام اتنا عظیم اور اعلیٰ ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے،کشمیر کی آزادی کا معاملہ چاہے ساری دنیا بھول جائے لیکن حافظ صاحب کا خواب صرف اس جنت نظیر خطے کی آزادی ہے، بحث کیا چھڑی کہ ایک لمبا چوڑا سیشن ہو گیا۔

 ہم اس محفل میںبیٹھے سوچ رہے تھے کہ بھارت اورامریکہ نے ہمیشہ پاکستان سے دشمنی بیاہی ،وزیراعظم جناب نواز شریف اپنے پچھلے دور میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش کرتے نظر آئے لیکن پاکستانی عوام نے اس دوستی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،نتیجہ یہ نکلا کہ محترم نوازشریف اور واجپائی کو طرح طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ واجپائی کا مینار پاکستان جانا ان کےلئے مصیبت بن گیا،مشرف دور میں دونوں ممالک کے درمیان ٹینشن کی انتہا رہی ،بار بار دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آتی اور پلٹتی رہیں ساتھ ہی ساتھ امریکہ ، بھارت اور اسرائیل ہمیں دوسرے محاذوں پر بھی الجھاتے رہے،کون نہیں جانتا کہ بھارت ،امریکہ اور اسرائیل تشدد پسند ہیں ،جرم یا ظلم کرتے انسا نیت سوزی کی ہر حد چھو سکتے ہیں ،وہاں کے حکمر ان ہوں ،سیاستدان ،پو لیس افسران ،فوجی جرنیل یا عام انسان ، سبھی خونی درند ے ہیں ، امریکہ اور اسرائیل، بھارت کی خونخواریت کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نیست و نا بو د کرنا چاہتے ہیںلیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ مشرف دور میں امریکہ ،اسرائیل اور بھارت اپنے بہت سے منصوبوں میں کامیاب ہوئے ،”نائن الیون“ کروا کر امریکہ نہ صرف افغا نستا ن میں جا گھسا بلکہ اسرائیل اور بھا ر ت کو بھی وہاں لے آیا،افغانستان کی تو جو تباہی ہونا تھی ہوئی لیکن ان کا اصل ہدف پا کستا ن تھا اسی لئے یہ تینوں ملک ایک طر ف ہمارے قبائلی علاقوں میں گھس کر تشدد کا لامتنا ہی سلسلہ جاری ر کھنے میں کامیا ب رہے او ر دوسری جانب کراچی جوہماری ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا امن برباد کرنے پر تلے رہے ،امریکہ نے مشرف کو ڈرا دھمکا کر پاکستان کے معروف ادارے ”مفلوج “ کروائے ،ہماری زراعت کا بیڑا غرق ہو گیا ،انڈسٹری بند ہو گئی ،پاکستانی ایٹم بم کو ”غیر محفوظ “ قرار دیا گیا ،محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی ہوش مند لیڈر مروا دی گئی ، فوج کو بدنام کرنے کی کوششیں ہوئیں ،ڈاکٹر قدیر خان پر ظلم کیا گیا، انہیں ”چور“ مشہور کروایا گیا ،یہ سب کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ پاکستان جس جس شعبے میں نام رکھتا ہے ان شعبوں کو برباد کر دیا جائے ، کرکٹ چاہے کھیل سہی لیکن اس کی وجہ سے پاکستان کی ایک پہچان تھی،ہم ورلڈ کپ جیت چکے تھے ، عمران خان ،وسیم اکرم ، جاوید میانداد،وقار یونس،عاقب جاوید ،انضمام الحق اور عبدالقادر جیسے کھلاڑیوں کی وجہ سے دنیا میں بڑا مقام رکھتے تھے ،یہ امیج امریکہ اور بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا، اسے تباہ کرنے کےلئے بھارت نے ممبئی حملوں کا بدلہ لینے کے بہانے اسرائیل اور امریکہ کے تربیت یافتہ دہشتگردوںسے لاہور میں سر ی لنکن ٹیم پرحملہ کروایا اور ہمیںممبئی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ، سچ ہے کہ یہ ایک ٹیم پر حملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی کمر توڑنے اور ہمیں دنیا میں تنہا کر نے کی گھناﺅنی سازش تھی مگر افسوس کہ آمر حکمران جنرل پرویز مشرف اپنی لڑائیوں میں ملک کی حفاظت کا اہم ترین فریضہ سرانجام دینے سے قا صر رہے ،اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلا ف سازشوں اور اقتدار کی ”غلام گردشوں “ میں یوں کھوئے رہے کہ بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رکھ سکے ۔

بلاشبہ امریکہ ،اسرائیل اور بھارت انٹرنیشنل ولنز کا گینگ ہے جو پاکستان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اور پوری دنیا کا ماحول خراب کئے ہوئے ہے ،اسرائیل نے پورے عرب خطہ میں آگ لگائی ہوئی ہے، بھار ت ہمارے علاقہ کا سکون غارت کئے ہوئے ہے اور امریکہ پوری دنیا پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہا ہے ،دوسری جانب جب ان غنڈوں کے اندرونی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے گھروں میں طرح طرح کے سیاپے ہیں لیکن یہ دوسروں کو فتح کرنے نکلے ہیں،امریکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے،اس کا نام نہاد سپر پاور ہونے کا” بینر “ذرا سی ہوا چلنے پر گر سکتا ہے ،بھارت کے اندر غربت اور علیحدگی پسند گروپوں کو ایک لمحہ کےلئے اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے اور صرف اس کے انرجی سیکٹر کو ہی دیکھ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہاں پاکستان سے کہیں زیادہ لوڈ شیڈنگ ہے ،بھارت کو 40 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے،اسرائیل کی حالت کا کیا ذکر کرنا کہ وہ تو امریکہ اور یورپ کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔

جی ہاں ! جن کی اپنی حالت زار ناقابل بیان ہے وہ دنیا کو فتح کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتے ہیں لیکن افسوس تو ان اپنوں پر ہے جو ان دشمنوں کے نر غے میں آتے ہیں اور ان کے گن گاتے ہیں ،ہونا تو یہ چاہیئے کہ ہم دشمنوں کو پہچانیں ، ان کی کارستانیوں پر نظر رکھیں ،مگر ہم ان کے دانے میں آکر اپنے ہی گھر کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ،کیا ہم بھول جاتے ہیں کہ پاکستان بنانے کےلئے ہمارے بزرگوں نے کیسی کیسی قربانیاں دیں،ہماری ماﺅں بہنوں نے کیسے اپنا آپ پاک وطن پر وار دیا ،آگ اور خون کے کتنے دریا تھے جنہیں عبور کرکے بڑوں نے ہمارے لئے جنت نظیر ٹکڑا پایا،وہ ہجرت،وہ سفر کی صعوبتیں،وہ شہادتیں،وہ لٹتے اور آگے بڑھتے قافلے،وہ دلیریاں اور دشمن کی پستیاں ،کیا ہم بہت جلد سب کچھ بھول گئے۔؟کیا ہمیں کچھ یاد نہیں کہ اس دھرتی کو لاکھوں انسانوں نے اپنے خون کا نذرا نہ دیا ،اپنا سب کچھ لٹا دیا ،پھر کہیں جا کر پاک سر زمین کا منہ دیکھنا نصیب ہوا۔؟لیکن افسوس کہ ہم سب کچھ پا کر ،سب کچھ کھو دینا چا ہتے ہیں ،ہم ان پتوں پر تکیہ کررہے ہیں جو ” ہَوا “دیتے ہوئے صاف دکھائی دے رہے ہیں ، ہم ان دشمنوں کو دوست بنانے کی کوشش میں ہیں جو ہمارا نام سننا گوارا نہیں کرتے،جو ہمیں کسی صورت برداشت نہیں کرتے، واہ ! رے دوستی!! تیری کون سی ”کل “ سیدھی۔      ٭

گزشتہ روزکاکالم سرفرازحسین کالکھا ہواتھا، ناموں کی مماثلت کی وجہ سے سہواََ سرفراز انورکے لوگو کے ساتھ شائع ہوگےا۔  (ادارہ)

مزید :

کالم -