نواز شریف کے اٹل فیصلے اور شہباز شریف کی پھرتیاں

نواز شریف کے اٹل فیصلے اور شہباز شریف کی پھرتیاں
نواز شریف کے اٹل فیصلے اور شہباز شریف کی پھرتیاں

  

(ن) لیگ کی حکومت کو آئے ابھی ایک ماہ ہی گزرا ہے کہ لوگ تنقید برائے تنقید پر اتر آئے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے پچھلے کئی سالوں کی خامیاں ایک ماہ میں پوری نہیں ہو سکتیں یہ تو حقیقت ہے کہ ملک پچاس سال پیچھے جا چکا ہے، جتنے بھی لوگ ماضی میں حکمران رہے ان میں سے ملک کو نقصان پہنچانے والوں کی تعداد زیادہ رہی اگر ملک سنبھلنا بھی چاہتا تو انہوں نے اسے سنبھلے نہیں دیا۔ لوگ سیاست کا کھیل ملک کے اندرونی سیاستدانوں سے کھیلتے ہیں مگر ہمارے سیاستدانوں نے اپنے ملک کے ساتھ دوسرے ملکوں سے مکروہ کھیل کھیلا کہ ہم مقروض ہو گئے اور پھر ہم بد نام ہو گئے ہمیں دہشت گرد بنا دیا گیا اور دنیا ہم سے نفرت کرنے لگی حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔

میں کل ایک سفر پہ تھی لاہور سے اسلام آباد وہاں پر ہماری گورنمنٹ کالج کی کلاس فیلوز اور کالج فیلوز نے ایک لنچ رکھا ہوا تھا جو تقریباً ہر تین ماہ بعد ملک کے مختلف شہروں میں دیا جاتا ہے جس میں لاہور، اسلام آباد، کراچی اور سیالکوٹ شامل ہیں، اس لنچ کی تیاریاں باقاعدگی سے کی جاتی ہیں جس میں خواتین کے فیشن کے مطابق جیولری اور شوز اور خاص طور پر سٹوڈنٹ لائف کی شرارتی باتوں کا ذکر ہوتا ہے میں صبح 4 بجے نکلی اور آٹھ بجے اسلام آباد پہنچ گئی کچھ وقت اپنی سسٹر کے گھر گزارا اور پھر ساڑھے بارہ بجے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں لنچ پر جانے کے لئے تیار ہو گئی تقریباً ایک بجے ہوٹل پہنچی اور یوں لگ رہا تھا کہ میں ہی لیٹ ہوں ساری فرینڈز بیٹھی ہوئی تھیں ۔ انہوں نے بڑی گرم جوشی سے ویلکم کیا، سب کو ملنے کے بعد ہم لوگ ادھر اُدھر کی گپ شپ لگانے لگیں ان دوستوں میں بیورو کریٹس بھی تھیں، سیاستدان بھی، سوشل ورکرز ، صحافی اور ہاﺅس وائف بھی تھیں۔ یہ لنچ شروع کرنے سے پہلے ذکرِ سیاستدانوں کا چھڑ گیا، ایک خاتون بولی پچھلے پانچ سال حکومت کی سزا نواز شریف اور شہباز شریف بھگتیں گے دوسری نے منہ سے بات چھینی اور بول پڑے جب خزانہ لوٹتے ہیں تو سزا انہیں نہیں ملتی سزا تو خزانہ لٹانے والا ہی بھگتا ہے اور وہ عوام ہیں جس کا خزانہ لوٹ لیا گیا، اور عوام کو تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔

تیسری نے فوراً ریمارکس دیئے کہ اب دیکھئے نواز شریف کے اٹل فیصلے اور شہباز شریف کی پھرتیاں ملک کو روشنی کی طرف لے جائیں گی کیونکہ ان میں لٹیرے کم اور ملک کے ہمدرد زیادہ ہیں۔ ایک اور خاتون بول پڑی کہ سفارشیں تو یہاں پر بھی شروع ہو گئی ہیں جو آفیسر پچھلی حکومت میں کرپٹ تھے وہ آج بھی سفارشوں سے لگانے شروع کر دیئے ہیں دیکھتے ہیں کہ ان کے اٹل فیصلے اور پھرتیاں کیا رنگ دکھائیں گی۔

میری ایک دوست جو بیورو کریٹ ہے وہ بولی کہ ملک کی سلامتی کی دعا کرو ملک بیرونی ملکوں کی سازشوں میں گھرا ہوا ہے ہمیں دیکھنا ہے کہ اس کو کس طرح بچانا ہے ایک فرینڈ سے رہا نہ گیا تو بول اٹھی کہ بجلی کا بحران جو بھی کم کر گیا وہی کامیاب ہو گیا، راجہ رینٹل نے دسمبر دسمبر کہہ کر پانچ سال گزار لئے اور خواجہ آصف تین ماہ اور تین سال کہہ کر کیا گل کھلائیں گے یہ بھی دیکھنے کے لئے ہم تیار ہیں۔ ریلوے کی لائنیں بلور نے بیچ ڈالیں۔ اب دیکھیں سعد رفیق اس بُحران سے کس طرح نپٹے ہیں۔ پھر ہمارے پاس سڑکیں ہی رہ جائیں گی۔ایک نے کہا ہمارے وزیراعظم نے کرپشن کا نوٹس لے لیا ہے اور فوراً بعض اداروں کو نوٹس بھیج بھی دیا ہے کہ اداروں سے کرپٹ اہل کاروں کا صفایا کر دیا جائے، اس طرح جلد ہی پاکستان بہتری کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ اب حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف چین کا کامیاب دورہ کر کے وطن واپس لوٹے ہیں ،امید کی جانی چاہئے کہ ان کے دورے کے مثبت اثرات آئندہ چند ماہ میں سامنے آنے شروع ہو جائیں گے، اگر توانائی بحران کے حوالے سے جو معاہدے کئے گئے ہیں ان پر عمل ہو جائے تو آئندہ ایک ڈیڑھ سال میں توانائی بحران کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

میری ایک دوست ہاﺅس وائف ہے کم بولتی ہے مگر اچھا، ایک دم چونک پڑی آپ کو معلوم ہے کہ پچھلی حکومت سے عورتیں تنگ آ چکی تھیں، مہنگائی اتنی ہو گئی گھر کا بجٹ خراب ہو گیا تھا، (ن) لیگ کو ووٹ عورتوں نے دیا ہے۔ اور نواز شریف زیادہ تر خواتین کے ووٹ حاصل کر کے اس وقت اقتدار میں ہیں۔ اور ہماری دعائیں ہیں کہ ماضی میں جو (ن) لیگ کی حکومت تھی ان میں جو کمی تھی یہ اب پوری کریں گے تاکہ عوام کو خوشحالی دے سکیں، ہمیں سربراہوں کے لئے دعا مانگنی چاہئے کہ اپنے ملک کی سلامتی کے لئے یہ مثبت سوچ رکھیں، اگر انہوں نے پچھلی حکومت کی طرح کیا تو پھر دوبارہ کبھی اقتدار میں نہیں آئیں گے، یہ لنچ سیاست کا میدان بن گیا میں یہ سب دیکھ کر مسکرا رہی تھی، مگر میں وقتی طور خاموش رہی، کہ یہ تین ماہ بعد کی ملاقات میں سیاست کا رنگ کیوں چھا گیا، فقط یہ سوچ کر چپ رہ گئی کہ سیاستدانوں کی خامیاں خواتین پہ اثر انداز زیادہ ہوتی ہیں، ایک تو بجٹ خراب ہو جاتا ہے مہنگائی سے اور بجلی نہ ہو تو کراچی سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے۔ مہنگائی سے اور بجلی نہ ہو تو گرمی سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے، بچوں کی نیند پوری نہ ہو تو ماں ہی پریشان ہوتی ہے، اور پھر بچہ پڑھ بھی ٹھیک طرح سے نہیں پاتا، گیس نہ ہونے کی وجہ سے کھانا دیر سے بننے پر ڈانٹ بھی پڑتی ہے۔ لبِ لباب یہ کہ سب تکلیفیں خواتین ہی سہتی ہیں، پھر یہ خواتین سیاستدانوں کا ذکر کیوں نہ کریں، اتنے میں ایک دوست نے کہا کھانا تولو، شہباز شریف کی پھرتیاں لنچ میں کیوں یاد کر رہی ہو، ہم سب نے اٹھ کر کھانا لیا، اور ایک دوسرے کے کئے ہوئے فیشن پر نظر پڑی اور واپس ٹیبل پر بیٹھ گئیں، فیشن پر تنقید ہونے لگی، میں نے شکر کیا کہ ماحول خوشگوار ہو گیا لیکن خواتین جدھر کو چل پڑتی ہیں چل پڑتی ہیں، ایک پیپلزپارٹی کا سابقہ منسٹر نظر آیا تو پھر شروع ہو گئیں۔ شہباز شریف کی پھرتیاں آپ جلد دیکھ پائیں گی، نوازشریف کی نیندیں اڑ گئی ہیں کیونکہ وہ ہر وقت ملک کی سلامتی کا سوچ رہے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ ملک کو کدھر سے فائدہ ہے اور کدھر سے نقصان، ہم لوگ تنقید کرنے کی بجائے مشورے دیں تو وہ زیادہ اچھا ہے ہم سب ایسی خواتین ہیں جو کسی نہ کسی شعبے سے منسلک ہیں، ہمیں اپنا کردار اس طرح ادا کرنا چاہئے جس میں ملک کی بہتری ہو اور موجودہ سیاستدانوں کو اچھی سپورٹ ملے اگر پچھلی حکومت کو فرض کریں ایک کروڑ ملتا تھا آدھا کھاتے آدھا عوام پر لگاتے تو بھی برا نہ تھا وہ تو سارا کھا گئے کبھی واپس نہ آنے کے لئے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ سیاست کا موضوع بدل دوں مگر یہ گرما گرمی سے تھوڑا ہٹ گیا تو ہم سب دوبارہ بوفے لینے کے لئے اٹھیں اور ہم سب پر ہوٹل کے اندرونی ماحول کا اثر پڑنے لگا، ہم لوگوں نے پرانی باتیں پرانی یادیں دہرانی شروع کیں تاکہ سیاست کی طرف دھیان نہ جائے، اگلے تین ماہ کا پروگرام لاہور کا طے ہوا اور میزبان مجھے بنایا گیا۔ میں نے خوشی سے قبول کیا اور کہا کہ بھائی اگلے تین ماہ میں بجلی آ رہی ہو گی لہٰذا ہم سیاست کا ذکر کم کریں گے اور اپنا اور اپنے بچوں کا ذکر زیادہ کریں گے۔ سب مسکرانے لگیں گویہ لنچ میرے لئے ایک تحریری لنچ بن گیا تھا مجھے تمام فرینڈز کے خیالات مل گئے کہ ان کے اندر سیاست اور ملک کے لئے کیا چھپا ہے سب باہر نکل آیا جتنا بھی ذکر ہوا میرے کالم کو مکمل کر گیا پھر ہم ایک دوسرے سے اچھے دوستوں کی طرح باتیں کرنے لگیں، لہجے تبدیل ہو گئے، کھانے کے بعد قہوہ لیا او رپہلے جو لنج ہوتے رہے ان سے زیادہ وقت اس لنچ پر لگا، آخر میں کچھ لنچ اچھا لگا ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملا کیونکہ تین ماہ بعد نہ جانے کون کہاں ہوگا؟

ایک فرینڈ بولی کہ میں نے لاہور آنا ہے کیونکہ مجھے لاہور اچھا لگا اور شہباز شریف نے لاہور کو خوبصورت کر دیا ہے مجھے ضرور گھمانا کیونکہ لاہور کی سڑکیں اور اوور ہیڈ برج نے لاہور کو اور بھی خوبصورت بنا دیا اور میں شہباز شریف کو مبارک دیتی ہوں کہ جو کام کہتے ہیں وہ کر پاتے ہیں جب میں لاہور آﺅں گی تب تک لوڈشیڈنگ بھی کم ہو گئی ہو گی۔ یہ لنچ ایک یادگار لنچ بن گیا اور سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئیں میں اور ایک اور فرینڈ دوسرے شہروں سے تھیں اس نے دوسرے دن کراچی جانا تھا اور مجھے آج رات ہی لاہور۔

یہ تھا ایک نہ ہوتے ہوئے بھی سیاسی لنچ   ٭

مزید :

کالم -