پوپلزئی مان گئے: ملک میں پہلا روزہ ایک ہی روز!

پوپلزئی مان گئے: ملک میں پہلا روزہ ایک ہی روز!
پوپلزئی مان گئے: ملک میں پہلا روزہ ایک ہی روز!

  

یہ کتنا مختلف ہے اور کتنی حیرت ہے کہ پوری قوم ایک ایسے فیصلے سے خوش ہوگئی جو یوں ہی ہونا چاہئے تھا اور ماضی میں اگر اختلاف ہوتا تھا تو یہ درست نہیں تھا۔ آج (جمعرات) رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوگیا۔ پہلا روزہ ہے اور ملک بھر میں مجموعی طور پر ایک ہی روز رکھا گیا ہے۔ لنڈی کوتل اور ایک آدھ اور ایسی مختصر جگہ پر اگر سعودی عرب کی پیروی کی گئی ہے تو وہ ذرا بھی متاثر نہیں کر سکی اور پاکستانی قوم نے بڑی دیر کے بعد یہ دن دیکھا اور اسی لئے خوش بھی ہے۔ اگر ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی اختلاف ہوتا تو پھر بھی کوئی فرق تو نہ پڑتا، لیکن امت مسلمہ کے بارے میں ذہن جو تاثر قبول کرنا چاہتا ہے، اسے ضرور ٹھیس لگتی، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا اور حضرت مولانا شہاب پوپلزئی نے بھی شہادت نہ ملنے کی وجہ سے جمعرات ہی کے روزے کا اعلان کیا ہے۔ یوں آپ اب یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”پوپلزئی“ مان گئے۔

یہ دور جدید سائنس کا دور ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک خلاءمیں نئی دنیائیں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ چاند اور مریخ کو تسخیر کیا جا رہا ہے۔ چاند کے بعد مریخ پر مشن اُتر چکا اور اس کے لئے لمحہ لمحہ کی رفتار اور پوزیشن واضح ہوتی ہے۔ جب زمین کے کسی خلائی مستقر سے مریخ کی طرف مشن جاتا ہے تو فاصلے، سمت اور رفتار کا حساب بھی ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ اب اگر اس مشن میں سیکنڈ کے دس ہزار ویں حصے کا بھی فرق آجائے تو خلائی جہاز اپنی منزل پر نہیں پہنچ پائے گا اور کہیں خلاءہی میں گم ہو جائے گا۔ خلاءکا یہی جدید علم ہے جو اب مشینوں میں منتقل کر کے اسے کمپیوٹرائزڈ کر لیا گیا۔ اب تو ہمارے خلائی سائنس دان سورج، زمین اور چاند کی گردش کا مکمل ادراک رکھتے اور ان کی اس گردش کے نامعلوم وقت تک کو بھی گن لیتے ہیں اور چاند کو دیکھے بغیر یہ بتایا جاسکتا ہے کہ کس وقت اور کس لمحے زمین کا کون سا حصہ سورج کے سامنے آئے گا اور کس لمحے چاند زمین کے کسی بھی حصے کے سامنے ہوگا۔ سائنس دان حضرات زمین کی سورج کے گرد اور چاند کی زمین کے گرد گردش کا ذرات جیسا حساب بھی رکھتے ہیں۔ یہی سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین سورج کے اور چاند زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اب کہا یہ جاتا ہے کہ سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب اور چاند مغرب سے مشرق کی طرف سفر کرتا ہے۔ یوں زمین کا مشرقی حصہ سورج کے سامنے پہلے اور مغربی بعد میں آتا ہے۔ اسی طرح چاند مغربی حصے کے سامنے پہلے اور مشرقی کے بعد میں آتا ہے۔

اس حساب سے پاکستان کو محل وقوع بنا کر جائزہ لیا جائے تو سیدھی بات ہے کہ پاکستان میں دن پہلے اور مغربی حصوں میں (مشرق وسطیٰ+ یورپ+ امریکہ وغیرہ) بعد میں چڑھے گا۔ پاکستان اور مشرق وسطیٰ کا اوقات میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے اور یورپ، امریکہ کے ساتھ نو سے دس گھنٹے تک کا بھی فرق ہے۔ یوں پاکستان میں تاریخ پہلے آئے اور بدلے گی۔ اس کے الٹ چاند پہلے مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں طلوع ہوگا اور بعد میں پاکستان آئے گا، چنانچہ سعودی عرب اور پاکستان کے وقت میں جو دو گھنٹے کا فرق ہے تو چاند وہاں دو گھنٹے پہلے طلوع ہوگا اور پاکستان میں اتنی تاخیر ہوگی۔ چونکہ یکم کے چاند کی عمر تھوڑی ہوتی ہے، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سعودی عرب میں چاند نظر آئے تو اسی روز پاکستان میں بھی دکھائی دے۔ یوں یہ دو گھنٹے کا فرق ایک دن کا ہو جاتا ہے، اس لئے سعودی عرب یا اس سے ملحق ممالک میں یکم رمضان پاکستان کی نسبت ایک دن پہلے ہونا قدرتی اور فطرتی عمل ہے کہ اللہ کی قدرت ہی یہی ہے، اس لئے سعودی عرب کے ساتھ روزے رکھنا اور عید منانا جذباتی طور پر تو تسکین کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن عملی طور پر رویت کے فلسفے کے خلاف ہے۔ رویت سے مراد کھلی آنکھ سے چاند دیکھنا ہے، اس لئے یہ فرق بھی ملحوظ رکھنا ہوگا۔ چونکہ پوری دنیا میں طلوع و غروب آفتاب و ماہتاب کسی بھی صورت بیک وقت ممکن نہیں، اسی لئے پیغمبر آخر الزمان نے رویت کی ہدایت کی ہوئی ہے۔ ہم یہاں فلسفے کو سمجھے بغیر آج کی سائنس کے علم سے بھی انکار کر دیتے ہیں جو مناسب نہیں۔

بات ہو رہی تھی کہ چاند کے مسئلہ پر جامع مسجد قاسم خان پشاور کے اتفاق کی وجہ سے مسلمانان پاکستان کو اس قدر خوشی ہوئی کہ بات ہی اس پر ہو رہی ہے۔ اس امر سے اندازہ لگا لیجئے کہ ایک عام مسلمان کے جذبات کیا ہیں اور وہ کیسا ماحول چاہتا ہے۔ یہ جو مصر، شام اور دوسرے اسلامی ممالک میں بے چینی اور پاکستان میں مسلسل دہشت گردی ہے، اس سے بھی تو یہی پریشانی ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں۔ ان سے تو یہود بھی شرما رہے ہیں، بلکہ دشمنان دین تو خوش ہیں کہ خود مسلمان اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے کاٹ رہے ہیں۔ اس میں اقتدار کی کشمکش ہے تو ایک دوسرے کے عقیدے کو بھی بُرا جان کر جنگ کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تمام مکاتب فکر فتوے بھی دے چکے کہ بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، لیکن شدت پسندوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

مقام شکر ہے کہ خیبر پختون خوا کی نئی حکومت کی درخواست کے بعد جامع مسجد قاسم خان کے محترم پوپلزئی نے شرعی حجت پوری کی اور ضد نہیں کی۔ ورنہ پہلے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ رات گیارہ بجے تک شہادتوں کا انتظار کریں گے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ گیارہ بجے تک ضرور منتظر رہیں گے اور شہادت مل گئی تو اعلان بھی کر دیں گے۔ اس سے یہی تاثر ابھرا تھا کہ مولانا اس سال بھی اختلاف کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ جانے کے لئے تاخیر سے شہادت بھی آجائے گی اور اعلان بھی ہو جائے گا۔ مقام شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اب یہ بھی یقین اور دعا بھی کرنا چاہئے کہ عیدالفطر بھی انشاءاللہ ایک ہی روز ہوگی اور محترم پوپلزئی سائنس کی افادیت کو تسلیم کر کے شرعی دائرہ کار میں مستفید ہوں گے اور آئندہ اختلاف نہیں ہوگا۔

عید کے چاند کے سلسلے میں ہم اپنے قارئین کو دور ایوبی میں اپنے سفر کا حال سنا چکے ہیں کہ چاند کا رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے سرکاری اعلان ہونے کے باوجود مفتی اعظم مولانا ابو البرکاتؒ نے رویت کا اعلان کرنے سے انکار کیا اور ہمیں محترم امین الحسنات سید خلیل احمد قادریؒ کے ساتھ دو معززین کو ساتھ لے کر اوکاڑہ کا سفر کرنا پڑا اور وہاں چاند دیکھنے والے (مسلمان شہریوں سے شہادت لی اور اور واپس آکر سید صاحب کی خدمت میں ہم چاروں نے شہادت دی تو انہوں نے عید کے چاند کا اعلان کیا اور ان کے پاس موجود حضرات اور خود انہوں نے روزہ چھوڑا اور سب نے پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ حالانکہ اسی چاند اور اوکاڑہ کے باسیوں کی شہادتوں کی بناءپر مولانا غلام علی اوکاڑویؒ نے علامہ سید محمود احمد رضوی(سید صاحب کے بڑے صاحبزادے) کو فون پر اطلاع دی اور ان کو پہچان کر بات ہوئی تھی، لیکن سید صاحب نے اسے شہادت تسلیم نہیں کیا تھا۔

اسی سلسلے میں ہم ایک لطیفہ نما گستاخی کرتے ہیں۔ ہمارے صاحبزادے عاصم چودھری کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا والے بھی غلط نہیں کہ جو حضرات چاند دیکھنے کی شہادت دیتے ہیں، وہ دراصل چاند دیکھ کر ہی آنے دیتے ہیں، لیکن یہ آسمان والا چندا ماموں نہیں ہوتا، گواہی دینے والے کا صاحبزادہ ہوتا ہے جس کا نام چاند ہوتا ہے۔ وہ اس کو دیکھ آتے اور شہادت دیتے ہیں، گستاخی معاف! اس دعا کے ساتھ بات ختم کرتے ہیں کہ اللہ مسلمانوں میں اتفاق عطا فرمائے۔ ٭

مزید :

کالم -