شہباز شریف کا دورہ¿ قطر، برف پگھلنا شروع ہو گئی!

شہباز شریف کا دورہ¿ قطر، برف پگھلنا شروع ہو گئی!
شہباز شریف کا دورہ¿ قطر، برف پگھلنا شروع ہو گئی!

  

بھارت ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت دنیا بھر میں اپنی افرادی قوت کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے امریکہ میں سرمایہ کاری کے بدلے ہزاروں بھارتیوں کے لئے ورک ویزا حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اِسی طرح خلیجی ریاستوں میں بھی بھارت بڑی تیزی سے اپنی عددی قوت بڑھا رہا ہے، حتی کہ وہ اسلامی ممالک بھی جو ہمیشہ پاکستانیوں کو ترجیح دیتے تھے، اب بھارت وہاں بڑی حد تک قابض ہو چکا ہے۔ بد قسمتی سے ہم نے ملک میں سیاح لانے کی کبھی کوئی منصوبہ بندی کی ہے اور نہ پاکستانیوں کو بیرون ملک روز گار دلانے کا کوئی سنجیدہ نظام وضع کیا ہے۔ ہمارے ہاں اوور سیز پاکستانیوں کی ایک وزارت ضرور موجود ہے، مگر بس برائے نام وزارت ہے، جس نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے، نہ ہی پاکستانیو ںکو بیرون ملک باعزت روز گار دلانے کے لئے کوئی منصوبہ بندی کی ہے، جبکہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے ، جہاں افرادی قوت کی فراوانی ہے اور دوسری طرف بے روز گاری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، بیرون ملک روز گار کے مواقع تلاش کرنا اشد ضروری ہے۔ بیرون ملک روز گار کے لئے مناسب رہنمائی اور طریقہ کار نہ ہونے کے باعث ہر سال سینکڑوں پاکستانی غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے کی کوشش میں گرفتار ہوتے ہیں یا موت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کو اس پہلو پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے تاکہ ایک طرف ملک میں بے روزگاری کو کم کیا جا سکے تو دوسری طرف ملک میں زر مبادلہ بھی آئے۔

یہ تمہید مجھے اس خبر کو پڑھ کے باندھنی پڑی، جس میں بتایا گیا تھا کہ قطر نے پاکستانیوں کے لئے دسمبر میں مزید ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی دوحہ میں نوجوان امیر قطر شیخ تمیم بن حماد بن خلیفہ التھانی سے ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ یہ ایک بڑا بریک تھرو ہے، کیونکہ قطر اس وقت خلیج کی سب سے مضبوط اور تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی معیشت کا مرکز ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں اور ترقی کی تیز رفتار مثالیں دینے کے لئے قطر کا ذکر کیا جاتاہے۔ قطر میں آج اور آنے والے کل میں ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں افراد کی ضرورت پڑے گی، کیونکہ وہاں نئے شہر آباد کئے جا رہے ہیں، جس طرح ایک زمانے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ترقی و پھیلاﺅ کا مرکز تھے، اسی طرح آج قطر اس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مَیں گزشتہ ستمبر میں دوحہ گیا تھا اور یہ دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی تھی کہ ایک چھوٹا سا ملک کس طرح اپنی اہمیت کو منوا رہا ہے۔ وہیں مجھے اس وقت پاکستانی سفارت خانے کے قونصلر محمد افضل شیخ اور دوحہ کی معروف شخصیت محمد امین موتی والا نے بتایا تھا کہ قطری حکومت کی طرف سے پاکستانیو ںکو ورک ویزا جاری کرنے پر پابندی ہے ۔یہ سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی، کیونکہ امیر قطر کا تمام تر سیکیورٹی سٹاف پاکستانی ہے اور اہم مناصب پر بھی پاکستانی تعینات ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان قطر کا ایک برادر اسلامی ملک بھی ہے، اس کے باوجود پاکستانیوں پر ویزے کی پابندی سمجھ سے بالاتر تھی۔ جب مَیں نے اس بارے میں کھوج لگانے کی کوشش کی، تو مجھے جو وجہ معلوم ہوئی اسے جان کر میں سر پیٹ کے رہ گیا۔

قطر آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بہت چھوٹا ملک ہے، لیکن اپنے قدرتی وسائل اور خلیج میں اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ قطر کے حکمران خاندان کی سوچ ہمیشہ ترقی پسندانہ رہی ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ان کے کردار اور شناخت کو تسلیم کیا جائے۔ اِس حوالے سے التھانی خاندان کی سوچ کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے 2022ءکا فٹ بال ورلڈ کپ کھلی بولی میں حاصل کیا اور اس کے لئے تمام شرائط منظور کیں۔ اس ورلڈ کپ کی وجہ سے قطر دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان کرانے میں کامیاب رہے گا، کیونکہ اس سے پہلے مشرق وسطیٰ میں ایسا کوئی بڑا ایونٹ نہیں ہوا۔ اس ورلڈ کپ کی وجہ سے قطر میں تین نئے شہر آباد کئے جا رہے ہیں اور دنیا بھر کے بڑے ہوٹلز دوحہ میں قائم کئے جانے کی اطلاعات ہیں ۔قطر کی حکومت دنیا کی بڑی کانفرنسوں کے لئے خود کو بطور میزبان پیش کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی کانفرنسیں بھی قطر میں ہوتی ہیں۔ یہ قطری حکومت کی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ طالبان مذاکرات کے لئے بھی دوحہ کو منتخب کیا گیا۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ پاکستان سے قطر کے حکمران کیوں ناراض ہوئے؟ مجھے قطر میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع نے بتایا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف جب ملک کے حکمران تھے تو افغان جنگ کی وجہ سے ان کی بڑی اہمیت تھی، عراق کویت جنگ کے باعث بھی پاکستان ایک بہت اہم ملک بن گیا تھا، انہی دنوں قطر کی حکومت نے سفارتی ذرائع سے یہ پیغام دیا کہ پرویز مشرف قطر کا دورہ کریں۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشر ف نے یہ کہہ کر دورہ کرنے سے انکار کیا کہ ایک چھوٹے سے ملک میں وہ کس لئے دورے پر جائیں۔ ان دنوں سعودی عرب اور قطر کے درمیان بھی خطے کی صورت حال کے حوالے سے اختلافات موجود تھے، اس لئے بھی غالباً پرویز مشرف نے قطر کو اہمیت نہیں دی ہو گی۔ اس بات کو قطر کے حکمران خاندان نے اپنی توہین سمجھا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے، جب پرویز مشرف کے بعد جمہوری حکومت قائم ہوئی تو سفارت خانے کی کوششوں سے پہلے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دورہ کیا اور بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری بھی قطر گئے۔ یوں سرد مہری کی برف پگھلی اور معاملات میں بہتری آنے کے آثار پیدا ہوئے۔

قطر میں پاکستانی بہت اہم اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں ۔مشرق وسطیٰ میں کئی برسوں سے مقیم ایک سینئر پاکستانی صحافی اشرف صدیقی نے اس حوالے سے ایک کتاب بھی لکھی ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کی دوستی پر روشنی ڈالتی ہے۔ موجودہ حکومت کا یہ احسن اقدام ہے کہ اس نے ایف ایل جی گیس قطر سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف اِسی سلسلے میں ایک روزہ دورے پر قطر گئے تھے، جہاں انہوں نے حال ہی امیر قطر کا عہدہ سنبھالنے والے جواں سال حکمران شیخ تمیم بن حماد بن خلیفہ التھانی کو مبارکباد دی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا ۔اِسی دوران پاکستانیوں کے لئے ویزے کے اجراءکا معاملہ بھی زیر غور آیا اور امیر قطر نے دسمبر میں پاکستانیوں کے لئے ویزوں کا اجراءکرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

 مَیں سمجھتا ہوں یہ ایک بڑا بریک تھرو ہے، کیونکہ آنے والے چند سال میں قطر کو 10 لاکھ سے زائد افراد کی ضرورت ہے، اگر اس میں سے پاکستان دو لاکھ افراد کا کوٹہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہتا ہے، تو یہ پاکستانی معیشت اور عوام کے لئے بہت اہم پیش رفت ہو گی، جس کے دُوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگلے چند ماہ میں اگر وزیراعظم محمد نواز شریف خود قطر کے دورے پر جائیں تو اس سے قطر کے حکمران خاندان کو خوشی بھی ہو گی اور پاکستان کے لئے مراعات بھی حاصل ہو سکیں گی۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور اوور سیز پاکستانیوں کی وزارت کو مشترکہ طور پر قطر کی وزارت خارجہ اور وزارت محنت سے رابطوں کا آغاز کرنا چاہئے۔ قطر میں اس وقت 8لاکھ سے زائد بھارتی ہیں، جبکہ پاکستانیوں کی تعداد صرف 80 ہزار ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو لاکھوں پاکستانیوں کے لئے دو گھنٹے کی مسافت پر روز گار کے لاکھوں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔    ٭

مزید :

کالم -