قتیل شفائی.... ایک خوشگوار شاعر

قتیل شفائی.... ایک خوشگوار شاعر
قتیل شفائی.... ایک خوشگوار شاعر

  

بہت کم لوگ اس حقیقت سے آشنا ہوں گے کہ مُنفرد لب و لہجے کے ممتاز شاعر قتیل شفائی شروع شروع میں ایک افسانہ نگار کے طور پر شہرِ ادب و فن میں وارد ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے اصل نام محمد اورنگ زیب کے نام سے کئی افسانے لکھے۔ پھر جب حصول معاش کے سلسلے میں وہ ہری پور سے راولپنڈی منتقل ہوئے تو ان کا قیام راولپنڈی کے مشہور اور قدیم مرکزی امام باڑے کے قُرب میں رہا۔

بقولِ خود قتیل شفائی جب وہاں محرم الحرام کے دنوں میں مجالسِ عزا منعقد ہوتیں تو وہ بڑی توجہ سے ذاکرین و علمائے کرام کی خطابت کو سنا کرتے تھے۔ اکثر اوقات کسی واعظ کی دل نشین آواز اُن کے کانوں تک پہنچتی تو وہ اس پر کان ضرور دھرتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر کسی واعظِ خوش بیاں نے حضرت امام حسینؓ کے لئے ”قتیلِ تیغ جُفا“ کی ترکیب استعمال کی جو محمد اورنگ زیب کو بہت پسند آئی اور انہوں نے اپنا تخلص قتیل اختیار کر لیا۔

امام باڑے کے نزدیک ہی حکیم محمد یحییٰ خان شفا خانپوری کا مطب تھا۔ وہ ایک مستند حکیم حاذق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ فن شاعر بھی تھے۔ محمد اورنگ زیب نے ، جو قتیل تخلص اختیار کر چکے تھے۔ حکیم یحییٰ خاں شفا سے رجوع کیا اور انہوں نے اورنگ زیب قتیل کو اپنی شاگردی میں لے کر اپنے تخلص شفا کی نسبت سے شفائی کا لاحقہ لگا دیا۔ یوں وہ قتیل شفائی بن گئے۔

شفا خانپوری خِطہءپوٹھوار کے ایک موضع خانپور سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بالغ نظر سیرت نگار، ماہر طبیب اور فن عروض پر دسترس رکھنے والے شاعر تھے شہرت و مقبولیت میں شاگرد قتیل شفائی اپنے استاد حکیم شفا خانپوری سے کہیں آگے بڑھ گئے، حتیٰ کہ استاد کا نام بھی اب قتیل شفائی کے تذکرے ہی کے طفیل کہیں سامنے آتا ہے۔

قتیل شفائی نے ادبی قلمکار کی حیثیت سے ابتداءایک نثر نگار اور افسانہ نویس کے طور پر کی تھی۔ اس لئے نثر میں بھی ان کا سیدھا سادا اسلوب منفرد ہے۔ اُن کی آپ بیتی یا سرگزشت ”گھنگھرو ٹوٹ گئے“ میں یہ اسلوب بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔

قتیل شفائی ٹرانسپورٹ کمپنی کی ایک معمولی سی ملازمت سے لے کر فلم انڈسٹری تک بڑی محنت ِشاقہ سے پہنچے۔ روایتی فلمی ماحول میں بھی انہوں نے روایتی انداز کے گیت نہیں لکھے۔ تنویر نقوی، ساحر لدھیانوی، جوش ملیح آبادی اور سیف الدین سیف کی طرح وہ منفرد طرز کے نغمہ نگار رہے۔ اُن کے فلمی نغموں میں ”غنائیت بدرجہءاتم موجود ہے۔

فلم نگری میں قتیل شفائی کی آمد قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948ءمیں ہوئی اور پھر تو مرتے دَم تک وہ اس نگری کے بے تاج بادشاہ رہے۔ ان کی پہلی فلم ”تیری یاد“ تھی۔ اس فلم کے گیتوں سے ہی انہوں نے اپنی الگ پہچان کرائی اور پھر اُن کی یہ پہچان ،یہ شناخت، فلم انڈسٹری پر اس قدر حاوی رہی کہ وہ اپنی پسند کا میوزک ڈائریکٹر اور اپنی پسند کی گلوکارہ کے لئے بضد ہوتے تھے۔ چنانچہ ماسٹر عنایت حسین اور اقبال بانو کو ایک مدت تک قتیل شفائی کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت حاصل رہی۔ اقبال بانو کی آواز کو قتیل شفائی کے بعض لازوال نغموں نے امر کر دیا۔ اسی طرح اُن کی نظموں کے ایک مجموعے ”مُطربہ“ نے بھی اقبال بانو کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس مجموعے پر قتیل شفائی کو پاکستان رائٹرز گِلڈ کے تحت سب سے بڑا ادبی انعام ”آدم جی ایوارڈ“ بھی ملا۔

 قتیل شفائی ایک زمانے میں ادبی لیجنڈ ماہنامے ”ادبِ لطیف“ کے مُدیروں میں بھی رہے۔ ان کے ساتھ فکر تونسوی اور عارف عبدالمتین بھی تھے۔

قتیل شفائی نے پاکستان رائٹرز گِلڈ کے کئی مرکزی و صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ایک بار وہ رائٹرز گِلڈ صوبہ پنجاب کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے اور کئی سال تک اس عہدے پر متمکن رہے۔

قتیل شفائی ڈٹ کے ناشتہ کرتے تھے۔ ناشتے میں دہی کا استعمال لازمی جُزو تھا۔ مجھے اپنے گھر اسلام آباد میں کئی بار اُن کو مہمان کے طور پر ٹھہرانے اور میزبانی کرنے کا شرف حاصل ہُوا۔ کبھی بھول چُوک سے بھی ناشتے میں دہی نہ ہوتا تو وہ بلا تکلف اپنی برہمی کا اظہار کر دیتے۔ خوش لباسی اور جامہ زیبی بھی اُن پر ختم تھی، عموماً بوسکی کا کُرتا، علی گڑھ کٹ پاجامہ اور کولہا پوری چپل پسندیدہ لباس رہا۔ اوپر واسکٹ بھی پہنتے تھے۔

بحیثیت سیکرٹری پاکستان رائٹرز گِلڈ انہوں نے شاعروں، ادیبوں کے حقوق کے تحفظ کی ہمیشہ جدوجہد کی۔ ریڈیو، ٹی وی سے رائلٹی کا معاملہ ہو یا معاوضوں میں اضافے کا، قتیل شفائی حق دلانے میں پیش پیش رہے۔ اُن کی سیکرٹری شپ کے زمانے میں کیونکہ یہ خاکسار ناصر زیدی بھی ایگزیکٹو باڈی کا ممبر تھا۔ اس لئے تقریباً روزانہ ہی دفتر رائٹرز گِلڈ میں ان کی قربت برسوں میسر رہی اور انہیں قریب سے دیکھنے، سننے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ریڈیو، ٹی وی سے گانوں کے نشریے کے ساتھ موسیقار اور گلوکار کے ساتھ ساتھ شاعر کا نام دینا بھی لازمی قرار دلوایا....!

قتیل شفائی نے حکیم یحییٰ خاں شفا کی شاگردی کے باوصف ڈاک کے ذریعے اُستادِ نظام دکن اور اپنے عہد کے بہت ہی برگزیدہ شاعر جلیل مانکپوری سے بھی غزل پر اصلاح چاہی ، وہی جلیل مانک پوری جن کا ایک مطلع ہی بڑے غضب کا ہے اور انہیں زندہ رکھنے کو کافی ہے کہ:

نگاہ برق نہیں، چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

آخر آخر میں قتیل شفائی کے استاد حضرت احمد ندیم قاسمی تھے!

قتیل شفائی کیونکہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے تھے، اس لئے سکول، کالج کی تعلیم سے زیادہ انہوں نے اپنے عہد کی بعض نامور شخصیتوں سے اکتسابِ فیض کیا۔ اُنہیں کوئی لفظ پوچھ لینے میں کبھی عار محسوس نہ ہُوا اور اگر کبھی ہم ایسے خوردوں سے بھی انہیں رہنمائی ملتی تو وہ حاصل کر لیتے اور اس کا اعتراف بھی کرتے۔

قتیل شفائی صاف گو تھے اور بعض کے نزدیک اکھڑ اور منہ پھٹ تھے۔ اس لئے منافقت اور منافقوں سے دور بھاگتے تھے اور دل سے سمجھتے تھے کہ ظلم کے خلاف بغاوت ضرور کرنی چاہئے۔ غلط کو غلط کہنا ہی چاہئے:

دنیا میں قتیل اُس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

24 دسمبر1919ءکو ہری پور ہزارہ کے ایک گاو¿ں میں جنم لینے والے اورنگ زیب نے قتیل شفائی کے ادبی قلمی نام سے اپنے آپ کو منوائے رکھا اور 11 جولائی 2001ءکو ادب کا یہ آفتاب کہیں دُور اُفق میں ڈوب گیا....!

قتیل شفائی نے 13 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا اور شعر گوئی کی محض دس برس کی مدت کے بعد یعنی1942ءمیں اپنا پہلا مجموعہ ”ہریالی“ کے نام سے چھپوانے میں کامیاب ہوگئے!

ہریالی کے بعد تو لگ بھگ ڈیڑھ درجن مجموعے چھپے اور کلیات بھی شائع ہُوا۔ اُن کے مجموعوں کے نام زیادہ تر یک لفظی ہیں۔ جیسے ہریالی، روزن، پھوار، دھنک، جھومر، گفتگو مُطربہ وغیرہ۔

قتیل شفائی نے بعض اخبارات کے لئے روزانہ قطعہ نگاری بھی کی۔ ان قطعات کا مجموعہ واحد مجموعہ ہے، جس کا نام یک لفظی نہیں، بلکہ تین لفظوں پر مشتمل ہے، یعنی: ”سمندر میں سیڑھی“!

قتیل شفائی ایک تخلیقی نغمہ نگار، گیت نگار اور خوشگوار غزل گو تھے۔ اُن کی ابتدائی غزلوں میں سے ایک مقطع آج کے دور کی بھی غمازی کرتا ہے:

قتیل اُس بزمِ جاناں سے پڑا ہے واسطہ مجھ کو

سزا کا خوف رہتا ہے جہاں الزام سے پہلے

مزید :

کالم -