پاکستان چین کا دل ہے

پاکستان چین کا دل ہے

  

وزیر اعظم نواز شریف چین میں ونڈو شاپنگ کرچکے ، چین والوں نے بھی انہیں اس طرح سے چیزیں دکھائی ہیں جیسے مفت میں تلوادیں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف پاکستان کو چین کی راہ پر ڈالتے ہیں یا چین کو پاکستان دیتے ہیں، کچھ بھی ہو لوگ خوش ہیں کہ پاکستان چین کے قریب ہو رہا ہے کیونکہ سعودی عرب کے پاس تیل ہے تو چین کے پاس ترقی اور دیکھا جائے تو اس وقت ہمیں دونوں کی ضرورت ہے ، تیل کی بھی اور ترقی کی بھی !

وزیر اعظم کے دورئہ چین کے دوران ایک مرحلے پر تو ایسا محسوس ہوا کہ وزیر اعظم نواز شریف چین کی ترقی دیکھنا کم اور ہم پاکستانیوںکو دکھانا زیادہ چاہتے ہیں، کہیں لگا ہی نہیں کہ ایک ملک کا وزیر اعظم دوسرے ملک کا دورہ کر رہا ہے بلکہ ایسا لگا کہ کوئی بزنس مین مشینری کی خریداری کے لئے نکلا ہوا ہے !

ایک بات ہے کہ ن لیگ نے جس کام کامینڈیٹ لیا تھا اس کی حکومت پوری تندہی سے اس کام پر جتی ہوئی نظر آرہی ہے ، ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے جس طرح سے چین کو فوکس کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ خطے میں پاکستان چین کا دل ہے اور وہ چین کی ترقی کے ماڈل کو من و عن اٹھا کر پاکستان میں نقل کرلینا چاہتی ہے ، دوسری جانب خواجہ آصف بجلی کے بحران کے خاتمے کے لئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں تو خواجہ سعد رفیق ریلوے کوٹھونک بجا کر بحالی کی طرف دھکیلتے نظر آرہے ہیں، اور جناب اسحٰق ڈار کے تو کیا کہنے کہ جنہوں نے آتے ہی آئی ایم ایف کو شیشے میں اتارلیا ہے اور پاکستان کے لئے ساڑھے پانچ ارب ڈالر کھرے کر لئے ہیں ، اور ان سب سے بڑھ کر چوہدری نثار علی دن رات ایک کرکے لاءانفورسمنٹ ایجنسیوں میں صلح صفائی کرتے دکھائی دے رہے ہیں ، اس تمہید کا مقصد اس بات کو عیاں کرنا ہے کہ ایسا نہیں کہ حکومت خالی ڈھول پیٹ رہی ہے بلکہ اگر ایک ہاتھ سے ڈھول پیٹ رہی ہے تو دوسرے ہاتھ سے کام بھی کرتی دکھائی دیتی ہے ، یہ حکومت پچھلی حکومت کی طرح نہیں جو سارے کام چھوڑ چھاڑ دونوں ہاتھوں سے تب تک ڈھول پیٹنے میں لگی رہی جب تک کہ عام انتخابات میں لوگوں نے ان کے ڈھول کا پول نہیں کھول دیا!

پاکستان میں چین کو امریکہ کے مقابل کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے ، پاکستانیوں کی جمع تفریق میں اگر چین میں سے بھارت کو نکال دیا جائے تو باقی پاکستان بچنا چاہئے اور اگر پاکستان میں امریکہ کو نکال دیا جائے تو باقی چین بچنا چاہئے، یعنی جنوبی ایشیا میں بھارت امریکہ کا اور پاکستان چین کا فطری اتحادی سمجھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے آپ کو پاکستان کا دوست کم اور آقا زیادہ سمجھتا ہے جب کہ چین پاکستان کو اپنا غلام کم اور دوست زیادہ مانتا ہے!

صدر زرداری چین گئے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، نواز شریف گئے تو چینی بچھ بچھ گئے اور ہمیں یقین ہے کہ کل کو اگر عمران خان بھی چین جائیں گے گا تو چینیوں کو دیدہ ودل فرش راہ کئے پائیں گے، چین ہمارے قریب ہے اس کے باوجود کہ دور ہے ، ہمیں چین کا سرور ہے کیونکہ امریکہ ہو نہ ہو چین ہمارا ضرور ہے!

چین سے دوستی کو کوہ ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی مانا جاتا ہے ، حالانکہ ہماری دوستی نہ کوہ ہمالیہ کی چٹانوں کی طرح سنگلاخ، نہ سمندر کی لہروں کی طرح بے رحم اور نہ شہد کی زیادتی کی طرح زہر آلودہ ہے، یہ بات بھی طے ہے کہ چین کا مقصد بزنس ہو سکتا ہے لیکن ہمارا مقصد سوائے دوستی کے کچھ نہیں ہے اور دوستی کاروبار نہیں ہوتی ہے ، کاروبار میں دوستی ضرور ہو سکتی ہے، ہمارے اور چین کے باہمی تعلق میں پیار اور بیوپار ترازو کے دو پلڑوں برابر تلے ہوئے ہیں!

ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے لے کر آج تک چین نے پاکستان کی ہر سول اور فوجی حکومت کو تسلیم کیا ہے اور دست تعاون دراز کئے رکھا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ پاکستان جب بھی چین کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو معاملہ جتنی جلدی سے اوپر جاتا ہے اسی تیزی سے نیچے آجاتا ہے ، سابق صدر پرویز مشرف کے زمانے میں گوادر پورٹ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت ہمارے سامنے ہے ، اب بھی جناب نواز شریف نے پاکستان کا ہاتھ دراز کرکے چین کے ہاتھ میں دے دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اب کیا ہوتا ہے کیونکہ ہماری دوستی جتنی گہری ہے ہمارے دشمنوں کی چال بھی اتنی ہی گہری ہے !

مزید :

کالم -