” بہت کام رفو کا نکلا “

” بہت کام رفو کا نکلا “

  

ویسے تو یہ عنوان ہمارے بہت ہی پروفیشنل اور اتنے ہی سینئر صحافی نوید چودھری کے کالموں کے مجموعے کا ہے جس کی تقریب رونمائی ایوان اقبال میں ہو رہی تھی اور مجھے تو یوں لگا کہ جیسے یہی عنوان موجودہ حکومت کی طرف سے عوامی مسائل کے حل کی کوششوں کوبھی دیا جا سکتا ہے۔ تقریب کی صدارت وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کر رہے تھے جنہوںنے مجھے ایک دن میں دو مرتبہ حیران کیا، پہلی مرتبہ تو اس وقت جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لاہور میں ہیں تو کیا آج شام ہمارے لئے کچھ وقت نکال سکتے ہیں تو انہوں نے وزیروں والے نخرے دکھائے ہی نہیں حالانکہ یہاں وفاقی وزراءتو ایک طرف رہے، صوبائی وزراءاور ارکان اسمبلی کی ڈائریاں چیک ہوتی ہیں اور اس کے بعد پرانے تعلقات کا احسان جتاتے ہوئے تقریب میں شرکت کا وعدہ ہوتا ہے اور بعض اوقات پھربھی ۔۔۔ ایفا نہیں ہوتا جس طرح کہ صوبائی وزیرتعلیم رانا مشہود احمد خان نے اپنا وعدہ پورانہیں کیا۔ وہ میرے پیاروں اورمہربانوں کے ایسے گروپ میں ہیں جن سے میں باتیں او ر دعوے بہت کروا سکتا ہوں مگر عمل بھی ہو گا، اس کا یقین اپنے آپ کو بھی نہیں دلا سکتا۔

ہم کارکن صحافی جانتے ہیں کہ پرویز رشید اس وقت وفاقی اور صوبائی ہی نہیں بلکہ حکومتی اور جماعتی ہر سطح پر، وزیراعطم اور وزیراعلیٰ کے بعد، اہم ترین شخصیت ہیں۔ ایک حیرانی تو یہ بھی ہے کہ ابھی تک ان کا نہ صرف فون نمبر پرانا ہے بلکہ وہ اسے خود ہی اٹینڈ کرتے اورخود ہی اپنے مخصوص انداز میںپیغامات کا جواب بھی دیتے ہیں۔ دوسری اصل حیرانی اس وقت ہوئی جب وہ اپنی چار ، پانچ سال پرانی ذاتی کار کو خود ہی ڈرائیو کرتے ہوئے ایوان اقبال کی جنرل کار پارکنگ میں داخل ہو گئے حالانکہ ان کے لئے مین گیٹ سے داخلے اور پارکنگ کا اہتمام تھا، ان کے ساتھ پولیس کی ہوٹر بجاتی ہوئی گاڑیاں اور ہٹو بچو کا شور ڈالتے ہوئے اہلکار بھی نہیں تھے ۔ شہر میں ڈرائیو کے دوران میں نے انہیں اس وقت بھی سیفٹی بیلٹ باندھے ہوئے دیکھا تھا جب وہ وائے ڈی اے کے ہڑتالی رہنماو¿ں کے ساتھ بات چیت کے لئے میرے دفتر آئے تھے۔ میری دیانتدارانہ رائے یہی ہے کہ اگر ہمارے حکمران پروٹوکول کے چکر سے نکل آئیںتو واقعی وی آئی پی کلچر ختم ہو سکتا ہے۔ اس پر جناب عطاءالحق قاسمی صاحب کی گواہی بھی آ چکی ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی وزراءکے لئے پرتعیش رہائش گاہ قبول کرنے سے انکا رکر دیا۔میں نے نوید چودھری صاحب سے تعلق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کوبھی میزبان کے درجے پر فائز کر لیا، وہاں تقریب میںپنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبی شجاع الرحمان کی شرکت بھی میرے لئے حیران کن رہی کیونکہ ایک پروگرام کے دوران پیدا ہونے والی تلخی ۔۔ میں اور وہ دونوں ہی پوری طرح نہیں بھول پائے مگر انہوں نے اعلیٰ ظرف ہونے کا مظاہرہ کیا۔

کتاب کی تقریب رونمائی نے’ کبوتر بہ کبوتر، باز بہ باز“ کے بہت پرانے محاورے کو ایک مرتبہ پھر سچ ثابت کر دیا اور اسے بھی کہ انسان اپنی صحبت سے ہی پہچانا جاتا ہے، تقریب میں جناب مجیب الرحمان شامی نے اپنے علمی، ادبی اور صحافتی مقام کی وجہ سے بھاری بھرکم درجنوں شخصیات کے نام لئے، میں تو انہیں یہاں دہرا نے کی بھی اہلیت نہیں رکھتا۔ نوید چودھری اگر پروفیشنل صحافی ہیں تو ان کے دوست بھی پروفیشنل صحافی ہی ہوں گے اور اگر وہ خود دیانتدار ہیں تو لازمی طور پر ان کی صحبت بھی دیانتدار لوگوں کے ساتھ ہی ہو گی۔ وہ اگر خود سچ بولتے ہیں تو پھر ان کے ارد گرد ایسے لوگ ہی ہوں گے جو سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا جانتے ہوں۔ جناب مجیب الرحمان شامی نے تو سچ بولنے کی انتہا ہی کر دی، کالموں کے مجموعے کی تقریب میں کالم نگاروں کو ہی لتاڑ دیا ، بات تو سچ ہے کہ بعض اخبارات کے بہت ہی قیمتی صفحات کالموں کے قبرستان بنے ہوئے ہیں، نہ وہاں کوئی خبر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی امید۔ ایسے میں واقعی نوید چودھری کے کالم خبر دیتے بھی ہیں اور خبر لیتے بھی ہیں۔ شامی صاحب کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ کالم نگار کو گدگدی کرنی چاہئے، چٹکی بھی کاٹی جا سکتی ہے مگر بہرحال ” دندی “ کاٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ میرے بارے میں ان کی بھری محفل میں رائے میری زندگی کے ایک بہت بڑے اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے، اگر کہے ہوئے الفاظ میں یہ خوبی ہوتی کہ وہ فریم کروا کے ڈرائنگ روم میں لٹکائے جا سکتے تو میں ایسا ہی کرتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کبھی تجاوز بھی کرجاتا ہوں ، عرض کرنا تھا کہ ہاں کبھی درد بھی سوا ہو جاتا ہے اور کبھی جذباتی ہو کے ان سے متاثر بھی ہوجاتا ہوں جن کے پورے کالم ہی تجاوزات کی زد میں آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے صراط مستقیم پر رکھیں کہ بشر ہوں اور بشر میں دو تہائی ” شر“ اسے چین نہیں لینے دیتا۔

نویدچودھری صاحب کا کالم ” حروف“ کے نام سے شائع ہوتاہے مگرانہوں نے ان کے مجموعے کا نام” بہت کام رفو کانکلا“ رکھا، یہ مصحفی کے شعر کا دوسرا مصرعہ ہے، ” مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے ہو گا کوئی زخم، تیرے دل میں بہت کام رفو کا نکلا“، یہی بات میں نے محفل میں کہی کہ اس شعر کا اطلاق مسلم لیگ نون کی حکومت کو ملنے والی صورتحال پر بھی ہو سکتا ہے۔ادارے تباہ ہو چکے ہیں، سرکاری ملازمین میں کام کرنے کی خواہش اور جوش ہی نہیں رہا، کرپشن نے ہر ادارے کو دیمک لگا دی ہے ۔میں اس امر سے انکار نہیں کرتا کہ رفو کاکام ہو رہا ہے مگر میں نے حکومتی نمائندوں سے یہ شکوہ بہرحال کر دیا کہ مجھے تو حالیہ بجٹ دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ رفو کا کام کرتے ہوئے رفو گر سے لباس کچھ مزید پھٹ گیا ہے۔ بجٹ میں کئے گئے سخت اقدامات سے ملکی معیشت تو بعد میں سنبھلے گی، عام آدمی کی معاشی حالت پہلے دگرگوں ہو گئی ہے۔ میرا بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنا تھا کہ اب اگر لوگ مشرف کی حمایت کرتے یا پیپلزپارٹی کے دور کو یاد کرتے نظر آتے ہیں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ موجودہ حکمرانوںنے صرف اپنی جماعت مسلم لیگ نون ہی نہیں بلکہ جمہوریت کی ساکھ اور مستقبل کابھی تحفظ کرنا ہے۔ میری گذارش کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ بھی لے کر آگے چلے، انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی ترجیحات میں بھی جمہوریت کا تسلسل سب سے اوپر ہے لہذا تنقید کرنے والوں کو اپنا دشمن نہ سمجھا جائے۔

میں بنیادی طور پر رجائیت پسند اور امید پرست ہوں، اس لئے مجھے گالی دینے والے اور مایوسی پھیلانے والے اچھے نہیںلگتے۔ نوید چودھری کے امید دیتے ہوئے کالموں کی اس تقریب میں پرویز رشید نے بھی امید دی۔ وہ کالم محلاتی سازشوں اورنام نہادہوائی اطلاعات پر نہیں لکھتے، ایسی اطلاعات جن کا اصل مقصد صرف اور صرف اپنی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے چاہے اس کی قیمت جمہوری نظام کی صورت میں ہی ادا کیوں نہ ہو رہی ہو۔ نوید چودھری ڈراتے نہیں، صرف بتاتے ہیں ، سمجھاتے ہیںاور اس فرق کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو مختلف ” باخبر“ صحافیوں کے کالم برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو حکومت کو بنے تیس دن ہوئے ہیں اور ان تیس دنوں میں اگر اربوں روپے کے گردشی قرضے ادا ہوتے اور ہزاروں میگا واٹ بجلی کا انتظام ہوجاتا ہے تو پھر اگر باقی انتیس دن کچھ بھی نہ کیا جائے توبھی معاف کر دینا چاہیے۔ اگر ہم چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو دیکھیں تو حالات کی بہتری کی بہت بڑی امید نظر آتی ہے۔ یہاں ارشاد عارف صاحب نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ عوام کے لئے صرف تیس دن نہیں، بلکہ پانچ سال تیس دن ہیں۔ انہیں تیرہ سال تیس دن بھی کہا جا سکتا ہے لہذا عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔میں تو یہی کہتا ہوں کہ عوام اور حکومت کے درمیان یہ میچ تو جاری رہے گا اور اچھے صحافی اس میچ میں ریفری کا فرض انجام دیتے رہیں گے۔ میں نے تو نوید چودھری کے جتنے بھی کالم پڑھے ہیں ، انہیں حکومت اور عوام ہی نہیں ، سیاسی جماعتوں کے درمیان میچ کا بھی ایک دلچسپ ریفری پایا ہے، ایک ایسا ریفری جو جمہوریت کے کھیل کو جاری رکھنے کا حامی ہے ، ایسا ریفری نہیں جو کھیل روکنے کے لئے پاگل ہوئے جاتے ہیں۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ !

مزید :

کالم -