کیا آپ کو دنیا کے ان دو ممالک کے بارے میں معلوم ہے جہاں کوکا کولا کی فروخت پر پابندی ہے؟

کیا آپ کو دنیا کے ان دو ممالک کے بارے میں معلوم ہے جہاں کوکا کولا کی فروخت پر ...
کیا آپ کو دنیا کے ان دو ممالک کے بارے میں معلوم ہے جہاں کوکا کولا کی فروخت پر پابندی ہے؟

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ 60سال سے کوکا کولا مشروب تقریباً دنیا بھر میں فروخت ہو رہا ہے، برما میں اس پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن ایک بار پھر برمی حکومت نے پابندی اٹھا لی ہے۔ کوکا کولا اور اس جیسے دیگر مشروبات کے نقصانات کے متعلق ہم آپ کو بارہا آگاہ کر چکے ہیں۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ کون سے ممالک ہیں جہاں کوکاکولا فروخت نہیں ہوتی اور ان ممالک کے شہری اس کے بغیر بھی بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔

کوکاکولا کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ اس کی 18ارب بوتلیں، کین یا دیگر پیکنگز فروخت ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ 60سالوں میں برما میں ایک بھی بوتل نہیں جا سکی۔ اس کی وجہ امریکہ کی طرف سے برما پر لگائی گئی عالمی پابندیاں تھیں۔ برما میں 1962ء میں فوجی آمرنے حکومت کا تختہ الٹ کر آمریت قائم کی جو 2001ء تک برمی عوام پر مسلط رہی۔ آمریت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے بھی چند ماہ قبل برما پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ جس کے بعد کوکا کولا نے اپنی پہلی کھیپ بھی برما بھیج دی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ برما میں مقامی سطح پر مشروب کی پیداوار بھی جلد شروع کی جائے گی۔ دوسری طرح کوکا کولا کی حریف کمپنی پیپسی کولا نے بھی برما میں اپنی مارکیٹ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

برما میں کوکا کولا پہنچنے کے بعد اب دنیا میں صرف 2ملک باقی ہیں جہاں اس کی رسائی نہیں، یہ کیوبا اور شمالی کوریا ہیں۔ ان دونوں ممالک پر بھی امریکہ کی طرف سے طویل المدتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے کوکاکولا اپنا مشروب وہاں نہیں فروخت کر سکی۔ واضح رہے کہ کیوبا1962ء اور شمالی کوریا1950ء سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس