عالمی عدالت،اسرائیل،بھارت، برما کے حکمران گرفتار کرے

عالمی عدالت،اسرائیل،بھارت، برما کے حکمران گرفتار کرے
عالمی عدالت،اسرائیل،بھارت، برما کے حکمران گرفتار کرے

  

عالمی عدالت نے جنوبی افریقہ میں منعقدہ ایک اجلاس میں شرکت کے لئے آئے، سوڈان کے صدر عمرالبشیر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان پر کچھ سال پہلے دارفر میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس خبر پر دنیا بھر میں مختلف انصاف پسند طبقوں اور حلقوں کی جانب سے حیرت اور ناراضگی کا اظہار اور ردعمل ، بلاشبہ ایک فطری اور منصفانہ ردعمل ہے، تاہم عالمی اداروں کی حالیہ کارروائیوں سے آگاہ و باخبر رہنے والے غیر جانبدار حضرات اور خواتین کے لئے مندرجہ بالا اطلاع ہرگز حیران کن اور قابل ذکر نہیں ہے۔عالمی عدالت کے جج صاحبان سے گزارش ہے کہ اس بین الاقوامی عدالت کی کارکردگی، اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق سرانجام دینا ہی اس بڑے ادارے کا بنیادی فرض ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ اگر اس عدالت سے مسلمان افراد کے خلاف تعصب، تنگ نظری کی بنیاد پر احکام جاری کئے جائیں گے تواس ادارے کی افادیت، اہمیت اور ضرورت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یوں عالمی سطح پر امن، انسانی حقوق اور قانون و اصولوں کے ادب و احترام کے فروغ کی بجائے، ان کی خلاف ورزی کا وطیرہ بدقسمتی سے جاری رہ سکتا ہے۔

بین الاقوامی سیاسی حالات و واقعات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کرام جانتے ہیں کہ اکثر و بیشتر متنازعہ امور میں متعلقہ قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی زیادہ تر بڑی دفاعی اور معاشی طاقتوں کی جانب سے ہی کی جاتی ہے ۔۔۔ بدنیتی، بددیانتی اور سازشی کارکردگی کے منفی حربے اختیار کرکے موردالزام، مسلمان افراد کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔یہ انداز فکر و عمل گزشتہ تین دہائیوں سے متعدد واقعات میں دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الزام تراشی کا یہ سراسر غیر منصفانہ، ظالمانہ اور جابرانہ رویہ ترک کیا جائے کیونکہ مسلمانوں کو سنگین جرائم میں ملوث کرنے کی مروجہ روشن صریحاً ناانصافی ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام، تمام اداروں سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ معتبر شہادت کی مدد سے ہی اپنے احکامات اور حتمی فیصلے صادر کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اگر وہ ان ٹھوس اصولوں سے انحراف کی پالیسی پر عملدرآمد کی منفی کارروائیوں کے تسلسل پر قائم رہنے پر ہی فخر محسوس کریں گے تو عالمی امن کے قیام و استحکام کی توقعات، محض خواب اور سراب ہی رہیں گی۔ اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ وہ بتائے کہ اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر کے 65سالہ دیرینہ تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کے لئے بھارت پر دباؤ کیوں نہیں ڈالا گیا؟

اس عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل، کئی بار اس نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں کہ تنازعہ کشمیر، اس ادارے کے فورم پر اب بھی موجود ہے اور اقوام متحدہ اس پر ثالثی کرانے کو تیار ہے، لیکن بھارتی حکمرانوں کی مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے تاحال اس معاملے کو سنجیدگی سے متعلقہ قراردادوں کے مطابق سلجھانے کی کوششیں نہیں کی گئیں۔ اگر بھارتی حکمران ان قراردادوں کو نظر انداز کرنے کی روش پر بضد ہیں تو اقوام متحدہ اپنے قوانین کے مطابق بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کرانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس معاملے میں 65سال کی تاخیر ناقابل معافی جرم ہے۔ اسرائیل بھی اسی مدت سے اہل فلسطین کے بنیادی انسانی حقوق کو غضب کئے ہوئے ہے، نیز اسرائیلی حکمران آئے روز فلسطین میں لوگوں کو آزادی کے مطالبے پر قتل، زخمی اور گرفتار کرنے کے علاوہ ان کے لاتعداد گھر مسمار کرتے رہتے ہیں۔ میانمار کے حکمران گزشتہ چند سال سے مسلمانوں کی قتل و غارت کے ساتھ انہیں زبردستی اپنے گھروں سے دیگر ممالک میں دھکیل رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو عالمی عدالت گرفتار کیوں نہیں کرتی؟ *

مزید : کالم