آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  

سورۃ الفجر ۔۔۔ 89 ویں سورت

یہ مکی سورت ہے۔ 30 آیات اور ایک رکوع (یعنی پارہ کا چودہواں رکوع) ہے۔نزول کے اعتبار سے نمبر 10 ہے۔پہلی آیت کا لفظ ’’الفجر‘‘ نام قرارپایا۔اس دور میں نازل ہوئی جب مکہ میں ظلم کی چکی چل رہی تھی۔ موضوع آخرت کی جزا اور سزا ہے۔ اللہ نے قوم عاد کے ساتھ ان کی نافرمانی کی وجہ سے کیاکیا؟ وہ تو زیادہ قد، زیادہ قوت اور زیادہ عمر والے تھے۔اسی قوم میں سے شداد بھی تھا ،جس نے ایک عظیم شہر بنا دیا تھا۔قوم ثمود نے بھی پتھر کی چٹانیں کاٹ کاٹ کر مکان تعمیر کئے تھے۔وہ سب اور فرعون ،جس نے سرکشی کی، تباہ کئے گئے۔ان پر تمہارے رب نے بہت زور سے عذاب کا کوڑا مارا۔یہ نہیں سوچتے کہ وہ یتیم کو عزت نہیں دیتے، مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے اور نہ اس کے لئے رغبت دلاتے ہیں، میراث کا مال خود ہی کھا لیتے ہیں اور مال کی محبت بہت رکھتے ہیں۔

سورۃ البلد:90 ویں سورت

یہ مکی سورت ہے۔ 20 آیات، ایک رکوع جو پارے کا پندرہواں رکوع ہے۔ نزول کے اعتبار سے نمبر 35 ہے۔ نام پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ اس وقت نازل ہوئی جب کفار آپؐ کی دشمنی پر تل گئے تھے۔ موضوع ’’انسان اور دنیا کی حیثیت کی تفہیم‘‘ ہے۔

فرمایا: ’’اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے اس شہر کی قسم جس میں آپؐ ہیں اور آپؐ کے باپ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی قسم، بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں رہتا ہوا پیدا کیا۔ اسے دو آنکھیں دیں، زبان، ہونٹ اور دودھ پینے کی راہیں بھی بتائیں۔ پھر بھی اس نے شکر ادا نہ کیا کہ کسی غلام ہی کو آزاد کرا دیتا، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیتا، کسی رشتے دار یتیم یا خاک نشین مسکین کی مدد کر دیتا۔ پھر ایسے اعمال اسی وقت مقبول ہو سکتے ہیں، جب وہ انسان، ایمان لائے اور آپس میں صبر اور مہربانی کی وصیت کرے۔

سورۃ الشمس:91 ویں سورت

مکی سورت، 15 آیات، ایک رکوع، ترتیب نزول میں نمبر 26 ہے (پارہ کا سولہواں رکوع ہے) تب نازل ہوئی جب مکہ میں ظلم زوروں پر تھا۔ موضوع نیکی اور بدی کی تمیز اور برے انجام سے خوف‘‘ ہے۔

قوم ثمود نے صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان لوگوں میں ایک بدبخت زیادہ سرکش تھا۔ صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ان کی اونٹنی، جس کو اللہ نے ان کی نبوت کا ایک نشان قرار دیا تھا، برائی سے ہاتھ نہ لگائی جائے، ورنہ وہ قوم دردناک عذاب میں پکڑی جائے گی، اس قوم نے اس بات کو جھوٹ جانا اور اس رسول کی تکذیب کی اور اونٹنی کو ہلاک کر دیا، پھر اللہ نے ان سب کو مٹا کر برباد کر دیا ۔

سورۃ اللیل:92 ویں سورت

مکی سورت ہے۔ 21 آیات، رکوع ایک (پارہ کا سترہواں) نام پہلے ہی لفظ کو قرار دیا گیا۔ سورۂ شمس کے ساتھ ملتا جلتا مضمون ہے۔

اور صاف بچا دیئے جائیں گے عذاب سے وہ جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ وہ اپنا مال دل کو پاک کرنے کی خاطر دیتے ہیں اور وہ کسی کے احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے نہیں دیتے۔ وہ صرف اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں اور وہ ضرور ان سے راضی ہو گا۔ (یہ آخری آیتیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہیں، جن کے متقی ہونے کی تصدیق، وحی سے کی جا رہی ہے)۔

سورۃ الضحیٰ: 93 ویں سورت

مکی ہے۔ 11 آیات پر مشتمل ہے۔ نزول کے اعتبار سے گیارہویں، پہلا لفظ ہی نام بنا۔ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ موضوع ’’رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے (کہ وحی کا عارضی تعطل پریشانی کا باعث نہ ہو)

’’قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب کہ وہ قرار پکڑے، اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم، آپؐ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ (آپؐ سے) دشمنی کی، دیکھئے آپؐ کو کیا یتیم نہیں پایا، پھر آپؐ کو ٹھکانا دیا، اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو متلاشی پایا تومنزل مقصود تک پہنچا دیا (یعنی منزل جذب سے صحیح سلوک کی طرف کر دیا) اور آپؐ کو ضرورت مند پایا تو ہم نے غنی کر دیا۔

سورۃ الانشراح : 94 ویں سورت

مکی ہے، 8 آیات ہیں پارے کا انیسواں رکوع۔ ترتیب نزول میں بارہویں سورت ہے۔ پہلے ہی فقرے کو نام قرار دیا گیا۔ سورۃ الضحیٰ سے ملتا جلتا مضمون ہے۔ (حضرت ابن عباسؓ کے بقول مکہ میں الضحیٰ کے بعد نازل ہوئی)

’’اس سورت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک خلاصہ ہے جو مکی زندگی ہی میں بتا دیا گیا تھا، فرمایا : ’’اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم نے آپؐ کے سینے کو وسیع اور کشادہ نہیں کیا؟ یعنی بیشک کیا ہے اور اس سینہء مبارک میں ہدایت و معرفت، موعظت و نبوت، علم و حکمت وغیرہ سب کچھ خزانے بھر دیئے گئے۔ اور ظاہری شرح صدر بھی بار بار ہوا۔ آپؐ کا ذکر بھی بلند کیا کہ اذان میں، تکبیر میں، تشہد میں، منبروں پر، خطبوں میں اور لوگوں کے درود و سلام میں آپؐ کا ذکر برابر ہوتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔

سورۃ التین:95 ویں سورت

مکی سورت ہے، 8 آیات (بیسواں رکوع) ترتیب نزول میں نمبر 28 نام پہلا ہی لفظ قرار پایا، مفسرین کے بقول یہ سورت مکی ہے اور بعض کے بقول مدنی مگر لفظ ’’البلد الامین‘‘ سے مراد صرف مکہ ہے۔ موضوع ’’جزا، سزا کا اثبات‘‘ ہے۔

ایسی ابتر حالت پر پہنچنے والا انسان، محض ایمان اور عمل صالح کی بدولت اپنے بلند مقام پر قائم رہ سکتا ہے اور اسے بے حد اجر و ثواب حاصل ہو گا۔ ایسے انعامات کے بعد بھی کفار، اللہ کے انصاف کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ ان کی بڑی بدنصیبی ہے۔ کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے؟

سورۃ العلق:96 ویں سورت

مکی ہے۔ 19، آیات میں (اکیسواں رکوع) سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت ہے دوسری آیت کا لفظ ’’علق‘‘ نام قرار پایا۔ پہلی پانچ آیات پہلی وحی میں بعد کا حصہ اس وقت نازل ہوا جب آپؐ نے حرم میں نماز پڑھنی شروع کی اور ابوجہل نے دھمکیاں دے کر روکنا چاہا۔

اس سورہ کی ابتدائی پانچ آیتیں سب سے پہلے نازل ہوئیں اور غار حرا میں نازل ہوئیں۔ ابوجہل جیسے لوگ نماز سے روکتے ہیں، وہ خود ہدایت پر ہوتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ان کے لئے بہتر تھا۔ وہ لوگ جھٹلاتے ہیں اور اللہ سے منہ پھیرتے ہیں، لیکن اللہ دیکھ رہا ہے اور اگر وہ لوگ باز نہ آئے تو ہم ان کو ذلیل کر دیں گے۔ *

مزید : کالم