ر مضان کا الوداعی عشرہ۔۔۔ فیس بُک اور بزمان سحر!

ر مضان کا الوداعی عشرہ۔۔۔ فیس بُک اور بزمان سحر!
ر مضان کا الوداعی عشرہ۔۔۔ فیس بُک اور بزمان سحر!

  

فیس بُک کو غلط طور پرا ستعمال کرنے والوں سے شکایات تو اپنی جگہ موجود ہیں۔ خباثت کا مظاہرہ کرنے والوں کی کمی نہیں، تاہم رمضان المبارک میں دین داروں نے ان کو بُری طرح مات دی اور غیر اخلاقی تصاویر اور پیغامات میں بہت کمی آئی۔ ان کے مقابلے میں قرآنی آیات،اُن کے حوالے سے احکام اور احادیث کے علاوہ اقوال بھی بڑی تعداد میں مسلسل بھیجے جا رہے ہیں، اس سے بڑی طمانیت ہوئی۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ بعض نوجوان صحافیوں نے رمضان المبارک میں اللہ کی رحمت اور رمضان کے حوالے سے الیکٹرونک میڈیا کے درمیان ہونے والے ریٹنگ مقابلے کی طرف بھی توجہ دلائی اور بتایا کہ نہ صرف یہ پروگرام شوبز کے انداز میں ہو رہے ہیں، بلکہ نماز مغرب سے نماز عشاء اور تروایح کے دوران بھی جاری رہتے ہیں اور چینلوں کے درمیان مقابلے کی دوڑ ہے۔ اگرچہ بعض پروگرام معلوماتی اور مفید بھی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ غیر متعلق ہوتے اور انداز شوبز سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

خواتین کی حرمت کا درس دینے والے نوجوان لڑکیوں کو چست لباس پہنا کر میزبانی(خدمت گار) کے فرائض انجام دلاتے ہیں وہ بھاگ بھاگ کر انعامی اشیاء متعلقہ اینکر یا حاضرین تک پہنچاتی نظر آتی ہیں، ایک برخوردار نے جنید جمشید کی خاتون اینکر کے ساتھ مشترکہ پروگرام کی تصویر پوسٹ کر کے سوال کیا کہ یوں تو مخلوط اجتماع ناجائز تو کیا مرد اور خاتون کا پاس بیٹھ کر پروگرام کی میزبانی کرنا جائز ہے، پھر بہت سے چینلوں کو مرد اور باعلم اینکر میسر نہیں، وہاں نوجوان خواتین معزز علماء کرام سے دینی سوالات کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک اکاؤنٹ والے نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے مولانا طارق جمیل کے اعزاز میں افطار کے حوالے سے نمازِ مغرب باجماعت کی تصویر پوسٹ کی، جو گھر ہی میں مولانا کی امامت میں ادا کی جا رہی ہے۔ سوال صرف یہ تھا کہ مولانا نے آئی ڈی پیز کے ساتھ گزشتہ برس افطار کا وعدہ کیا وہ کیوں پورا نہیں کیا؟

بہرحال مجموعی طور پر نوجوانوں نے قرآنی تعلیمات کے حوالے سے گہری دلچسپی لی، پیغامات میں روزہ مبارک، جمعہ مبارک اور ایسے ہی تہواروں کے حوالے سے پیغامات بھیجے۔ گزشتہ دو دِنوں سے آخری عشرہ شروع ہونے کی مبارک اور اس کی برکات والے پیغامات آتے اور آ رہے ہیں۔ مَیں منتظر تھا کہ ان میں کوئی ایسا پیغام بھی ہو جو یہ بتائے کہ اب رمضان المبارک وداع ہو رہا ہے اور یہ دن تیزی سے گزر کر روزہ داروں کے لئے اللہ کے انعام عیدالفطر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب تک ایسا کوئی پیغام نہیں تھا۔حقیقت تو یہ ہے کہ21واں روزہ یہ احساس دِلا دیتا ہے کہ اب یہ مبارک و مقدس مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے لئے دین داروں کو اگلے سال کا انتظار ہو گا کہ بشرطِ زندگی و تندرستی پھر سے یہ عبادت کر سکیں۔ اس سلسلے میں اگر آپ اب سحری کے لئے پرانے لاہور یا شمالی لاہور تشریف لے جائیں تو آپ کو یہ گونج سنائی دے گی۔

الوداع، الوداع، الوداع ہے،

ماہِ رمضان تُو ہم نے وداع ہے،

بزمان سحر والے نوجوان اور ٹولیاں 21رمضان المبارک ہی سے الوداع کہنے اور آئندہ سال کے استقبال کے لئے نعتیں پڑھتے مل جائیں گے۔

بزمان سحر، یہ پرانے لاہور کی دیرینہ روایت ہے ،جو عید میلاد النبی ؐ کے جلوس کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اور اس کا بھی آغاز اندرون اکبری منڈی ہی سے ہوا، اور پھر یہ پورے شہر میں پھیل گئی، ہر محلے والوں نے اپنی اپنی بزم سحر بنائی اور سحری کے لئے جگانے کا عمل شروع کیا۔ یہ نوجوان لڑکے نعتیں پڑھتے ہوئے محلہ محلہ گھومتے اور سحری کے اختتام سے تھوڑی دیر قبل واپس وہاں آ جاتے،جہاں ان کے لئے مشترکہ سحری کا اہتمام ہوتا تھا۔ پھر یہ سلسلہ زیادہ دراز ہوا تو لاہور کی دوسری آبادیوں میں بھی پھیلا، پہلے نواحی علاقے مصری شاہ، وسن پورہ، سلطان پورہ اور شادباغ نے اتباع کیا، کرشن نگر(اسلام پورہ) میں بھی بزمیں بن گئیں، چنانچہ یہ دور رمضان المبارک کی رونق کا ہوتا اور سحری کے وقت شہر نعتیہ کلام سے گونج رہا ہوتا تھا، پھر شمالی لاہور والوں نے ابتدا کی اور مضان المبارک کے بعد ایک بڑی تقریب منعقد کر کے شہر بھر کی بزمان سحر کا مقابلہ کراتے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

جہاں تک اس روایت کا ذکر ہے تو ہم اس میں شامل رہے، حالانکہ ایک زمانہ تھا جب والدہ آوازیں دے کر سحری کھلاتیں اور تنگ وقت میں دُعا کی جاتی تھی، بزم میں شامل ہو جانے کے بعد سحری سے کم از کم دو گھنٹے قبل بستر چھوڑنا پڑتا تھا۔ آج کے دور میں ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے ان روایات میں بہت کمی کر دی ہے تاہم اب بھی پرانے شہر اور شمالی لاہور میں ہماری نسل سے بعد والی نسل نے یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، ابتدا میں جو گزارش کی اور اب جو عرض کی ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ جدید سے قبل اجتماعیت ہوتی تھی اور خلوص بڑھتا تھا، آج حالات بہت مختلف ہیں اور نوجوان ٹی وی پروگرام دیکھتے اور پھر گھر پر نماز کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ فیس بُک پر محنت کرنے والوں کو خراج تحسین ہی پیش کیا جا سکتا ہے کہ وہ مقابلہ جیت ہی گئے کہ غلط استعمال والوں کو اپنا سلسلہ کم تو کیا قریباً بند کرنا پڑا۔ *

مزید : کالم