یونان کا معاشی بحران اور یورپی یونین

یونان کا معاشی بحران اور یورپی یونین
یونان کا معاشی بحران اور یورپی یونین

  

دنیا کے دستور بھی نرا لے ہیں۔کئی خطے اور مما لک تا ر یخی، تہذ یبی، معا شی اور جغر ا فیا ئی اور سب سے بڑھ کر فطری اعتبا ر سے ایک وحدت ہیں، مگر محض سیا سی اور سر حدی تقسیم سے یہ خطے الگ الگ ریا ستوں پر مشتمل ہیں جیسے عرب مما لک اور خا ص طور پر خلیجی مما لک جو تاریخی، تہذ یبی، اور جغرافیا ئی اعتبا رسے ایک وحدت ہیں، مگر اس خطے کو کئی ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔اسی طرح شما لی اور جنو بی کوریا ، افر یقہ اور لا طینی امر یکہ کے کئی مما لک کی تقسیم اس امر کی مثا لیں ہیں۔جب کہ دوسر ی طرف کئی خطوں کو تا ر یخی، تہذ یبی، سیا سی اعتبا رسے جدا ہونے کے با وجود ایک معا شی ، سیا سی اور تہذیبی وحد ت کے طور پر پیش کر نے کی کو شش کی جا تی ہے۔اس وقت یو رپی یو نین اس امر کی سب سے بڑی مثا ل ہے۔جب 7 فروری 1992ء کو Maastricht Treaty(یو ر پی یو نین کا معا ہدہ) کر کے یو رپ کے 27 ممالک پر مشتمل یورپی یو نین کی بنیا د رکھی گئی تو یو رپ کے کئی دانشو روں اور تجز یہ نگا روں کی جانب سے یہ دعوے کئے گئے کہ یو رپی یو نین ایک فطر ی بلا ک ہو گا ۔ایسا تا ثر دینے کی کو شش کی گئی کہ یورپ میں سیا سی ،معا شی اور تہذ یبی اعتبا ر سے خا صی مما ثلت ہے۔ اس لئے یہ بلاک مستقبل میں بھی قا ئم رہے گا ،مگر یہ دعویٰ کر نے والے بھول گئے کہ یو رپ قطعی طور پر ایک معا شی اور سیا سی وحدت نہیں، بلکہ یو رپی یونین کے اندر معاشی اور سیا سی تر قی کی تقسیم اسی قدر گہری ہے کہ جس قدر تر قی یا فتہ یو رپی مما لک کی ایشا ئی مما لک سے۔

ایک طرف جنو بی یورپ(پر تگال، یونان، سپین،اٹلی) اور دوسری طرف شما لی یو رپی مما لک ( جر منی ،ہا لینڈ، فرا نس،اسکینڈے نیوین ممالک) ہیں۔ یہ تقسیم محض ثقا فتی نہیں، بلکہ سیا سی اور معا شی بھی ہے۔در اصل یہ تقسیم کلا ئنٹل ازم اور نان کلا ئنٹل ازم کی ہے۔آج سیاسیا ت کے جدید ما ہر ین جمہو ری مما لک میں سیا سی شعور کا اندازہ لگا نے کے لئے کلا ئنٹل ازم اور نان کلا ئنٹل ازم کے پیما نے کو ہی استعما ل کر رہے ہیں۔ ہمیں یونان اور یورپی یونین کے حالیہ بحران کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ کلا ئنٹل ازم سے مراد کیا ہے؟ اور یہ کیسے یو رپی یونین کے اتحا د پر اثر انداز ہورہی ہے؟۔ایسے جمہوری مما لک جہا ں پر سیا سی جما عتیں اپنے اقتدار کے لئے ریا ستی اداروں اور وسا ئل کو استعمال میں لا کر اپنے وو ٹروں یا حامیوں کو نوازتی ہیں۔ اس نوازنے میں سرکاری اداروں میں اپنے حا میوں میں نو کر یوں کی تقسیم،حا میوں کو قا نون سے تحفظ فرا ہم کرنے سے لے کر پیسوں اور دیگر مرا عا ت شا مل ہو تی ہیں۔ ان مما لک کے وو ٹرز اپنی حکو متوں یا سیا سی جما عتوں سے کسی دیر پا پروگرام کی بجا ئے فور ی مرا عا ت کے طا لب ہو تے ہیں ۔ ۔جیسے نوکریاں، پیسے، پانی ، سیور یج، نلکے اور تھا نے کچہر یوں میں سیا سی حما یت کے حصول کے مفا دات وغیرہ۔وا ضح رہے کہ ایسی ریا ستوں میں جہا ں کلائنٹل ازم کی بنیا د پر جمہو ری نظا م چل رہے ہیں ان ممالک میں ریاستی وسا ئل کے دم پر اپنے حا میو ں کو نوازنا قطعی طور پر کر پشن کے زمر ے میں نہیں آتا ،بلکہ یہ سب کچھ قا نون کے تحت ہوتا ہے۔ کلائنٹل ازم کے حا مل مما لک ایسے ہیں کہ جہا ں ریا ست یا مستقل ریا ستی اداروں کے باقائدہ طور پر منظم ہو نے سے پہلے ہی جمہو ری نظا م آ جا تا ہے اور سیا سی جما عتوں کو اپنی سیا سی حما یت کے حصول کے لئے ووٹروں کو بغیر کسی جواب دہی کے نوازنا پڑتا ہے۔بھا رت، پاکستان، میکسیکو، بنگلہ دیش، سری لنکا، براز یل،تھا ئی لینڈ ،کینیا ، نا ئجیریا وغیرہ کلا ئنٹل ازم کی حا مل ریاستیں تصور کی جا تی ہیں۔خود امریکی تا ریخ میں بھی ہمیں کلا ئنٹل ازم کی مثا ل اس وقت ملتی ہے جب 1820اور 1830کی دہا ئیوں میں تما م سفید فا م گورے رنگ کے حا مل امر یکیوں کو ووٹ کا حق دیا گیا تو سیا سی جما عتوں نے ان ووٹروں کی حما یت حا صل کر نے کے لئے ریاستی وسا ئل کا بھر پور استعما ل کرتے ہو ئے بغیر کسی جوا بد ہی کے ان وو ٹروں کو نوازا۔امر یکہ میں کلا ئنٹل ازم 19ویں صدی کے اختتام پر نئے سر ما یہ دار، بڑی تعداد میں شہری طبقہ اور ایک منظم بیو رو کر یسی وجود میں آنے کے بعد ختم ہوا۔

جن مما لک میں ریا ست کے مستقل اداروں ( بیو رو کر یسی) کے منظم ہو نے کے بعد صحیح معنوں میں جمہو ریت آئی ان مما لک میں سیاسی جما عتوں نے اپنے حا می طبقوں یا گرو پس کو نوازا تو ضر ور، مگر ریا ستی اداروں کو مکمل طور پر اپنے حا میوں کے لئے استعما ل کر نے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔کیو نکہ مضبوط ریا ستی ڈھا نچے نے سیا سی جما عتو ں کو اس امر کی اجا زت نہ دی۔یہی وجہ ہے کہ جر منی، بر طا نیہ، ہالینڈ ، فرا نس اور اسکیڈ ے نیو ین مما لک میں کلا سیکل معنوں میں کلا ئنٹل ازم قا ئم نہ ہو سکا(جمہو ریت آنے کے بعد)۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان مما لک میں پبلک سیکٹر ان مما لک کی نسبت زیا دہ تر قی یا فتہ یا فعا ل ہے جہا ں اب بھی کلا ئنٹل ازم ایک اہم عا مل کے طور پر مو جودہے تا ہم اس د لیل سے قطعی طور پر یہ ثا بت کر نا مقصود نہیں کہ نا ن کلا ئنٹل ازم کی حا مل ریا ستوں( جر منی ،ہا لینڈ، فرانس، امر یکہ برطا نیہ اور ،اسکینڈے نیوین) میں سیا سی جما عتیں اپنے حا میو ں کو مفا دات حا صل کر نے کی اجا زت نہیں دیتیں۔ کا رپو ریٹ سیکٹرز سیا سی جما عتوں کو اربوں کی فنڈنگ کر تے ہیں اور جب یہ جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں تو فنڈز دینے والے سر ما یہ دار ان بھر پور مفا دات حا صل کر تے ہیں، مگر ان مفادات کی نو عیت ان مفا دات سے قطعی طور پر مختلف ہو تی ہے کہ جو کلا ئنٹل ازم یا کسی حد تک پسما ندہ ریا ست کے ووٹرز اپنی حکو متوں سے اٹھا نا چا ہتے ہیں۔ اب ہم اگر اسی تنا ظر میں جنو بی یو رپ کے ایسے مما لک کا جا ئزہ لیں جو آج یو ر پی یو نین میں شا مل ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جر منی ، ہا لینڈ اور فرا نس کے برعکس اٹلی، یونان،سپین، آ سٹریا وغیرہ ایسے مما لک تھے کہ جہا ں پر جمہو ریت ریا ست اور اس کے مستقل اداروں کے مستحکم ہو نے سے پہلے ہی آگئی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان مما لک کے پبلک سیکٹرز اور وسا ئل کا سیا سی جما عتوں نے بغیر کسی جوابدہی یا رکا وٹ کے اپنے ووٹر وں یا حا میوں کو منظم کر نے کے لئے بے در یغ طور پر استعما ل کیا۔

اس وقت یورپین یونین جس ملک کے با عث بحران کا شکار ہے وہ یونان ہے۔ یو نان نے سلطنت عثما نیہ سے آ زادی حا صل کر تے ہی جمہوری راہ اپنا ئی گئی ۔ ابھی یو نا ن کا ریا ستی ڈھانچہ صحیح طر ح سے تشکیل بھی نہیں ہوا تھا کہ 1870ء میں پا ر لیمنٹ اور سیا سی جما عتیں معر ض وجود میں آگئیں۔اور نتیجہ کے طور پر سیا سی جما عتوں نے بغیر کسی رکا وٹ اور جوا بد ہی کے د یہا توں اور قصبوں پر مشتمل آبادیوں اور برا دریوں کو ریا ستی وسا ئل سے نوا زنا شرو ع کر دیا۔تا حا ل یو نا ن کی سیا سی جما عتیں اپنے ووٹروں کو نوازنے کے لئے ریاستی اداروں کا بھر پور استعما ل کرتی ہیں ۔ 1974ء میں یو نا نی فو جی آ مر یت کے بعد کلا نٹل ازم میں مز ید تیزی آ گئی۔

یو نا ن کی حکمران جما عت سائریزا سمیت اکثر سیا سی جما عتیں، جر منی کے اس مطا لبے کو تسلیم کر نے سے ہچکچاتی ہیں کہ جس سے یونانی عوام کو جو مرا عا ت حاصل ہیں ان سے ان کو محرو م کر دیا جا ئے یا یو نا ن کے پبلک سیکٹر میں سیا سی جما عتوں نے اپنے حا میوں کو جو نوکریاں دی ہوئی ہیں ان کی ڈاؤن سائزنگ کر دی جا ئے۔ایسی صورت میں یو نا ن کی سیا سی جما عتوں کو اپنی سیا سی حما یت سے محروم ہو نا پڑے گا ۔یونان کا حالیہ بحران بھی اس وقت پیدا ہوا جب یورپین سنٹرل بینک نے جرمنی کے کہنے پر یہ اعلان کیا کہ اب یو نان کو معاشی بدحالی سے بچانے کے لئے نہ ہی یونان کے لئے مختص 89 ارب یورو کی رقم میں اضافہ کیا جا ئے گا اور نہ ہی یونان کے بینکوں کو مالی امداد دی جائے گی ۔یورپی یونین ، یورپین بینک اور آئی ایم ایف کی جانب سے یونان کو معاشی امداد دینے کے عوض جن شرائط کو پورا کرنے کے لئے کہا گیا وہ یونان کے لئے ایک طرح سے معا شی خودکشی کے مترادف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 5جولائی کو ہونے والے ریفرنڈم میں 61.3%یونانی رائے دہندگان نے معاشی امداد کے عوض ان شرائط کو مسترد کر دیا کہ جن کے مطابق یونان میں پینشنز کی رقم میں مزید کٹوتی کرنا پڑتی اور کئی طرح کے نئے ٹیکس بھی بر داشت کرنا پڑتے جن کا اثر یونان کے عام شہری پرپڑتا۔شمالی یو رپ کے امیر ممالک جن میں اس وقت سر فہر ست جر منی ہے۔ اب یو نا ن جیسے غریب ملک کے لئے مز ید قر با نیا ں دینے کے لئے تیا ر نہیں ۔حتیٰ کہ جر منی میڈ یا کے قو م پر ست حلقے یو نا ن کو سرے سے ہی یو رپی یونین سے نکا لنے کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔یو رپی یو نین کے حکمرا ن یو رپی یو نین کو قا ئم رکھنے کی بھر پو ر کوشش کر رہے ہیں، مگر بحران ہے کہ قا بو میں ہی نہیں آرہا۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یو رپی یو نین کی تشکیل اپنی ہئیت میں ہی ایک غیر فطری اتحا د تھا جہا ں کلا ئنٹل ازم اور نا ن کلائنٹل ازم کی حا مل ریا ستو ں کو ایک ہی لڑ ی میں پرو نے کی کو شش کی گئی۔کلا ئنٹل ازم اور نان کلا نئٹل ازم کی یہ تقسیم اس قدر گہر ی ہے کہ مستقبل قر یب میں اس تقسیم کا ختم ہو نا ممکن دکھا ئی نہیں دیتا ۔ *

مزید : کالم