روس چین اور وسطی ایشیا

روس چین اور وسطی ایشیا
روس چین اور وسطی ایشیا

  

امریکی اور نیٹو افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد وسطی ایشیا عالمی سیاست کی بساط پر اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ عالمی سیاست کے اہم کرداروں کے عمل دخل اور بالادستی کی کشمکش سے یہ خطہ سیاسی استحکام اور سلامتی کا باعث بن سکتا ہے، یا عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا؟ اس میں روس اور چین کا کردار بہت اہم ہے۔ ماضی کی کشیدگی اور حال کی قربت مستقبل کا نقشہ ترتیب دے گی۔ امریکہ بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا۔ مسلم عسکری تنظیمیں جو بنی ہوئی ہیں یا بنائی گئی ہیں وہ بھی کہیں کہیں متحرک نظر آئیں گی ،آ رہی ہیں اور اس کے اثرات پاکستان تک پہنچتے رہے ہیں۔ چین میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے زنجیانگ میں افغان جہادیوں کے ساتھ ہی امریکی جہادی مصروف عمل ہو گئے تھے، لیکن کچھ عرصے سے پاکستان کے بھرپور تعاون، چینی حکومت کی طرف سے سختی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے جال نے وہاں حالات تبدیل کر دیئے ہیں۔چین کی طرف سے ایک بڑا واضح پیغام ان تنظیموں اور وہاں کی حکومتوں کے نام دیا گیا ہے: ’’ہم آپ کے ساتھ تجارت کے لئے تیار ہیں، ہم آپ کی سرحدوں کا احترام کریں گے،آپ کی ہر طرح کی مدد کریں گے، بشرطیکہ آپ کی طرف سے دوبارہ کسی نے زنجیانگ میں آنے کی جرأت نہ کی تو‘‘۔ وسط ایشیا کو چین کی مالی و فنی امداد کی ضرورت ہے اور چین کرتا بھی ہے، لیکن اپنی شرائط پر۔ روس کے لئے بھی وسط ایشیا کی ریاستوں میں سیاسی استحکام ہی سود مند ہے۔ افغانستان میں جہاد کے اثرات ان ریاستوں پر تو یقیناًپڑے، لیکن روس بھی کسی حد تک متاثر ہوا ہے۔ گو وہاں سے خبریں باہر نہیں آنے پاتیں۔ وقتاً فوقتاً سینٹ پیٹرز برگ کے علاوہ بھی اہم شہروں میں جہادی گرفتار کئے جاتے ہیں۔

روس سے علیحدگی کے بعد بھی روس ان ریاستوں میں آمرانہ نظام برقرار دیکھنا چاہتا ہے اور ’’اجتماعی سلامتی‘‘ کے معاہدے کے تحت جہاں ضرورت ہو، وہاں فوجی مداخلت بھی کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ قازقستان میں بھاری سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ روس کے دوبارہ سوویت یونین بننے کا عمل شروع ہے، کہیں پیار سے، کہیں مار سے، لیکن پورپی یونین رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ پچھلے دِنوں یوکرائن کے مسئلے پر روس پر معاشی دباؤ ڈالا گیا، ساتھ ایران پر بھی ،تیل کی قیمتوں میں بے حد کمی کر دی گئی تھی، لیکن اس بار سوویت یونین کی بجائے ’’پوریشین کسٹم یونین‘‘ نام تجویز کیا گیا ہے۔روس کی حکمت عملی کے پانچ پہلو ہیں۔ پہلے تین حساس ادارے ہیں جو پورے وسط ایشیا کو کور کرتے ہیں، ان کا رابطہ روس کے فوجی اڈوں کے ساتھ منسلک ہے اور CSTO ’’اجتماعی سلامتی‘‘ معاہدے کے تحت جہاں ضرورت ہو وہاں فوری کارروائی ممکن ہے۔کچھ لڑاکا طیارے ہر وقت فضا میں رہتے ہیں، چوتھے نمبر پر اِن ریاستوں کو توانائی کی سپلائی ہے جو گیس پائپ لائن کے ذریعے روس سے جڑے ہیں اور اپنے طور پر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے، وہ گیس بیچنا چاہیں تو کسی ایشیائی مُلک کو بیچ سکتے ہیں، یورپ کے کسی مُلک کو نہیں۔ جیسے ترکمانستان۔ پانچویں نمبر پر جمہوریت کے نام پر وسط ایشیا میں امریکی فوجی یا سیاسی عمل دخل کی ہر کوشش کو ناکام بنانا۔

چین نے صوبہ زنجیانگ میں،جو وسط ایشیا سے منسلک سرحد پر ہے، ہر قیمت پر امن برقرار رکھنے کا عزم کر ر کھا ہے تاکہ یہاں سے ان پڑوسی ریاستوں سے رابطے میں کوئی مسئلہ نہ ہو اور اُن کی امداد، تجات، قرضوں کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ہو۔ یہ ایک نیا ’’سلک روڈ‘‘ ہو گا جو وسط ایشیا سے بحرہند تک ایران، پاکستان اور یورپ سے منسلک ہو گا، جس میں توانائی، مواصلاتی رابطہ، سڑک، ریل، گیس پائپ لائن، گوادر سب شامل ہوں گے۔ چین سے ایران کا براہ راست رابطہ سب سے اہم ہے۔ آج کے معروضی حالات، زمینی حقائق،عالمی سیاست کے تقاضوں کے مطابق اور انہیں مدنظر رکھتے ہوئے چین اور روس کے درمیان کشمکش کی نسبت زیادہ قریبی تعاون کے امکانات زیادہ ہیں۔ روس کی معاشی حالت زیادہ بہترنہیں ہے۔ حال ہی میں اسے اپنی توانائی کی کمپنیوں کے کچھ حصے چین کو فروخت کرنے پڑے تھے، کسی وقت روس وسط ایشیائی ریاستوں سے کئے جانے والے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کر پاتا، لیکن چین اپنی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی معیشت کی وجہ سے معاہدوں پر آسانی سے اور لازمی عمل کرتا ہے۔ دوسرا روس ان ریاستوں میں فوجی موجودگی پر زیادہ زور دیتا ہے۔ اپنے حامیوں کے ذریعے پُرتشدد مظاہرے بھی کرواتا ہے، جنہیں مغرب ’’بغاوت‘‘ سے تعبیر کرتا ہے، لیکن تجارتی میدان میں وہ چین کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

روس کی حکمت عملی کامیاب ہوسکتی تھی اگر اُس کے معاشی حالات یہ بوجھ برداشت کر سکتے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ روس کے اپنے دانشوروں کے کہنے کے مطابق روس میں اس وقت ’’انقلابی بحران‘‘ جاری ہے، جو وسیع المدتی ہو سکتا ہے۔ یہ بحران روس کے لئے مشکل پیدا کر دے گا کہ اقتصادی ترقی تیز تر ہو سکے اور روس میں اتنی معاشی طاقت ہو کہ وہ چین کی طرح وسط ایشیائی ریاستوں میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل ہو جائے۔ روس کے عوام کو اپنے عروج کا دور بھولا نہیں۔ وہ چین سے مقابلہ تو نہیں کرنا چاہتے، لیکن قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں، اس کے لئے ان ریاستوں میں فوجی موجودگی کے ساتھ ساتھ معاشی موجودگی بھی چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کے خلاف ایک موثر محاذ قائم کیا جا سکے۔ وہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ چین کی مخالفت نہ ان کے بس میں ہے اور نہ مفاد میں۔ وہ یہ بھی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ جب ان ریاستوں کو کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ماسکو کی طرف نہیں شنگھائی کی طرف دیکھتے ہیں، لہٰذا چین کے ساتھ کسی بھی قسم کی کشمکش ان کے لئے نقصان دہ ہو گی۔ وسط ایشیا کی ریاستوں کی قیادت روس جب سوویت یونین تھا، تب کی پیداوار ہیں اور روسی قیادت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں بہتری محسوس کرتے ہیں، لیکن روس اور چین کے ساتھ ساتھ امریکہ، ترکی، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، یورپین یونین کے ساتھ بھی بگاڑ کی صورت حال نہیں چاہتے، بلکہ قریبی تعاون کے خواہش مند ہیں، اگر وہ نہ بھی چاہتے ہوں، چین کے ساتھ قریبی تعلقات ان کی ضرورت ہے۔ انہیں چین کی امداد کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ چین کی شرائط پر ہی ہوں گی۔

وسط ایشیائی ریاستوں کا ایک اور قریبی پڑوسی ایران بھی ہے، لیکن وہ اُدھر کی بجائے مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ اُلجھا ہوا ہے، البتہ پاکستان ان ریاستوں کو سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی کاموں میں مدد دے رہا ہے، لیکن محدود حد تک، چنانچہ اثرو رسوخ بھی محدود ہی ہو گا۔بھارت یہاں کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ شدید خواہش کے باوجود بھارت وہاں چین کی موجودگی کی وجہ سے مجبور ہے۔ وہ چین سے الجھنا نہیں چاہتا۔البتہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی سب سے زیادہ واضح نظر آتی ہے، لیکن امریکہ کی روانگی کے بعد صورت حال میں پاکستان کے حق میں زیادہ جھکاؤ نظر آئے گا۔ وہاں کے عوام امریکی سرپرستی کی وجہ سے بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ عبداللہ عبداللہ جیسے کردار بھارت کے بغل بچے ہیں۔ یورپی یونین جمہوریت کے قیام اور استحکام کا راگ الاپتے ہوئے وسط ایشیا میں موجود رہنا چاہتی ہے، لیکن ان کے اپنے مسائل ہیں۔ معاشی مسائل کے علاوہ تمام ایشو پر اراکین کی رائے بھی یکساں نہیں ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ معیشت کی اس دُنیا میں وہ وسط ایشیائی ریاستوں کی ضروریات کے مطابق امداد فراہم نہیں کر سکتے، نہ صرف وہ، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی ایک حد تک ہی جا سکتے ہیں، اس لئے کہیں روس، کہیں چین، بلکہ چین ہی چین نظر آتا ہے اور نظر آتا رہے گا۔

خطے کی تمام ریاستیں اس بات پر بہت ’’نروس‘‘ ہیں کہ جو خلاء افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج چھوڑ کر جا رہی ہیں، اسے کون اور کب تک پُر کرے گا؟ میرے خیال میں امریکی خود اتنی دلچسپی لیتے نظر نہیں آتے، سول وار ہو گی؟ عسکریت پسند پھر مضبوط ہوں گے؟ دہشت گردی پھیلے گی؟ صرف چین پورے اطمینان سے پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں میں مضبوط قدم جما رہا ہے۔ ایسے ترقیاتی منصوبے جس سے عوام خوشحال ہوں گے، بے روز گاری ختم ہو گی، زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصول آسان ہو گا تو سب ٹھیک ہو گا ۔نئے ’’سلک روڈ‘‘ کا مقصد ہی یہی ہے۔ روس مضبوط فوجی موجودگی کا بھی حامی ہے، صرف یہی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ افغانستان کے اردگرد کی تمام ریاستیں بشمول وسط ایشیا ایک انجانے وہم میں مبتلا ہیں۔میرے خیال میں جو چیز یا حالات نظر انداز کئے جا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کو نیچا دکھانے کے لئے روس اور چین کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے اور ہو گا، لیکن خطے میں دونوں اپنی اہمیت اور حیثیت جتانے کی کوشش کرتے نظر آئیں گے۔ امریکی پالیسی سازوں کے خیال میں ’’سلک روڈ‘‘ ایک خیال ہے جو حقیقت کا روپ دھارنے میں بہت وقت لے گا اور شاید؟

صدر اوباما نے ابھی تک اس خطے کی اجتماعی صورت حال کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی، ہاں البتہ انفرادی طور پر مختلف ممالک کے حالات پر تبصرہ، ان سے تعاون بڑھانے کی باتیں ضرور کی ہیں، کیونکہ حکومتی سطح پر تو مجوزہ سلک روڈ ایک خواب ایک خیال ہے اور بس۔ اگر امریکہ اس خطے میں مضبوطی سے قدم جمانا چاہتا ہے تو اسے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بے شمار ترقیاتی کاموں کے لئے بے حد و حساب مدد دینا پڑے گی، قیادت مہیا کرنا ہو گی، خارجہ پالیسی میں مہارت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور طاقت کا استعمال بھی کرنا ہو گا۔ کہنے کو اب بھی امریکی یہی کہتے ہیں کہ وسط ایشیا ان کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کی نفی کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ خطہ بشمول افغانستان اندھی طاقت کے بغیر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ یہ ایک احمقانہ خیال ہے،اصل مسئلہ معاشی ہے، سیاسی ہے اور امریکہ اسے حل نہیں کر سکتا۔ *

مزید : کالم