پیپلز پارٹی کی مشکل

پیپلز پارٹی کی مشکل
پیپلز پارٹی کی مشکل

  

یوں تو جو بھی حکومت میں آتا ہے تھوڑے ہی عرصہ میں عوامی ناپسندیدگی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے حوالے سے یہ معاملہ دیگر کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ بینظیر بھٹو کے ادوار ہوں یا پھر آصف علی زرداری کا عرصہ صدارت، لولی لنگڑی حکومتیں دے کر تگنی کا ناچ نچایا گیا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حکومتی معاملات چلانے کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاس کوئی غیر معمولی صلاحیتیں تھیں یا پھر پارٹی کے ’’پارساؤں‘‘ کو کرپشن سے چنداں رغبت نہ تھی۔ سیاسی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ انسانی خامیاں ہر دور اقتدار کا خاصہ رہیں۔ پھر بھی یہ ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت تھی جن کے نام کا نعرہ لگا کر ملک گیر پارٹی کو بڑی دیر تک مضبوط رکھا گیا۔ خود بینظیر بھٹو کو عالمی سطح کی سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنے مرحوم والد کی عوامی مقبولیت کو برقرار رکھا۔ بینظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد اسکے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا کہ پارٹی قیادت آصف علی زرداری خود سنبھالیں۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بینظیر بھٹو سے شادی کے فوری بعد آصف زرداری سیاسی و غیر سیاسی مخالفین کے لئے سب سے آسان ہدف بن گئے۔ کرپشن سمیت طرح طرح کے اخلاقی الزام عائد کیے گئے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سارے دور میں آصف زرداری نے ایسے الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، یہ تاثر بھی موجود ہے کہ ان کا حلقہ احباب اور حرکات و سکنات ہی ایسی تھیں کہ شکوک و شبہات پید اہو کر ہی رہنا تھے۔ صدر مملکت بن کر آصف زرداری نے خود کو ایک چابک دست سیاستدان کے طور پر منوایا۔ملکی تاریخ کے طاقتور ترین اور مقبول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا سامنا کیا تو دوسری جانب جنرل کیانی اور جنرل شجاع پاشا کے مشترکہ حملے بھی کامیابی سے روکے، ایک مخصوص مدت تک نواز شریف کے ہاتھوں بھی زچ ہوئے، لیکن اپنا عرصہ صدارت مکمل کر کے جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کر کے تاریخ بھی رقم کی، پانچ سال کا عرصہ مکمل ہوا تو گڈگورننس اور عوامی خدمات کے حوالے سے نامہ اعمال میں کچھ خاص نہ تھا۔ آج اگر پیپلز پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تو سارے معاملے کو اسکے پس منظر کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کو سائیڈ لائن کرنے کے لئے سب سے بڑا کردار مسلم لیگ ن نے ادا کیا۔ 1988 ء میں جب بینظیر بھٹو کو وفاقی حکومت ملی تو اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا کر سیاسی شطرنج پر اپنا مہرہ آگے بڑھا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے 1990 ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت کو چلتا کر کے اپنے ایک اور مہرے غلام مصطفیٰ جتوئی کو وزیراعظم بنوانا چاہا تو پتہ چلا کہ نیا مہرہ پرانے مہرے پر بھاری پڑ چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ 1990 ء میں وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ،وہ حکومت میں رہے یا اپوزیشن میں ،اپنا آپ منواتے رہے حتیٰ کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی جھنڈی دکھا دی اوراپنی پہلی حکومت ختم کرنے والے صدر غلام اسحاق خان کو بھی لے ڈوبے۔

نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنے کے لئے جنرل مشرف کو 1999 ء میں تختہ الٹنا پڑا۔ 1990 سے 1999 کے دوران نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دیا۔ موٹروے سمیت کئی ترقیاتی منصوبے شروع کر کے اپنے آپ کو ایک ایسے سیاستدان کے طور پر متعارف کرایا جسے ترقیاتی کاموں سے خصوصی لگن تھی۔ 1990ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ہزیمت اٹھانا پڑی۔ 1993 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے لوٹوں سے مل کر حکومت میں شامل تو ہو گئی ،لیکن عظمت رفتہ کی بحالی نہ ہو سکی۔ 1996ء میں تو گویا پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہی ہو گیا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر جمہوری عمل جاری رہتا تو بینظیر بھٹو جیسی قد آور شخصیت کی موجودگی کے باوجود پیپلز پارٹی محدود ہو کر رہ جاتی۔ مشرف کے مارشل لاء سے جمہوری عمل کا خاتمہ ہوا۔ 2002 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن)کو کاٹ کر بنائی جانے والی مسلم لیگ (ق) کو وفاقی اور پنجاب حکومت دی گئی تو پیپلز پارٹی کے ارکان بھی اچھی خاصی تعداد میں منتخب ہو کر آ گئے۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت تو مل گئی ،لیکن پنجاب پھر مسلم لیگ (ن)کے پاس آ گیا۔ صوبائی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان بھی معقول تعداد میں موجود تھے۔ اقتدار کی حتمی جنگ بالآخر مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہی ہونا تھی سو دونوں اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے خلاف ایک ہونے کے باوجود اپنا اپنا کھیل کھیلتے رہے۔

2013 ء کے عام انتخابات میں پنجاب سے پیپلز پارٹی کا پھر صفایا ہو گیا۔ ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر جمہوریت ٹریک سے اترے تو پرفارمنس نہ دکھانے والے زیادہ دیر تک اپنی مقبولیت اور اقتدار نہیں بچا سکتے۔

2013 ء کے عام انتخابات سے پہلے ہی یہ تاثر عام ہو گیا تھا کہ اصل مقابلہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ تحریک انصاف کے تخلیق کاروں کا اصل مقصد بھی یہی تھا ،وہ جانتے تھے کہ 1990ء سے 2008 ء تک دہرائے گئے انتخابی تجربات سے ثابت ہو چکا کہ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کو کٹ ٹو سائز کرنے کے لئے نئی سیاسی فورس کھڑی کرنا ہو گی۔ یہ سوچا جارہاتھا کہ مسلم لیگ(ن) میں لوٹے جوق در جوق نکلیں گے اور تحریک انصاف کی زینت بن جائیں گے ،لیکن ایسا کچھ نہ ہو سکا۔ تحریک انصاف الٹا اسٹیبلشمنٹ کے ٹولے مسلم لیگ(ق) کو سالم نگل گئی۔ بات آگے بڑھی تو پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنی مایوس کن حکومتی پرفارمنس کے پیش نظر تحریک انصاف کو ہی گوشہ عافیت جانتے ہوئے ادھر کا رخ کر لیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں جانے والوں کے ماضی میں جھانکا جائے تو یہ نتیجہ بآسانی اخذ کیا جا سکتا ہے ان میں سے اکثر سیاسی خانہ بدوش، بلکہ سیاسی آوارہ گرد ہیں۔ ان کا واحد مطمح نظر اپنا ذاتی مفاد ہے۔ اس کے حصول کے لئے وہ کسی بھی جماعت کا رخ کر سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی ،مگر اس بھول میں نہ رہے کہ یہ معاملہ محض سیاسی موقع پرستوں تک محدود رہے گا۔ اگر سنجیدہ اور ٹھوس کوششیں نہ کی گئیں تو بھٹوازم سمیت پارٹی کی نظریاتی سیاست کے نعرے بھی ڈھکوسلے ثابت ہو سکتے ہیں۔ کٹر جیالے بھی دامن چھڑا کر بلکہ رسے تڑوا کر بھاگ نکلیں گے۔ جمہوریت چلتی رہی تو پرفارمنس ہی اصل میرٹ بنے گا۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے۔ ایسا نہیں کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی کا کوئی امکان سرے سے موجود نہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ شاید فوری طور پر ایسا ممکن نہیں ،یہاں تحریک انصاف اسکی متبادل کے طور پر سامنے آ چکی ہے۔ سب کو نظر آرہا ہے کہ اگلے انتخابات میں مقابلہ ہے ہی شیر اور بلے کے درمیان ،تو کوئی تیر کو بغل میں کیوں لے گا۔لیکن تحریک انصاف کے ارکان اگر دھرنے کے دنوں کی تنخواہیں پہلے وصول کر کے پھر آفٹر تھاٹ کے طور پر واپس کرنے جیسے فیصلے کرتے رہے تو ایسے یوٹرن اس کے گلے پڑ سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی اگر سندھ میں اپنی گورننس بہتر کر لے اور فرینڈلی اپوزیشن کا غلط تاثر دور کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اگلے عام انتخابات تک اسکے لیے پھر مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ صرف اسی صورت میں بلاول، بختاور اور آصفہ کو آگے لانا سود مند ثابت ہو گا۔ کرپشن کے الزامات اور کچھ نہ کرنے کی روش سے پارٹی کو مکمل لا تعلقی ظاہر ہی نہیں ثابت کرنا ہو گی۔ الیکشن مسلم لیگ (ن) کے لئے بہت بڑا امتحان ہے کہ وفاق اور پنجاب میں حکومتیں کرنے کے بعد اس نے عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لانے کے لئے کیا کیا؟ اب تک تو کئی بڑے بڑے منصوبے شروع کرنے کے باوجود اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا ریکارڈ کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ تحریک انصاف کے حامیوں کو تکلیف تو ہو گی ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ کے پی کے کا بھی برا حال ہے۔ پارٹی کے تھنک ٹینک کی کوشش ہے کہ باہر یہ تاثر پھیلایا جائے کہ صوبہ ’’جنت نظیر وادی ‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ زمینی حقائق کو مگر کسی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کوئی غیر معمولی واقعہ رونما نہ ہوا تو عمران خان کے پاس لے دے کر ایک ہی دلیل رہ جائے گی کہ ایک صوبے کی حکومت لے کر ہم کچھ زیادہ نہیں کر سکتے تھے سو نیا پاکستان بنانے کے لئے پورا پاکستان ان کے حوالے کیا جائے۔ سیاسی چالیں، یوٹرن، جوڑ توڑ اور سازشیں اپنی جگہ ،لیکن حتمی فیصلہ کارکردگی پر ہی ہو گا۔ یہ بات پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی پلے باندھ لینی چاہیے ،ایسا نہ کیا تو مشکلات کم ہونے کی بجائے اور بڑھ سکتی ہیں۔ویسے سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2018 ء میں ہونے کی صورت میں بھی دیہی سندھ پیپلز پارٹی اور شہری سندھ ایم کیو ایم کے ہاتھ ہی رہے گا۔ پیپلز پارٹی کی مشکل ،مگر یہ ہے کہ وہ محض ایک صوبائی پارٹی نہیں ،اسے قومی کردار ادا کرنے کے لئے کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہو گا۔ کئی مواقع بہرطور موجود ہیں۔ *

مزید : کالم