خیبرپختونخوا میں احتساب

خیبرپختونخوا میں احتساب

خیبرپختونخوا کے احتساب کمیشن نے غیر قانونی کان کنی، اور کرپشن کے الزام میں صوبائی وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی اور9 سرکاری افسروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ کمیشن کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ملزموں کے خلاف چند ماہ قبل تحقیقات شروع ہوئی تھیں، جن کے نتیجے میں اُنہیں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا مرتکب پایا گیا، اور اب مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ احتساب کا ادارہ قائم کریں گے، اور اس کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ اب ضیاء اللہ آفریدی کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑے گا اگر وہ عدالت سے بری ہو گئے، تو انہیں بحال کر دیا جائے گا۔

تحریک انصاف کی قیادت کو اس پر خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے کہ اُس نے احتساب کا ایسا نظام قائم کیا، جو گڑے مردے اکھاڑنے تک محدود نہیں ہے۔ کسی دوسرے صوبے کو تاحال اِس طرح کا ادارہ قائم کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ایک ’’حاضر سروس وزیر‘‘ اور اُس کے شرکائے جرم کے خلاف کارروائی سے تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا کی حکومت کا وقار بلند ہو گا۔ وزیر موصوف اور ان کے ہم سفروں کو عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا پورا موقع ملناچاہئے، اور اگر وہ بے گناہی ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ان پر لگنے والا داغ دھل جائے گا۔پاکستان میں جب تک بروقت اور برموقع احتساب کی روایت مستحکم نہیں ہو گی، اُس وقت تک بدعنوانی کے طوفان کے سامنے رکاوٹ نہیں کھڑی کی جا سکے گی۔ آج تک احتساب کے سفر کو زیادہ تر سیاسی مخالفین سے نبٹنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے، اِسی لیے یہ اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے۔ مقدمات برسوں فائلوں میں دبے رہتے ہیں، اور جب ان کو جھاڑ پونچھ کر برآمد کیا جاتا ہے، تو محکمہ آثار قدیمہ کا حق ان پر فائق ہو چکا ہوتا ہے۔ منصفانہ احتساب کا تقاضہ ہے کہ نہ صرف مقدمات بلا رو رعایت قائم ہوں، بلکہ ان کا فیصلہ بھی جلد ہو۔ عدالتی کارروائی تیز رفتاری کے ساتھ مکمل ہونی چاہئے۔ *

 

مزید : اداریہ