بالآخر نواز شریف اورمودی مل بیٹھے

بالآخر نواز شریف اورمودی مل بیٹھے

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان بات مصافحے سے بڑھ کر ملاقات تک جا ہی پہنچی۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان گزشتہ روز روس کے شہر اوفا میں بات چیت ہوئی جو قریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ نواز شریف اور نریندرمودی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے روس میں موجود تھے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی کو شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت بھی دے دی گئی، اس سے پہلے وہ صرف مبصر کی حیثیت رکھتے تھے۔ 2011ئمیں یہ تنظیم بنی اوراب یہ پہلا موقع ہے کہ اس میں توسیع کی گئی ہے۔پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے رہنما متفق تھے کہ جامع مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔دونوں ممالک نے دہشت گردی کی سخت مذمت کی،وزرائے اعظم نے اتفاق کیا کہ امن کو یقینی بنایا جائے اور ترقی کو فروغ دینا پاکستان و بھارت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لئے دونوں ممالک تمام تنازعات پر بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ڈی جی بارڈر سیکیورٹی فورس اور ڈی جی رینجرز کے درمیان میٹنگ کے بعد ڈی جی ایم اوز کے درمیان بھی ملاقات ہو گی۔ ملاقات میں مذہبی امور کی ادائیگی کے لئے آنے اور جانے والوں کے لئے میکنزم بنانے اوران کو سہولت مہیاکرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

پاکستان نے بھارت سے کہا کہ وہ ممبئی کیس سے متعلق مزید ثبوت فراہم کرے، اس کے بعد یہ معاملہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔دونوں ممالک نے زیر حراست ماہی گیروں کو ان کی کشتیوں سمیت پندرہ دن میں رہا کر نے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔نواز شریف نے نریندر مودی کو اگلے سال پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی جسے بھارتی وزیر اعظم نے قبول کر لیا ۔میڈیاذرائع کے مطابق نواز شریف نے نریندر مودی کے سامنے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کی پاکستان میں دخل اندازی کا معاملہ بھی اٹھایااور بھارتی ہم منصب سے مطالبہ کیاکہ پاکستان مخالف راکی سرگرمیوں کو لگام دی جائے ،ایسی کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں ہیں۔پاکستان خطے میں ترقی اور امن کاخواہاں ہے اور تمام مسائل کا پرامن طریقے سے حل چاہتا ہے، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھاجائے۔دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات پر وائٹ ہاوس کے ترجمان کاکہناتھاکہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے یہ خوش آئندہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ملاقات کی خواہش کا اظہار بھارت کی طرف سے کیا گیا تھا جسے پاکستان نے بصد خوشی قبول کیا۔مبصرین کے مطابق مودی نے نوازشریف کے ساتھ ملاقات بین الاقوامی دباؤپر کی، ونوں سربراہانِ حکومت نے ہنستے مسکراتے مصافحہ کیا اور خوشگوار ماحول میں بات چیت کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو تو نہیں کی، لیکن یہ ضرور بتا دیا کہ وہ اس میٹنگ سے خوش ہیں۔

دونوں رہنماوں کے درمیان آخری دو طرفہ ملاقات 27 مئی 2014ء کو ہوئی تھی، جب مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف سمیت سارک ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا۔ اس کے بعد نریندر مودی اور نواز شریف ستمبر میں نیویارک میں اکٹھے تو ہوئے، لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔ نواز شریف نے وہاں جنرل اسمبلی میں کشمیر کا معاملہ اٹھایا تو بھارت نے اسے اپنا اندرونی مسئلہ قرار دے دیا۔پھر گزشتہ سال اکتوبر میں کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کا آمنا سامنا ہوا، مصافحہ بھی کیا گیا، لیکن باقاعدہ بات چیت نہیں ہو سکی۔ملاقات تو نہ ہوئی، لیکن مصافحے نے خوش فہمیاں پیدا کر دیں کہ شائد برف پگھل جائے، لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ تلخیاں بڑھتی ہی چلی گئیں۔بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر بمباری کا سلسلہ شدید ترہو تا گیا۔اس تلخ ماحول میں نریندر مودی نے نواز شریف کو فون کر کے کرکٹ ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے’شبھ کامنائیں‘ دیں اور اپنے سیکر یٹری خارجہ کو پاکستان بھیجنے کا وعدہ بھی کیا، سیکرٹری خارجہ پاکستان آئے بھی، لیکن کچھ خاص افاقہ نہیں ہوا۔ بھارتی وزیر اعظم کے 1971میں پاکستان کی تقسیم سے متعلق ’اعترافِ جرم‘ نے پاکستان کے زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کیا۔ساتھ ہی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاک چین اقتصادی راہدری منصوبے کو ناقابل قبول قرار دے دیا ۔یہ اور بات کہ روس ہی میں جمعرات کو چینی صدر شی نے ملاقات کے دوران پھرمودی کے تمام تحفظات مسترد کر دئیے۔ ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کے معاملے پر چین کا موقف تھاکہ بھارت کا پاکستان پر پابندی کو ویٹو کرنے پر واویلا فضول ہے۔واضح رہے کہ جون میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی کمیٹی میٹنگ میں بھارت نے ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت پر رہائی کے خلاف بہت واویلا مچایا تھا، اس کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پاکستان سے باز پرس کی جائے، لیکن چین آڑے آ گیاتھا۔چین نے بھارتی قرارداد کو ویٹو کر دیا،جس کی وجہ سے معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا،لیکن پھر اقوام متحدہ کی کمیٹی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی اے) نے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شامل کر لیا۔یہی نہیں بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان میں دہشت گردی کی دھمکی دے ڈالی تو ہمارے وزیر دفاع نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے بھی ایٹمی ہتھیار دیکھنے کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔جیسے بم چلانا کوئی بچوں کا کھیل ہو۔سشما سوراج نے تو اب بھی مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے مذاکرات پر سوالیہ نشان لگانے کی بات کر دی ہے، حالانکہ اسے حل کرنا شملہ معاہدہ کی رو سے بھی ضروری ہے۔ بہر حال تلخ ہوتے حالات میں یہ ملاقات تازہ ہوا کا جھونکا تھی،دونوں ممالک کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے اپنے معاملات حل کریں،ایک دوسرے کوڈرانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔بھارت کے ساتھ ساتھ ہمیں ذراخود بھی اپنے معاملات پر غور کرنا چاہئے،جائزہ لینا چاہئے کہ اس عرصے میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ دونوں ممالک کو یہ بات سمجھنی چاہئے ،ہر مسئلے کے حل کے لئے بالآخر میز پر بیٹھنا ہی پڑتا ہے۔پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی نبھانے کے لئے نہیں بنے ہیں،دونوں کے درمیان بات چیت کا جو عمل شروع ہوا ہے اسے ہر حال میں جاری رہنا چاہئے،کسی بھی طور منقطع نہیں ہوناچاہئے۔ امریکہ اور چین ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف قدم کیوں نہیں بڑھا سکتے؟ دونوں ممالک کا مفاد ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

مزید : اداریہ