سپورٹس سکالر شپ پر امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی لگن

سپورٹس سکالر شپ پر امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی لگن

لاہور(آن لائن)پاکستان میں ٹینس کھیلنے والے نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس دکھائی دیتے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی اس کھیل سے جڑے رہنے کی واحد وجہ سپورٹس سکالر شپ پر امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ پانے کی لگن ہے جو کہ انہیں کھیل کو جاری رکھنے پر مجبور رکھتی ہے۔ پاکستان میں ٹینس کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے معروف اور کئی درجن ٹینس سٹارز کی تربیت کرنے والے محبوب خان کہتے ہیں کہ ماضی میں یہ رجحان صرف ان کھلاڑیوں میں دکھائی دیتا تھا جو کہ ٹینس میں زیادہ نام پیدا کرنے کی سکت نہ پاتے تھے تاہم اچھی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کی خواہش انہیں کھیلنے پر اکساتی تھی تاہم اب ٹاپ پلیئرز بھی ایسا ہی کررہے ہیں جو کہ بڑھتی ہوئی مایوسی کی واضح علامت ہے۔ خود محبوب خان کی بیٹی سارہ محبوب چھ برس تک قومی نمبر ایک رہیں تاہم اس کے بعد انہوں نے امریکی ریاست ورجینیا کی جیمز میڈیسن یونیورسٹی سے حاصل کردہ ڈگری کی بنیاد پر نوکری کی تلاش شروع کردی۔

سارہ کی حریف اور قومی نمبر دو نے بھی یہی راستہ اپنایا۔اس مایوس کن رجحان کی سب سے بڑی وجہ معاشی مشکلات ہیں۔فنڈز کی کمی کی وجہ سے کھلاڑیوں کی تربیت پر وہ اہتمام نہیں ہوپاتا ہے جو کہ ہونا چاہئے جبکہ پروفیشنل سرکٹ میں کھیلنے کیلئے پیسہ ہی اولین شرط ہے۔ اس بارے میں سارہ محبوب کہتی ہیں کہ پاکستان کی خواتین ٹینس سٹارز کو سپانسرز ڈھونڈنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔جس وقت پاکستانی اعصام الحق ڈبلز کی عالمی رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن تک گئے تو قومی ٹینس کھلاڑی بھی بے حد پرجوش ہوگئے تھے۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ اب ملک میں ٹینس کے دن پھرنے والے ہیں تاہم اس جوش کو نہ تو اعصام الحق کی رینکنگ پوزیشن برقرار رکھ سکی اور نہ ہی حکومت کوئی امید کی کرن دکھا کے یہ جوش بڑھا سکی اور اب صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد کلب میں محبوب خان کی کوچنگ میں کھیلنے والے دس، گیارہ سال کے بچے بھی صاف کہتے ہیں کہ ٹاپ پوزیشنز پر پہنچنا ان کا خواب نہیں بلکہ وہ صرف اس حد تک کھیلنا چاہتے ہیں جہاں سے امریکی کالجز ،یونیورسٹیوں میں ان کی رسائی ممکن ہوسکے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی