اُمّتِ مسلمہ ،حضرت علیؓ کے نقشِ قدم پرچل کرکھویا ہوامقام بحال کرسکتی ہے،شہر یا رسلطان

اُمّتِ مسلمہ ،حضرت علیؓ کے نقشِ قدم پرچل کرکھویا ہوامقام بحال کرسکتی ہے،شہر ...

لاہور (ڈویلپمنٹ سیل) امیر المؤمنین ، خلیفہ راشد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمانِ خالص ،یقینِ مستحکم اور عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے فضائل ومناقب اور کردار و کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے مثالی معاشرے کی تشکیل فرمائی جس میں اعلیٰ انسانی اقدار کو تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کو فروغ میسر آیا ۔ آپؓ کا عہدِ خلافت اخوت ،مساوات اورعدلِ اجتماعی کا مظہر اور بلند نصب العین کا آئینہ دار تھا۔ آپ نے اپنے عہدِ خلافت میں پیدا شدہ فتنوں اور رخنوں کو نیشت ونابود کرکے ، جس جرأت واستقلال اورثابت قدمی کا ثبوت دیا، وہ رہتی دنیا تک اُمّت کے لیے مشعل راہ ہے ۔ان خیالات کااظہار سیکرٹری وچیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب محمد شہر یار سلطان، ڈائریکٹرجنر ل اوقا ف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے محکمہ اوقاف ومذہبی امور کے زیر اہتمام منعقدہ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اُمّتِ مسلمہ ،حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنا کھویا ہوا اعزاز اور وقار بحال کرسکتی ہے ۔

ایوان اوقاف لاہو رمیں منعقدہ کانفرنس ، جس میں تمام مکاتب فکر کی معتبر علمی اور دینی شخصیات نے شرکت کی ،کے جملہ مقررین اورشرکاء نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور دین اسلام کے حوالے سے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ۔مقررین جن میں مولانا مفتی محمد اقبال چشتی امیر جماعت اہل سنت صوبہ پنجاب،علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر پرنسپل ادارہ منہاج الحسین، مولانا سیّدعبدالخبیر آزاد خطیب بادشاہی مسجد ، ڈاکٹر عبدالغفور راشدمرکزی جمعیت اہلحدیث، مفتی محمد رمضان سیالوی خطیب جامع مسجد داتا دربار،مولانا محمدعارف سیالوی ، مفتی محمد اسحاق ساقی الازہری، مفتی انتخاب احمدنوری بطور خاص شامل تھے، نے کہا کہ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ بصیرت وتدبر ، عزم واستقلال ،وفاداری وفداکاری اور ایثار وانفاق کا عظیم مرقع اور ہر دور میں اہل حق اور متلاشیانِ ہدایت کے لیے نمونہ کامل تھے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4