اب پاکستان اور بھارت سارک کے ساتھ ساتھ ایس سی او میں بھی اکٹھے ہوں گے

اب پاکستان اور بھارت سارک کے ساتھ ساتھ ایس سی او میں بھی اکٹھے ہوں گے
اب پاکستان اور بھارت سارک کے ساتھ ساتھ ایس سی او میں بھی اکٹھے ہوں گے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

روس کے شہر ”اوفا “میں اصل پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او ) کارکن بنالیا گیا ہے،یوں اب دونوں متحارب ملک ”سارک “ کے ساتھ ساتھ ایس سی او میں بھی اکٹھے بیٹھا کریںگے۔ بھلے سے یہ نشست و برخاست معنا ”نشتند ، گفتند و برخاستند “ سے مختلف نہ ہو، اس سے پہلے سارک میں دونوں ملک اکٹھے ہیں لیکن یہ تنظیم اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات کو یرغمال کر چکی ہے ۔ اس کے بعد بننے والی علاقائی تنظیموں نے زیادہ بہتر ادب اختیار کر لیا لیکن سارک پر دونوں ملکوں کے تعلقات کا گہرا سایہ اس حد تک پڑا رہتاہے کہ تنظیم خطے کی ترقی میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کرپائی،کبھی کھٹمنڈو میں جنرل پرویز مشرف مصافحہ کے لئے گھٹنوں کی تکلیف کے باعث کرسی پر بیٹھے ہوئے واجپائی کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں اورکبھی اسی شہر میں نواز شریف اور نریندر مودی کا آمنا سامنا بھی صرف مصافحے تک محدود رہتا ہے۔اب بھی اگر دونوں ملک تعلقات کی بہتری کی جانب کوئی مثبت ، تعمیری اور نتیجہ خیز قدم نہیں اٹھاتے تو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس ای او ) کے اجلاسوں میں بھی پاک بھارت وزیر اعظم ایک دوسرے سے مصافحے کرلیا کریں گے اور بس۔سارک میں بھارت سب سے بڑا ملک ہے اور پاکستان کے سوا اس کی ٹکر کا کوئی دوسرا ملک اس تنظیم میں نہیں،لیکن ایس سی او کے رکن ممالک میں تو دو ایسے ملک شامل ہیں جن کے پاس سلامتی کونسل میں ویٹو پاور نے یہ دو ملک روس اور چین ہیں۔توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ دونوں ملک اس تنظیم کے بڑوں کی حیثیت سے پاکستان اوربھارت کے تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کرداراداکریںگے۔65ءکی جنگ کے بعد روس نے پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو تاشقندآنے کی دعوت دی تھی،یہاں اس نے اپنی سفارتی مہارت سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ کرایا جو تاریخ میں ”معاہدہ تاشقند “ کے نام سے جانا گیا ۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے تعلقات کی بہتری کا عہد کیا،سرحدوں پر بیٹھی ہوئی افواج واپس گئیں،لیکن چھ سال بعد دونوں ملک ایک اور جنگ میں الجھ گئے،جومشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر منتج ہوئی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا، اسی جنگ کا کریڈٹ حال ہی میں ڈھاکہ (بنگلہ دیش)میں نریندرمودی نے لینے کی کوشش کی۔حالانکہ اس وقت بی جے پی کا بھارتی سیاست میں زیادہ کردار نہ تھا ،حملہ اندراگاندھی نے کیا تھا جو کانگریس کی رہنما تھیں۔

اوفا میں وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کے لئے پہلے نریندر مودی کی جانب سے ہوئی تھی، ایسی ملاقاتوں سے کوئی ڈرامائی امید یں وابستہ نہیں کی جانی چاہیں اورنہ دونوں ملکوں کے گنجلک تعلقات کی گتھی ایسی ملاقات سے سلجھ سکتی ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ اس کے بعد معاملات بہتری کی جانب گامزن ہو جائیں لیکن ملاقات سے پہلے بھارتی وزیرخارجہ شمسا سوراج نے جس قسم کا بیان دیا اگر ایسے ہی بیانات دئیے جاتے رہیں تو اصلاح احوال کی ساری امید یں دم توڑ جائیںگی۔

نریندر مودی جب سے برسر اقتدار آئے ہیں ان کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آرہے ہیں، وہ بچپن میں چائے کے کھوکھے پر چائے بنایا کرتے تھے ،چنانچہ انہوںنے اپنی اس مہارت کا اظہارامریکی صدر بارک اوباما کو خود اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر کیا۔مودی کی اس چائے سے اوباما کے دل پر کچھ اثر کیا یا نہیں، لیکن ان کی شخصیت کا ایک پرت ضرور کھل گیا ہے۔ اس ملاقات میں وہ دس لاکھ کا سوٹ پہن کر آئے جس پر ان کا نام بنا ہوا تھا ، پھر یہ سوٹ کئی کروڑ میں نیلام کر دیا گیا ، نواز شریف کے ساتھ ملاقاتوں کے سلسلے میں بھی یہ ڈرامائی عنصر ہم دیکھتے ہیں۔انہوں نے جب حلف اٹھایا تو تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف کو دلی آنے کی دعوت دیدی، جس پر پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ کیا نواز شریف کو جانا چاہیے یا نہیں،بالآخر نواز شریف چلے گئے اور مودی کی بوڑھی والدہ کے لئے تحائف بھی لئے گئے، جواب میں انہیں مودی کی طرف سے بھی تحائف ملے لیکن جہاں دل نہ ملتے ہوں وہاں تحائف ملنے سے کیا فائدہ ؟ توقع تھی کہ معاملات آگے بڑھیں گے لیکن مودی نے یکایک کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر شعلہ اگلنے شروع کر دئیے۔کئی ماہ تک یہ محاذ گرم رہا جس کا مقصد کشمیر کے ریاستی اور بعض حلقوں کے ضمنی انتخاب جتنا تھا ،گزشتہ برس 25اگست کو دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات طے تھی کہ ہفتہ پہلے نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے حریت رہنماﺅں سے ملاقات کرلی،جسے بہانہ بنا کر یہ مذاکرات ختم کر دئیے گئے۔ البتہ اس سال فروری میں بھارتی سیکرٹری خارجہ نے ایس جے شنکر نے اسلام آباد کا دورہ کیا تو مذاکرات کے آغاز کی امید بندھی، لیکن تا حال پیشرفت نہیں ہوئی ۔

اب اوفا ملاقات کے نتیجے میں نریندر مودی نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر لی ہے۔یہی دورہ بنیادی طور پر تو سارک سربراہ کانفرنس کے سلسلے میں ہی ہوگا البتہ سائیڈ لائن پر اس موقع پردونوں ملکوں کی قیادت بھی مل بیٹھے گی یا یہ سارک سربراہ اجلاس سے فراغت کے بعد مودی باقاعدہ ”دورہ پاکستان“شروع کریں گے ،جو بھی صورت ہو۔ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتاہے لیکن اس سے پہلے شمسا سوراج جیسے وزیروں کو اپنے طرز عمل بدلنا ہوگا۔ یہ وہی شمسا سوراج ہیں جنہوں نے دوسرے عقابوں سے مل کر جنرل پرویز مشرف کے دورہ آگرہ کے بعد مشترکہ اعلان تک جاری نہ ہونے دیا تھا اور اعلان کا جو مسودہ تیار ہو رہا تھا اس میں بار بار کی ترمیموں سے اتنی تاخیر ہوگئی کہ جنرل پرویز مشرف غصے کی حالت میں آدھی رات کو واپس آگئے ۔اگر ملاقاتوں اور اعلانوں کا یہی نتیجہ نکلتا ہے تو پھر ان تکلفات کی ضرورت ہی کیا ہے جو ”مذاکرات“کے نام پر کئے جاتے ہیں ۔اب اوفا جو دس نکاتی مشترکہ اعلان جاری ہوا ہے اس کا پہلا نکتہ ہی یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام حل طلب معاملات پر بات کرنے پر متفق ہیں، جامع مذاکرات کا عمل شروع ہوتاہے تو اس پر لازماً مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوگی۔ اس طرح نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ہوگی جس میں دہشت گردی کے متعلق تمام امور زیر بحث آئیںگے۔یہ سب اپنی جگہ لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا میکا نزم بھی بنایا گیا ہے جو مذاکرات کو نشستن اور گفتن سے آگے لے جائے ؟

مزید : تجزیہ