خدارا ہمت کیجئے

خدارا ہمت کیجئے
خدارا ہمت کیجئے

  

ویسے تو گرمی بھی خدا کی نعمت ہے کہ پہاڑوں سے برف پگھلتی ہے، فصلیں اور پھل پکتے ہیں اور کاروبار حیات رواں رہتا ہے ،لیکن کیا کریں گرمی کا تصور آتے ہی ہوش ربا لوڈشیڈنگ کی اذیت سوہان روح بن جاتی ہے اور ان دیکھا خوف منڈلانے لگتا ہے کہ واپڈا کے بجلی کے بل موسم گرما میں کیسے ادا کریں گے اور لوڈشیڈنگ سے بچاؤ کے لئے کیا کریں گے، لاہور والے تو اس سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں قدرے سکھ میں ہیں، لیکن یہ گرمی کراچی والوں پر اس سال قیامت بن کر ٹوٹی ہے۔ ظاہر ہے جو لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ان کے لئے تو قیامت آگئی اس دفعہ یہ قیامت کسی دہشت گرد خود کش بمبار یا ٹارگٹ کلر نے برپا نہیں کی، بلکہ لوڈشیدنگ نے ایک ہی ہفتے میں ایک ہزار انسانوں کی جان لے لی۔ یہ معرکہ تو کوئی اور انجام نہ دے پایا تھا، بیشتر پر اتنے برے حالات تو کبھی نہیں گزرے کہ مردوں کو دفنانے کے لئے جگہ کم پڑجائے۔ حسب معمول سب سیاسی جماعتیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہیں اور جلوس و دھرنے دے کر، ٹریفک جام کروا کر اور شدید گرمی میں لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر اُکسا کر شاید یہ گرمی سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ چاہتی ہیں یا دوسرے علاقوں کو درد آشنا کرنا چاہتی ہیں، وجہ جو بھی ہو، اب عوام کو مزید بے وقوف نہ بنایا جائے۔ صوبائی حکومت سارا مدعا وفاق اور وفاقی حکومت صوبے پر ڈال کر بری الذمہ نہ ہو ،بلکہ عوام کو حقائق بتائے جائیں کیونکہ پچھلے 25 سالوں سے مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرکے واپڈا کو دیوالیہ کیا گیا؟ عوام کے بل دینے کے باوجود بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں حکومت کو نادہندہ قرار دے کر پیداوار کیوں کم کرتی ہیں؟ کرکٹ میچ یا خاص قومی مواقع پر بجلی کہاں سے پوری ہوجاتی ہے؟ ان سوالات کا جواب آج تک کسی نے دینا ضروری نہیں سمجھا۔ خدا بھلا کرے خواجہ آصف کا کہ اپوزیشن کی تنقید سے تنگ آکر انہوں نے ان سوالوں کا جواب قومی اسمبلی میں دینا شروع کیا اور بتایا کہ کن علاقوں کے لوگ بجلی چور ہیں؟ کہاں سے بل پورا ملتا ہے؟ واپڈا کیسے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی نادہندہ بنتی ہے؟ ان کی تقریر جو قومی اسمبلی سے براہ راست آرہی تھی اُس کا سب سے دلچسپ حصہ تب آیا جب وزیر بجلی و پانی بجلی چوروں اور نادہندگان کے نام بتانے لگے، لیکن افسوس ابھی 20 پس پردہ کرم فرماؤں کے نام آئے تھے کہ جناب سپیکر نے فوراً شرفاء کو بچانے کے لئے رولنگ دے دی کہ نام نہ بتائیں۔ میرا سوال ہے کیوں نہ بتائیں؟ جو لوگ اور ادارے بل جمع نہ کروا کر خسارے اور نتیجتاً لوڈشیڈنگ کے مرتکب ہوئے ان کے نام پوشیدہ رکھنا کون سے قومی مفاد میں ہے؟

خدارا اب تو سیاسی مصلحت چھوڑیں اور ان تمام افراد کے ناموں کی تشہیر کی جائے جو نادہندہ ہیں اور قومی اداروں کا خون چوس کر خسارے میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کا باعث بن رہے ہیں۔ ان افراد پر تو 62 اور 63 کی شق اور آرٹیکل چھ عائد ہوتا ہے۔ کاش! الیکشن کمیشن ہمت کرے اور ان کو عوامی نمائندگی کے لئے نااہل قرار دے۔ حکومت کو خود بھی ہمت کرنی چاہیے۔ کاش! سیاسی جماعتیں ہمت کریں اور ایسی کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے نکالیں کہ احتجاج کرنے والی پارٹیوں تحریک انصاف اے این پی اور پیپلزپارٹی کے حلقہ ہائے انتخاب میں نادہندگان کی شرح زیادہ ہے۔ اگر ان سب نے ہمت نہ کی تو گرمی اور لُو سے مرنے والے ہزار لوگوں کا خون ناحق ان سب کے کندھوں پر ہوگا۔

اگر زیادہ ہمت نہیں کرسکتے تو آئندہ خون ناحق سے بچنے کے لئے اتنا ہی کردیں کہ ہر فیڈر اپنے صارفین کو موبائل کارڈ کی طرز پر پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ بجلی کارڈ جاری کرے، جن سے بجلی کو جاری رکھا جاسکے۔ اس طرح صرف نادہندہگان بجلی کی لوڈشیڈنگ برداشت کریں گے اور عام ذمہ د ار پاکستانی صارف نادہندگان کا بوجھ اپنی جیب سے ادا کرنے سے بچ جائے گا، کئی ممالک اس طرح کے تجربات پہلے ہی کررہے ہیں۔ اس طرح بدعنوانی، بجلی چوری اور بل نہ ریڈنگ جیسے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ بس تھوڑی ہمت کیجئے۔

مزید : کالم