تحریک آزادی کشمیر کے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان انتقال کر گئے

تحریک آزادی کشمیر کے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان انتقال کر گئے
تحریک آزادی کشمیر کے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان انتقال کر گئے

  

اسلام آباد،دھیرکوٹ(آن لائن ، مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این)آزادکشمیرکے سابق صدر ،سابق وزیراعظم اورتحریک آزادی کشمیرکے مجاہد اول سردارعبد القیوم خان طویل علالت کے بعد91برس کی عمرمیں خالق حقیقی سے جاملے،مرحوم کی نمازجنازہ شکرپڑیاں گراؤنڈ میں اداکی گئی جس میںآزادکشمیر اورپاکستان کے سیاسی رہنماؤں اور کور کمانڈر راولپنڈی سمیت دیگرافراد نے شرکت کی،تدفین (آج)ہفتہ کودن گیارہ بجے مرحوم کے آبائی علاقے غازی آباددھیرکوٹ میں اداکی جائے گی،آزادکشمیرحکومت نے سردارقیوم کے انتقال پرتین روزہ سوگ کااعلان کیاہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ طویل عرصے سے علیل مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ اورسابق صدراوروزیر اعظم آزادکشمیر سردارعبد القیوم خان جمعہ کی صبح انتقال کرگئے ۔ ان کی نمازجنازہ تیسرے پہرچاربجے شکرپڑیاں گراؤنڈ میں اداکی گئی جس میں آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر سردار غلام صادق،وزیراعظم چودھری عبدالمجید ،گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان، وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، مسلم لیگ(ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق، جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن ،مسلم لیگ (ن)آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری شاہ غلام قادر، حریت کانفرنس کے رہنما یوسف نسیم، جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے نائب وزیر غلام نبی نوشہری سمیت آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر سیاسی رہنماؤں اور کور کمانڈر راولپنڈی نے شرکت کی۔ سردارعبدالقیوم کشمیرکی آزادی کی تحریک کے بانی تھے اوروہ 4 مرتبہ آزادکشمیرکے صدر اور ایک باروزیراعظم کے عہدے پر فائزرہے۔سردار عبدالقیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہ مسلم کانفرنس کے سپریم لیڈر تھے۔ جب ڈوگرا حکمرانوں نے جموں کشمیر کے عوام کی خواہشات ماننے سے انکار کیا تو اس وقت سردار عبدالقیوم خان کی عمر 22 سال تھی۔ انہوں نے 23 اگست 1947 کو نیلہ بٹ کے تاریخی مقام پربھارت کے خلاف پہلی گولی چلا کرتحریک آزادی کشمیرکا آغازکیا تھا جس پر انہیں کشمیری عوام کی جانب سے مجاہداول کا خطاب دیا گیا جبکہ مورخین انہیں جموں کشمیر کی آزادی کے لئے تحریک چلانے والا پہلا شخص قراردیتے ہیں۔ سردارعبدالقیوم 1952 میں آزاد جموں کشمیر کے وزیرمنتخب ہوئے جبکہ 1956 میں آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل نے انہیں آزاد جموں کشمیر کا صدر منتخب کیا۔ ان کا تعلق ضلع باغ کے علاقے غازی آباد سے تھا۔ میٹرک کے بعد سردار عبدالقیوم نے برٹش انڈین آرمی کی انجیئنرنگ کور میں 1942 سے 1946 تک ملازمت کی، اس کے فوراً بعد انھوں نے کشمیر فریڈم موومنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے 14 بار صدر منتخب ہوئے۔1971میں عام انتخابات کے ذریعے وہ آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ 1985 میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے بعد وہ صدر بن گئے، اور 1990 میں آپ چوتھی بار آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہو گئے۔1991 ء میں انھوں نے صدر کے عہدے سے استعفا دے کر وزارت عظمی کا قلم دان سنبھالا۔ 1996 ء میں وہ قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے اور 2001 میں دوبارہ قانون سازا سمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ سردار عبدالقیوم نے متعدد کتب اور مضامین بھی لکھے۔صدرممنون حسین،وزیراعظم نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،وزیراعظم آزادکشمیرچودھری عبدالمجید سمیت آزادکشمیراورپاکستان کے سیاسی رہنماؤں نے سردار عبدالقیوم کے انتقال پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیا۔

مزید : صفحہ اول