باسمتی چاول کی جغرافیائی پہچان کا مقدمہ آخری مراحل میں داخل

باسمتی چاول کی جغرافیائی پہچان کا مقدمہ آخری مراحل میں داخل

لاہور(نامہ نگار خصوصی )باسمتی چاول کی جغرافیائی پہچان کا مقدمہ آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے ۔انٹرنیشنل پراپرٹی ایپلٹ بورڈ (آئی پی اے ڈی )چنائی بھارت نے مقدمہ کی حتمی شنوائی کے لئے 3نومبر کی تاریخ مقرر کردی ہے ،بورڈ نے فریقین کو اکتوبر تک تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ،بورڈ نے باسمتی گروورزپٹیالہ اور پنجاب (بھارت)کو مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دے دی ہے تاہم یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ آئندہ کسی فرد یا تنظیم کو مقدمہ میں فریق نہیں بنایا جائے گا اور اس کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے گا ۔باسمتی چاول پاکستانی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے اور یہ اپنی اعلیٰ خصوصیات ،ذائقہ اور خوشبو کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے اور پاکستانی چاول کے نام سے ہی جانا جاتا ہے تاہم کچھ بھارتی علاقوں میں پیدا ہونے والے چاول کو باسمتی کا نام دے کر عالمی منڈی میں فروخت کیا جانے لگا جسے پاکستانی باسمتی گروورز ایسوسی ایشن نے اس بنیاد پر چیلنج کررکھا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق کہ زرعی اور قدرتی پیداوار کے حقوق کو جغرافیائی پہچان قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے ،یہ چاول پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوتا ہے اور یہ انہی علاقوں کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کی مختلف ریاستوں میں یہ چاول پیدا ہوتا ہے ۔پاکستانی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق جغرافیائی پہچان کے علاقوں کے سوادیگر کسی جگہ پر پیدا ہونے والے چاول کو باسمتی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

مزید : صفحہ آخر