’’را ‘‘کو لگام دیں ،نواز شریف کا مودی سے مطالبہ

’’را ‘‘کو لگام دیں ،نواز شریف کا مودی سے مطالبہ

اوفا(آن لائن ،اے این این)وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے دہشتگردی کارروائیوں میں ملوث ہے، اسے لگام دی جائے ۔وزیراعظم نے ایم کیوایم اور’’را‘‘ کے تعلقات پر بی بی سی کی رپورٹ کے حوالے سے بھی نریندرمودی کو آگاہ کیا۔جمعہ کو روس کے شہر اوفا میں وزیراعظم شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا ٹائم تیس منٹ مقرر تھا تاہم یہ ترپن منٹ تک جاری رہی ۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان ماہی گیروں کی رہائی ، مذہبی زائرین کے لئے سہولتوں اور خطے سے دہشتگردی کے خاتمے پر بھی غورکیا گیا ۔پاک بھارت وزر اعظم نے دونوں ملکوں کے مابین ماحول مثبت بنانے پر اتفاق کیا ۔ملاقات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بڑھانے پر زور دیا ۔وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے ہم منصب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر واضح کیا کہ پاکستان کو غیرمستحکمکرنے کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ وزیراعظم نوازشریف نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’را‘‘پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ نوازشریف نے زوردیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پاکستان مخالف سازشوں اور سرگرمیوں کو لگام ڈالی جائے۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان ایک اچھا ہمسایہ بننے کے ساتھ ساتھ بھارت سے کشمیر اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل کو پرامن طریقہ سے حل کرنا چاہتا ہے ۔پاکستان خطے میں معاشی اور اقتصادی کا ترقی کا خواہاں ہے مگر ہماری اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اقتصادی راہداری منصوبے پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مفادات کا ہرقیمت پر دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا مگرہم اپنا اور اپنے مفادات کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ملاقات میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک ہوئے ۔ اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف جب ہوٹل سے اوفا کے کانگریس ہال پہنچے تو ملاقات کے منتظرنریندر مودی نے ان کا استقبال کیا اور ان سے ہاتھ ملایا ۔ مجوزہ ملاقات کی خواہش کا اظہار بھارتی حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا جس کا حکومت پاکستان نے مثبت جواب دیا ۔ ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں نے مشترکہ اعلامیہ میڈیا کو پڑھ کر سنایا۔سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ دونوں سربراہوں کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیالات ہوا ، دونوں سربراہوں نے اتفاق کیا کہ امن کو یقینی بنانا اور ترقی کو فروغ دینا پاکستان اور بھارت کی مجموعی ذمہ داری ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان تمام غیر معمولی ایشوز پر بات کرنے پر اتفاق ہوا ، ملاقات میں ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کی گئی اور جنوبی ایشیا کو دہشتگردی سے پاک کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے دہشتگردی سے جڑے معاملات کے حل کے لئے ایک دوسرے کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسیز کی ملاقات پر اتفاق کیا ہے ،ایک دوسرے کی تحویل میں تمام ماہی گیروں کی پندرہ رو ز میں رہائی پر اتفاق ہوا ہے ۔ گزشتہ سال کھٹمنڈو میں بھی دونوں وزرائے اعظم کے درمیان رسمی ملاقات ہوئی تھی ۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق امریکہ نے پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے اورکہا ہے کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کا منصفانہ حل چاہتا ہے ۔بھارت کی خواہش پرروس کے شہر اْوفا میں پاک بھارت وزرائیاعظم کی ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کا عزم کیا جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دورہ پاکستان کی وزیراعظم نواشریف کی دعوت بھی قبول کرلی ،روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی۔ ملاقات میں وزیر اعظم نوازشریف کے ساتھ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی میں بھی موجودتھے جبکہ بھارتی سیکرٹری خارجہ،قومی سلامتی کے مشیراورترجمان وزارت خارجہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی معاونت کی۔ملاقات کے بعد پاک بھارت سیکریٹری خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا ، سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے بتایا کہ دونوں سربراہوں کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ، جس میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات ہوئی ، دونوں سربراہوں نے اتفاق کیا کہ امن کو یقینی بنانا اور ترقی کو فروغ دینا پاکستان اور بھارت کی مجموعی ذمہ داری ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان تمام غیر معمولی ایشوز پر بات کرنے پرا تفاق ہوا ہے ، ملاقات میں ہر قسم کی دہشت گری کی مذمت کی گئی اور جنوبی ایشیا کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر بھارت سیکریٹری خارجہ نے مشترکا اعلامیہ کے مزید نکات بتائے اور کہاکہ دونوں ملکوں نے دہشت گردی سے جڑے معاملات کے حل کے لیے ایک دوسرے کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی میٹنگز پر اتفاق کیا ہے۔پندرہ دن کے اندر ایک دوسرے ملک کی تحویل میں تمام ماہی گیرں کی رہائی پر اتفاق ہوا ہے۔مذہبی رسومات کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں میں زائرین کو سہولیات دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ممبئی حملوں کے کیس کو تیزرفتاری سے حل کرنے اور آوازوں کے نمونے سمیت اضافی معلومات دینے پر اتفاق ہوا ہے۔بھارتی سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ نریندر مودی نے نوازشریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ اگلے سال سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔

اوفا (مانیٹرنگ ڈیسک228 اے این این ) وزیراعظم نوازشریف اور چینی صدر شی چن پنگ کے درمیان ملاقات میں اقتصادی راہدری منصوبے سمیت اہم دو طرفہ امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ تقریباً 30منٹ تک جاری رہنے والی ملاقا ت میں مشیر خارجہ سر تاج عزیز اور طارق فاطمی نے بھی شرکت کی ، چینی وزیر خارجہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں مثبت کردار کے لئے تیار ہیں ۔ ایس سی او میں مستقل رکنیت کے لئے چین کے تعاون کی قدر کرتے ہیں جبکہ اقتصادی راہداری میں شی چن پنگ کی دلچسپی سراہنے کے لائق ہے۔ چینی صدر اور خاتون اول کے دورہ پاکستان نے عوام کے دل جیت لئے ۔ نوازشریف نے کہا کہ چین پاکستان کا بہتر ین دوست ہے پاک چین دوستی قابل فخر ہے ۔شی چن پنگ نے کہا ہے کہ پاکستان سے تعلقات چین کا اولین ایجنڈا ہے ، صدر پاکستان کے دورہ چین کے منتظر ہیں ،چین پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے ، چینی صدر نے رواں سال بیجنگ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کو دعوت دی ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر افغانستان کے صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی غرض سے باہمی تعاون پر زوردیا۔

مزید : صفحہ اول