قومی اسمبلی کو 15دن کے اندر ارکان کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

قومی اسمبلی کو 15دن کے اندر ارکان کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) صدارتی حکم نامہ میں پلڈاٹ کی اپیل منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو 15دن کے اندر ارکان قومی اسمبلی کا حاضری کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ۔صدارتی حکم میں محتسب کا یہ فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی جانب سے حاضری کا ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار ’’جمہوری روح کی مطابقت میں نہیں ہے اور قرار دیاہے کہ ارکان قومی اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ ’’نجی یا ذاتی نوعیت کا نہیں ‘‘ بلکہ ’’عوامی نوعیت ‘‘ کا ہے اور ’’لوگوں کو ان معلومات سے انکار جمہوری عمل نہ ہوگا۔قومی اسمبلی کی جانب سے بار بار انکار کے بعد پلڈاٹ نے معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت 2013میں ارکان قومی اسمبلی کی حاضرین کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔ اکتوبر2013میں وفاقی محتسب نے ارکان قومی اسمبلی کی حاضری سے متعلق عوامی معلومات کے حوالے سے پلڈاٹ کے موقف کو درست قرار دیا تھا۔ قومی اسمبلی کی جانب سے صدر مملکت کو وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف کی جانے والی اپیل کو صدر نے 6جولائی 2015کو مستر د کردیا۔صوبائی اسمبلی پنجاب پہلے ہی ارکان صوبائی اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ اپنی ویب سائٹ پر شائع کر رہی ہے۔سالہا سال سے پارلیمنٹ اورصوبائی اسمبلیوں میں شفافیت کی کاوشوں میں مصروف پلڈاٹ کی رائے ہے کہ معزز عوامی نمائندگان کی حاضری کا عوامی ریکارڈجمہوریت کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک ہے۔دوسری جانب ستم ظریفی یہ ہے کہ قومی اسمبلی نے شفافیت اورعوامی رسائی کے تمام تقاضوں کے برعکس مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ارکان اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ عوامی دسترس میں نہیں دیا جا سکتا۔ قومی اسمبلی کا یہ اقدام ملکی اوربین الاقوامی دونوں کی اچھی پارلیمانی روایات کے برعکس تھا ۔ دوسری جانب شفافیت کی مثال دیکھئے کہ پنجاب اسمبلی نے اپنے ارکان کی حاضری کا ریکارڈاپنی ویب سائٹ پر دینا شروع کر دیا ہے۔ لہٰذا قومی اسمبلی کی جانب سے مزاحمتی رویہ نہ صرف نا قابل فہم ہے بلکہ بلا جواز ہے ۔شفافیت کے معیار ،آسان رسائی کے فقدان اور پاکستان میں حق معلومات کے موجودہ قانونی نظام میں خامیوں کا اندازہ یوں لگایا جا سکتاہے کہ ارکان قومی اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ طلب کرنے سے لے کر صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کی اپیل مسترد کئے جانے میں تقریباً اڑھائی سال کا عرصہ لگ گیا۔ 2007میں وفاقی محتسب نے پلڈاٹ کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو ہدایت کی تھی کہ پلڈاٹ کو ارکان قومی اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ فراہم کیا جائے ۔جولائی2015ء میں صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ ارکان اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ 15یوم میں فراہم کیا جائے۔ اب پلڈاٹ صدارتی حکم نامے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے عملدرآمد اورمقررہ وقت مدت میں حاضری کے ریکارڈ کی وصولی کا منتظر ہے۔امید کی جاتی ہے کہ صدارتی حکم نامے کے پیش نظر اورپنجاب اسمبلی کی روشن مثال کی پیروی میں قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیاں بھی پارلیمانی شفافیت کی اس روح کا مظاہرہ کریں گی۔

مزید : صفحہ اول