ٹائنو سیرپ سے ہلاکتیں، وفاقی وصوبائی حکومت کو رپورٹ پیش کرنیکاحکم

ٹائنو سیرپ سے ہلاکتیں، وفاقی وصوبائی حکومت کو رپورٹ پیش کرنیکاحکم

لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا انتظامیہ کا کام ہے حکومتوں کا نہیں، حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں،عدالت نے وفاقی وصوبائی حکومت کو 28ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر جواب اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے، مسٹر جسٹس محمد فرخ عرفان خان کے روبرو جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کی گئی ٹائینو سیرپ پینے سے ہونے والی اموات کے خلاف درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وفاق کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لئے مزید مہلت کی استدعا کی ، ڈرگ کنٹرولر میو ہسپتال ارشاد حسین اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے افسر اجمل سہیل نے عدالت کو آگا ہ کیا کہ ادویات کی قیموں کو کنٹرول کرنے کے لئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے جس کے تحت غیر معیاری اور مہنگی ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور حکومت اس بابت مزید پالیسی سازی کر رہی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کے پالیسیاں بنانا انتظامیہ کا کام ہے حکومتیں تو تبدیل ہوتی رہتی ہیں، انتظامیہ بتائے کہ سیلاب سے قبل کتنے موثر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، عدالت نے ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں سے متعلق 28ستمبر تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے، درخواست گزار کا موقف تھا کہ ٹائنو سیرپ سے ہونے والی ہلاکتوں کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

مزید : صفحہ اول