آئی جی جیل پنجاب نے افسران اور ملازمین کو سزائیں سنا دیں

آئی جی جیل پنجاب نے افسران اور ملازمین کو سزائیں سنا دیں

 لاہور(انویسٹی گیشن سیل) آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر نے فرائض کی ادائیگی میں غفلت ، لاپرواہی ، قیدیوں پر تشدد اور بغیر اطلاع کے غیر حاضری پر مختلف جیلوں کے افسران و ملازمین کو سزائیں سنائیں۔ تفصیلات کے مطابق سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں ملزم مبین پر جیل کے بعض افسران و ملازمین نے تشدد کیا تھا ۔جیل سپر نٹنڈنٹ نے واقعہ کی اطلاع فوری طو پر آئی جی جیل کو دی۔ آئی جی جیل نے واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔معلوم ہوا ہے کہ انکوائری کے دوران ثابت ہو گیا کہ جیل اہلکاروں کی جانب سے ملزم مبین پرتشدد کیا گیا ہے ۔آئی جی جیل پنجاب نے واقعہ کے ذمہ داران اہلکاران نوید احمد اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی دو سال کیلئے سالانہ ترقی بند کر دی اور ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن تبادلہ کر دیا گیا۔ فلک شیر چیف وارڈر کو ایک سال سروس ضبط کی سزا دی گئی اور ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑہ تبادلہ کر دیا گیا ۔ اسی طرح محمد اشرف ہیڈ وارڈر کی دو سال کی سروس ضبط کر دی گئی اور ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ تبادلہ کر دیا گیا اور مذکورہ اہلکاروں کو ڈیوٹی پر بحال کردیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں بھی جیل اہلکاروں کی جانب سے سلیم عباس نامی حولاتی پر جسمانی تشدد کیا گیا ۔ جیل انتظامیہ کے مطابق مذکورہ حولاتی بارک 10میں بند تھا جو بارک سے غیر حاضر پایا گیا ۔انچارج بارک نے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو حولاتی سلیم عباس نے انچار ج ملازم سے بدتمیزی کی جس پر ملازمین نے حولاتی پر تشدد کیا ۔ واقعہ کی رپورٹ سپرنٹنڈنٹ نے آئی جی جیل کو دی ۔ آئی جی نے واقعہ پر ایکشن لیتے ہو ئے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر نوکری سے معطل کر دیا اورتما م کو شوکاز نوٹسز جاری کر دئیے گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ آئی جی نے حولاتی پر تشدد کر نے والے ذمہ داران میں محمد شفیع اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی 01 سال کی سالانہ ترقی بند کر دی اور ڈسٹرکٹ جیل لیہ تبادلہ کر دیا گیا۔ محمد انورچیف وارڈر کی 03 سال کی سروس ضبط دی گئی اورڈی آئی جی ملتان ریجن کو حکم دیا گیا کہ اس کی عارضی پروموشن کے آرڈر منسوخ کرتے ہوئے بطور ہیڈ وارڈر ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان کرنے کا حکم دیا۔ محمد اقبال وارڈر کی 03 سال کی سروس ضبط دی گئی اور سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان تعینات کر دیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل سر گودھا میں تعینات ہیڈوارڈر محمد عارف بغیر اطلاع کے 74دن ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا ۔ جس پرڈی آئی جی ملتان ریجن نے محمد عارف کو نوکری سے بر خاست کر دیا۔ مذکورہ اہلکار نے نوکری پر بحالی کے لئے آئی جی جیل کو اپیل کی ۔ تاخیر سے اپیل کر نے کی وجہ سے آئی جی جیل نے مذکورہ اہلکار کی اپیل مسترد کر دی۔اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں تعینات وارڈر دلبر حسین بغیر اطلاع کے224دن ڈیوٹی سے غیر حاضر،، جاوید اقبال سابقہ موٹر ڈرائیورسنٹرل جیل لاہور اپنی ڈیوٹی سے311دن غیر حاضر ،۔سیف اُللہ سابقہ وارڈر ڈسٹرکٹ جیل ملتان اپنی ڈیوٹی سے1286دن غیر حاضر،ابو بکر سابقہ وارڈر ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ اپنی ڈیوٹی سے31دن غیر حاضر ہو گیا ۔تمام اہلکاروں نے آئی جی جیل کو نوکری پر بحال ہو نے کے لئے اپیلیں دائر کیں۔آئی جی جیل نے مذکورہ اہلکاروں کو دوران ذاتی شنوائی تسلی بخش جواب نہ دینے پر اپیلیں مسترد کر دیں۔ذرائع نے بتا یا ہے کہ سنٹرل جیل بہاول پور میں بیرون پننجہ سے مشقت کے دوران قیدی فرار ہو گیا ۔جیل سپر نٹنڈنٹ نے معا ملے کی باقاعدہ انکوائری کی ۔ جس پر ڈی آئی جی ملتان ریجن نے جیل اہلکار کی دو سال کی ترقی بند کر دی ۔ اسی طرح ۔محمد سبحان سابقہ وارڈر سنٹرل جیل ملتان کو ڈسٹرکٹ جیل وہاڑی کورس کیلئے فارغ کیا گیا۔لیکن وہ کورس پر ھاضر نہ ہوا۔جس پر سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ملتان نے نوکری سے برخاست کر دیا اور بعد ازاں ڈی آئی جی ملتان ریجن کو اپیل کی۔ اس دوران اپیلانٹ درست جواب نہ دے سکا۔ جس پر اپیل خارج کر دی گئی۔سزا کی معافی کے لئے آئی جی جیل کو اپیلیں کی گئیں ۔جہاں وہ تسلی بخش وجہ بیان نہ کر سکے ۔ آئی جی نے تمام ملازمین کی اپیلیں مسترد کر دیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سنٹرل جیل راول پنڈی میں تعینات محمد غفور سابقہ وارڈر کو منسر کیمپ اٹک کورس کیلئے فارغ کیا گیا۔ لیکن وہ ٹریننگ کورس پر حاضر نہ ہوا۔اس کی پاداش میں سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل راولپنڈی نے نوکری سے برخاست کر دیا اور غفور نے ڈی آئی جی راولپنڈی ریجن کو اپیل کر دی ۔ اپیل کے دوران محمد غفور تسلی بخش جواب نہ دے سکا جس پر اس کی اپیل خارج کر دی گئی۔محمد غفور نے دوبارہ بحالی کے لئے آئی جی جیل کو درخواست دی ۔ آئی جی مذکورہ درخواستگزار کو نوکری پر بحال کر دیا گیا اور ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاوٗالدین تبادلہ کر دیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ حسن طیب سابقہ جونےئر کلرک سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان نے صابر حسین ہیڈ وارڈر کی سروس بک گم کردی۔ جس پر حسن طیب کو انتظامیہ کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیاگیا ۔لیکن وہ درست جواب نہ دے سکا ۔ جس پرپر نوکری سے برخاست کر دیا گیا ۔ اس کے بعد مذکورہ جونےئر کلرک نے آئی جی کو اپیل دائر کی۔ اس دوران متعدد بار اسے ذاتی شنوائی کیلئے بلوایا گیا مگر اہلکار حاضر نہ ہوا اس کی اپیل مسترد کر دی گئی۔ معلو م ہوا ہے کہ سلیم اخترسابقہ وارڈر سنٹرل جیل فیصل آباد کو دوران ڈیوٹی لاپرواہی کا مظاہرہ کر نے پر نوکری سے فارغ کر دیا گیا ۔ مذکورہ اہلکار نے دوبارہ بحالی کے لئے آئی جی کو اپیل کی ۔ آئی جی نے مذکورہ وارڈر کو نوکری پر بحال کرتے ہو ئے ڈسٹرکٹ جیل بھکر تعینات کر دیا۔ اور سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل بھکر کو دوبارہ انکوائری 30دن میں مکمل کرنے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

مزید : صفحہ آخر