احتساب کا عمل ۔۔۔ کراچی کے بعد خیبر پختونخوا تک

احتساب کا عمل ۔۔۔ کراچی کے بعد خیبر پختونخوا تک

تجزیہ : چودھری خادم حسین

پختونخوا احتساب کمیشن نے صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی کو گرفتار کرلیا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی جماعت کے صوبائی وزیر سے استعفیٰ طلب کرلیا اور کہا ہے کہ وہ بے گناہ ثابت ہوئے تو ان کو پھر سے وزیر بنا دیا جائے گا جبکہ سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے تحفظات رکھے اور اب صرف ایک ماہ کے لئے توسیع کرکے رینجرز کو کراچی تک محدود کر دیا اور یہ بھی یاد آیا اور بتا بھی دیا کہ اختیارات تفویض کئے جانے پر اب سندھ اسمبلی سے بھی منظوری لینا ہوگی جو آئینی مجبوری ہے اور پہلے نظر انداز ہوتی رہی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ دنوں سیاسی اور عسکری قوتوں کے درمیان جو مثالی تعاون نظر آرہا تھا اسے کرپشن کی نظر لگ گئی ہے اور اس میں دراڑ آگئی۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ کے اپنے زخم ہیں جبکہ وفاقی حکومت کو بھی بعض امور میں پھر سے ملاقاتیں اور مذاکرات کرکے اعتماد سازی کو جوں کا توں رکھنا ہوگا۔

سندھ اسمبلی میں اگرچہ آصف علی زرداری نے توسیع کی اجازت دیتے ہوئے فوج کی تعریف کی اور کردار کو بھی سراہا ہے تاہم شیشے میں بال آیا ہے تو صورت حال مشکل تو ہوگی۔ پاکستان میں نوجوان بلاول ہیں، ان کے اپنے جذبات، نظریات اور پروگرام بھی ہیں لیکن ان کو ابھی کھلی چھٹی نہیں دی گئی، وہ بھی ملاقاتوں پر انحصار کرکے عید گزرنے کے منتظر ہیں جس کے بعد حالات میں تبدیلی آئے گی اور پارٹی ہی کی بات کرنا پڑے گی۔ یہ سب بھی عید کے بعد تک رکھا گیا ہے۔

ادھر روس کے شہر اوفا میں دونوں وزائے اعظم میں ہونے والی ملاقات کو دونوں ممالک میں بھائی چارے کے حامی حضرات نے تو کامیاب قرار دے دیا کہ نریندر مودی نے پاکستان آنے کی دعوت قبول کی اور مذاکرات بھی پھر سے شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے تاہم تنقید کرنے والوں نے مشترکہ اعلامیہ سے راہ نکال لی کہ دہشت گردی کے خاتمے کا تو ذکر کیا گیا لیکن کشمیر کے بارے میں کوئی لفظ نہیں ہے۔ وزیراعظم کی ملاقات ڈپلومیٹک فرنٹ پر جاری محاذ آرائی کے حوالے سے اہم تھی اور ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی بھی فریق کسی دوسرے کا نقطہ نظر قبول کرلے اگر یہی ہوتو پھر ایک ہی ملاقات حل ہوتا ہے لیکن یہاں تو مزید ملاقاتوں کے ساتھ تنازعات پر بات ہونا اور فریقین نے اپنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دینا ہے، دونوں وزراء اعظم کی ملاقات سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی گئی تھیں وہ پہلے ہی زیادہ تھیں اس لئے مایوسی ظاہر کرنا بھی بری بات نہیں، مذاکرات حتمی طور پر شروع ہوں تو حل بھی نکل آئے گا، تاہم اب بات جہاں تک آئی کہ پھر سے رابطے کا فیصلہ ہوا اور کنٹرول لائن کے علاوہ ورکنگ باؤنڈری پر جارحیت کے حوالے سے ڈی جی ایم اوز کی میٹنگوں کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے۔ اب وزیراعظم کو واپس آتے ہی جنرل راحیل شریف سے بات کرنا اور اعتماد کو بحال ہی رکھنا ہوگا کہ کشمیر حساس تر تنازع ہے۔

مزید : تجزیہ