جیلوں میں قیدیوں کے شناختی کارڈ بنانے کا منصوبہ آغاز سے قبل ہی پیچیدگی کا شکار

جیلوں میں قیدیوں کے شناختی کارڈ بنانے کا منصوبہ آغاز سے قبل ہی پیچیدگی کا ...

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب کی جیلوں میں قید ملزموں اور مجرموں کے قومی شناختی کارڈ بنانے کا منصوبہ آغاز سے قبل ہی پیچیدگی کا شکار ہوگیا۔جیلوں میں قید حوالاتیوں اور قیدیوں کی بڑی تعداد گرفتاری کے وقت غلط نام بتاتی ہے۔ اور متعلقہ پولیس شناختی دستاویزات کی عدم موجودگی میں غلط ناموں پر ہی ان کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں جیل بھجوادیتی ہے۔ایسے میں جعلی نام کے ساتھ مقدمے میں ملوث کسی بھی قیدی کا اصل نام سے شناختی کارڈ بنایا گیاتو اس کے مقدمے پر اثر پڑ سکتا ہے۔اور ایسا قیدی عدالت سے درخواست کرسکتا ہے کہ اسے زبردستی جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔اصل مجرم کوئی دوسرا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے صوبے بھر کی 32جیلوں میں قید50ہزار سے زائد سزایافتہ اور انڈر ٹرائل قیدیوں اور حوالاتیوں کے قومی شناختی کارڈ بنوانے کئے لیے نادرا سے رجوع کیا ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے بہت سی پیچیدگیاں پید اہوسکتی ہیں۔کیونکہ جیلوں میں قید بہت سے قیدیوں اور حوالاتیوں نے اپنے نام بدل رکھے ہیں۔ ایسے افراد جرم کے بعد پکڑے جانے کی صورت میں اپنی شناخت چھپانے کے لیے دانستاً جھوٹ بولتے ہیں۔اور پولیس کو اپنا نام و پتا غلط بتاتے ہیں۔جبکہ شناختی دستاویزات کی عدم موجودگی میں متعلقہ پولیس ان کی فراہم کردہ معلومات کو سچ تسلیم کرتے ہوئے ہی ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کرتی ہے۔اور جیل حکام کی طرف سے ایسے قیدیوں و حوالاتیوں کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بنائے گئے تو ان کے مقدمات متاثر ہوسکتے ہیں ۔اور ایسے ملزم و مجرم عدالت سے استدعا کرسکتے ہیں کہ پولیس نے انہیں زبردستی مقدمے میں ملوث کررکھا ہے۔ایف آئی آر میں درج نام کسی اور کا ہے۔اور اسے غلط فہمی ، عناد یا رشوت نہ دینے کی وجہ سے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی موجودگی میں عدالت ایسے ملزمان کی درخواستوں پر غور بھی کرسکتی ہے۔کیونکہ ایف آئی آر اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ پر الگ الگ نام ہونگے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کا کہناتھا کہ یہ بات درست ہے کہ بعض ملزمان گرفتار ی کے وقت اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے پولیس کو غلط نام و پتا بتاتے ہیں۔اور انہیں معلومات کی روشنی میں ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہوتے ہیں۔لیکن کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بننے کے بعد ایسی صورتحال سامنے آئی تو ملزم یا مجرم کے خلاف دھوکا دہی کا مزید مقدمہ درج کروایا جائیگا۔

شناختی کارڈ

مزید : صفحہ آخر