ملاقات کامیاب یا ناکام ؟

ملاقات کامیاب یا ناکام ؟
 ملاقات کامیاب یا ناکام ؟

  

کیا ہوا۔ نواز مودی ملاقات میں۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ انہی مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا جو پہلے بھی کئی دفعہ ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناب مودی نے سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اس کو کیا سمجھا جائے۔ کیا یہ پاکستان کی کامیابی ہے کہ مودی نے پاکستان آنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یا یہ بھارت کی کامیابی ہے۔

سارک تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کا سربراہی اجلاس با قاعدگی سے ہو رہا ہے۔ سب سربراہان اس میں شرکت بھی کر رہے ہیں۔ سارک میں ہندوستان کی حیثیت ایک بڑے ملک کی ہے۔ بلکہ یہ کہنا کسی بھی طرح غلط نہ ہو گا۔ کہ سارک میں بھارت کی بادشاہی ہے۔ جبکہ پاکستان بھارت کے بعد دوسرا بڑا اہم ملک ہے۔ اس لئے یہ تجزیہ کرنا مشکل ہے۔ کہ کیا بھارت سارک کی سربراہی کانفرنس سے غیر موجودگی کا متحمل ہو سکتا تھا۔ عمومی رائے تو یہی بنتی ہے کہ اس کے امکانات کم تھے۔ اسی لئے مودی نے نواز شریف سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ کیونکہ وہ سارک کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مودی کے دورہ پاکستان سے پاکستان کاکوئی فائدہ نہیں۔ البتہ مودی کو فائدہ ہے۔

سوال پھر ہے کہ پاکستان کا کیا فائدہ ہے۔ ایک ہی بات ہے کہ پاکستان کی افواج اس وقت اپنی مغربی سرحدوں پر ایک بڑے اپریشن میں مصروف ہیں۔ ایسے میں بھارت نے سرحدوں کو گرم کر کے پاکستانی فوج کونہ صرف الجھایا۔ بلکہ اس سے مغربی سرحدوں پر جاری اپریشن کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ اس لئے پاکستان تو فی الحال اتنا ہی چاہتا ہے کہ مشرقی سرحدیں پر امن رہیں۔ اسی لئے اس ملاقات میں یہ طے کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلہ میں بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کے سربراہ اور پاکستان کے ڈی جی رینجرز ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری اپریشنز ملاقات کریں گے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے۔ کہ اس سے سرحدوں پر جاری ٹھاہ ٹھاہ بند ہو جائے گی۔ اور سرحدیں نارمل ہو جائیں گے۔

اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ نریندر مودی نے سارک کانفرنس میں شرکت کی قیمت یہ ادا کی ہے کہ انہیں اپنی سرحدیں گرم رکھنے کی پالیسی ختم کرنا پڑی۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتے تھے۔ اب جہاں تک دیگر متنازعہ معاملات کا تعلق ہے تو اس حوالہ سے کوئی بریک تھرو سامنے نہیں آیا۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ کشمیر پر مکمل ڈیڈلاک برقرار ہے۔ اسی طرح بھارت بھی پاکستان میں جو مداخلت کر رہا ہے۔ اس پر بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

اس ملاقات کے نتیجے میں ایک بھی مسئلہ اپنے حل کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا۔ کشمیر میں پاکستانی پرچم اسی طرح لہرائیں گے۔ اور بلوچستان میں بھی بھارتی مداخلت اسی طرح جاری رہے گی۔ اس طرح بھارت اپنی پالیسی پر گامزن رہے گا ۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ اس ملاقات سے قبل بھارتی وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر ممبئی حملوں کا کیس چینی صدر کے سامنے اٹھا یا۔ جس مین ذکی الرحمٰن لکھوی کا معاملہ بھی اٹھا یا گیا۔ گو کہ چین نے دو ٹوک انداذ میں پاکستان کی حمائت کی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی جانب سے یہ حکمت عملی کوئی اتنی بری نہیں کہ وہ قطع نظر اس کی بات مانی جائے گی کہ نہیں وہ معاملہ چین کے سامنے اٹھا رہا ہے۔ تا کہ اس کی جانب سے چیزیں ریکارڈ پر تو رہیں۔ جب کہ ہم اس ڈر اور خوف سے کہ آگے سے نہ ہو جائے گی بات ہی نہیں کرتے۔ اس طرح چیزیں ریکارڈ پر نہیں آتیں۔

اس بار بھی نواز مودی ملاقات میں بھی راکی پاکستان میں مداخلت کی بات سفارتی آداب میں رہ کر کی گئی ہے۔ اور اس کو ریکارڈ پر نہیں لا یا گیا۔ جبکہ بھارت ایک مرتبہ پھر ممبئی حملوں کا معاملہ ریکارڈ پر لے آیا۔ اس کو کیا کہا جائے ۔ کیا یہ پاکستان کی کمزوری ہے۔ یا دونوں ممالک کا سفارتکاری کا اپنا اپنا انداز ہے۔

نواز مودی ملاقات سے عوام کے جذبات کی تسکین نہیں ہوئی۔ جس طرح پاکستان میں بھارت اور را کی مداخلت کے حوالہ سے ماحول گرم تھا۔ ہر کوئی اس پر بیان دے رہا تھا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی کو پاکستان طلب کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ میں را کی مداخلت کا مسئلہ اٹھائیں۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ عالمی سطح پر را کی مداخلت کا مسئلہ اٹھا یا جائے گا۔ اس لئے ایسا لگ رہا تھا کہ میاں نواز شریف مصافحہ کرتے ساتھ ہی کہیں گے کہ یہ را کیا کر رہی ہے۔ ہمیں راکی یہ کارروائیاں قبول نہیں ہیں۔ اگر را ٹھیک نہ ہوئی تو ہم اس کو ٹھیک کر دیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا۔ اس کا تو کسی کو پتہ نہیں۔ لیکن شائد بند کمروں میں بات ہوئی ہو۔ اس لئے ریکارڈ پر نہیں آئی۔ اس لئے اس حوالہ سے خبریں تو آئی ہیں۔ لیکن تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لئے یہ ملاقات بس ایک رسمی ملاقات سے زیادہ کچھ نہیں۔ مسائل تنازعات اپنی جگہ موجود ہیں ۔ اور رہیں گے۔ مودی ان کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔

مزید : کالم