سخت گرمی میں بھی حرم شریف کے فرش کی ٹھنڈک کا راز

سخت گرمی میں بھی حرم شریف کے فرش کی ٹھنڈک کا راز
سخت گرمی میں بھی حرم شریف کے فرش کی ٹھنڈک کا راز

  

مکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) حرم شریف کا فرش شدید گرم موسم میں دوپہر کو بھی ٹھنڈا رہتاہے اور زائرین کے پاﺅں تپتے فرش پر بھی نہیں جلتے ، فرش کے ٹھنڈ ا ہونے کی وجہ عرب میڈیا سامنے لے آیا۔

العربیہ نے حرم شریف میں خدمات سرانجام دینے والے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایاکہ حرم شریف میں زائرین کعبہ کو ہر ممکن سکون اور سہولت مہیا کرناچاہتے ہیں،ہر دور میں حرم شریف کے بیرونی فرش کو دن کے اوقات میں ٹھنڈا رکھنے کے لیے مختلف تکنیک استعمال کی جاتی رہی ہیں اور اس ضمن میں ہم نے اہم خصوصیات کے حامل سنگ مرمر کو تلاش کیا جو سخت گرمی میں بھی کم سے کم گرم ہونے کی خصوصیت کا حامل ہو، بیرونی اور اندرونی حصوں میں فرش کے لیے تین قسم کے سنگ مرمر استعمال کیے گئے جن میں خاص طو پر’تاسس‘ کے نام سے مشہور سنگ مرمر دوسروں کی نسبت گرمی زیادہ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پتھر زیادہ درجہ حرارت میں دوسرے پتھروں کی نسبت فرش کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے اور فرش کا درجہ حرارت معتدل رکھتا ہے۔تاسس کی سیلوں سے حرم مکی کی زمین کو ڈھانپنے سے زمین کے اندر کی ٹھنڈک اور رطوبت باہر کی طرف نکلتی ہے اور اس پتھر کی سطح کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

مولاناعبدالستار ایدھی کا سفر حج ، شیطان کو کنکریاں مارنے سے انکار ، انتہائی دلچسپ وجہ بتادی،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

دوسری قسم کا سنگ مرمر’جرنی‘ کہلاتا ہے جو روشنی اور گرمی دونوں کو جذب کرتا ہے، حرم مکی میں زیادہ تر'التاسس' کا استعمال کیا گیا ہے۔ حالیہ جاری تعمیرات میں بھی ماہرین سنگ مرمر کی سیلوں کی جائے نماز کی شکل میں تراش خراش کے بعد نہایت خوبصورتی سے اسے خانہ کعبہ کی سمت میں نماز کی صف کی شکل میں نصب کرتے جاتے ہیں، ایک سل کی لمبائی 120 سینٹی میٹر، چوڑائی 60 سینٹی میٹر رکھی جاتی ہے جب کہ سنگ مرمر کی ایک سل کی موٹائی پانچ سینٹی میٹر ہوتی ہے۔’التاسس‘نامی یہ سنگ مرمر نایاب ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مہنگا بھی ہے اور حرم شریف کیلئے یہ خصوصی طورپر یونان سے لایاگیا۔

مزید : رئیل سٹیٹ