الطاف حسین کے خلاف مقدمات اور ایم آئی 6 کا کردار؟ نجم سیٹھی نے اندر کی بات بتا دی

الطاف حسین کے خلاف مقدمات اور ایم آئی 6 کا کردار؟ نجم سیٹھی نے اندر کی بات ...
الطاف حسین کے خلاف مقدمات اور ایم آئی 6 کا کردار؟ نجم سیٹھی نے اندر کی بات بتا دی

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی نجم سیٹھی نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مطلوب افراد کی حوالگی کے معاملے پر ڈیڈ لاک کے باعث الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات سست روی کا شکار ہیں جبکہ پاکستان کی خواہش ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کے بجائے پہلے منی لانڈرنگ کیس کی ہی تحقیقات مکمل کی جائیں۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام ”آپس کی بات“ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ برطانیہ کیلئے بلوچستان اور کراچی بہت اہم ہیں اور یہاں موجود علیحدگی پسندوں کو بیرونی طاقتوں کی مدد اور پناہ بھی ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ برطانیہ حربیار اور مہران بلوچ سمیت دیگر افراد کو پاکستان کے حوالے نہیں کرنا چاہتا جبکہ ایم کیو ایم اور بھارت کے مبینہ تعلقات سامنے آنے پر پاکستان کی دلچسپی منی لانڈرنگ کیس میں بڑھ گئی ہے جبکہ برطانیہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش میں جت گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بلوچ رہنماﺅں کی حوالگی پر دباﺅ کے بعد برطانوی ایجنسی ایم آئی 6 نے کچھ مخصوص رہنماﺅں کو انڈر گراﺅنڈ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں کم کر دیں تاہم اس بات سے بے فکر رہیں کہ انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کی خواہش ہے کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات جلد مکمل ہونی چاہئیں جبکہ بھارت نے برطانوی حکومت پر دباﺅ ڈالا ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کو آگے نہ بڑھائے کیونکہ پہلی بار ایم کیو ایم اور بھارت کے مبینہ تعلقات کی خبریں سامنے آئی ہیں اور اگر منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کی گئیں تو مزید معاملات بھی واضح ہوں گے جس کے بعد برطانیہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے جبکہ پاکستان منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات سست ہونے کے باعث برطانیہ سے مکمل تعاون سے گریز کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس میں مطلوب افراد کو برطانیہ کے حوالے کرنے کے بدلے وہاں موجود حربیار مری اور مہران بلوچ کو واپس لے آئے۔ نجم سیٹھی کے مطابق برطانیہ ان بلوچ رہنماﺅں کو کسی صورت پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان میں موجود سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو بھی مکمل اختیار نہیں دیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات میں پاکستان کے دباﺅ نہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کیس کی تحقیقات پاکستان کے فراہم کئے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر مکمل ہوتی ہیں اور الطاف حسین کو قصورار قرار دے کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے تو پاکستان میں کیا حالات پیدا ہوں گے اور انہیں کس طرح سنبھالا جائے گا؟ جبکہ الطاف حسین اور ان سے متعلق تمام معاملات بھی برطانیہ کے ہاتھ میں چلے جائیں گے اور پاکستان کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں