یورپی ملک میں فرعونوں کا پسندیدہ شرمناک ترین قانون واپس لانے کی کوشش، پہلی کامیابی بھی مل گئی

یورپی ملک میں فرعونوں کا پسندیدہ شرمناک ترین قانون واپس لانے کی کوشش، پہلی ...
یورپی ملک میں فرعونوں کا پسندیدہ شرمناک ترین قانون واپس لانے کی کوشش، پہلی کامیابی بھی مل گئی

  

برلن (نیوز ڈیسک) اپنے خونی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق جیسا قبیح اور قابل نفرت شاید ہی کوئی اور فعل ہو، لیکن ’ترقی یافتہ اور روشن خیال‘ یورپ کے کیا کہنے کہ اس بدترین جرم کو بھی جائز قرار دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

برطانوی اخبار ’’دی میٹرو‘‘ کے مطابق جرمنی کی قومی کمیٹی برائے اخلاقیات ایک خصوصی میٹنگ کرنے والی ہے جس کے بعد خونی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق (Incest) کو قانونی فعل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق کمیٹی کی خواہش ہے کہ incest کو قانونی تحفظ دے دیا جائے۔ کمیٹی نے اس معاملے پر غور و خوض کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایک جرمن بہن اور بھائی کے سالوں پر محیط جنسی تعلق کے نتیجے میں چار بچوں کی پیدائش کا معاملہ سامنے آیا۔

مزید پڑھیں:نوجوان کا انوکھا کاروبار ،9خواتین کے ساتھ 10بچے پیدا کر لیے

اگرچہ مذہبی احکامات اور سائنسی تحقیق یہ بات ثابت کرچکی ہے کہ incest گناہ کبیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ابنارمل بچوں کی پیدائش کا ذریعہ بھی ہے لیکن اس کے باوجود جرمن کمیٹی اس بھیانک جرم کو قانونی شکل دینے پر بضد ہے اور اس کا موقف ہے کہ چونکہ incest کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انبار مل بچوں کی شرح بہت کم ہے لہٰذا اسے جائز قرار دینے میں کوئی حرج نہیں۔

جرمنی کے موجودہ قوانین کے مطابق incest قابل گرفت جرم ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو دو سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ جرمن Ethics Council پہلے ہی اسی معاملے پر ووٹنگ کرچکی ہے جس میں 14 ارکان incest کو جرم قرار دینے والے قانون کے خاتمے کی حمایت کرچکے ہیں، جبکہ صرف 9 نے اس قانون کو برقرار رکھنے کی حمایت کی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس