فخر ملتِ اسلامیہ پاکستان عبدالستارایدھی

فخر ملتِ اسلامیہ پاکستان عبدالستارایدھی
 فخر ملتِ اسلامیہ پاکستان عبدالستارایدھی

  

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پاک سرزمین پر انسانی خدمت کی عظیم ہستی ،ممتاز سماجی کارکن عبدالستار ایدھیؒ 88برس کی عمر میں رحلت فرما گئے۔ زندگی موت کی امانت ہے، لیکن کچھ ہستیاں لحد میں اتر کر بھی دِلوں ،یادوں ، تذکروں ،خدمت خلق ،حقوق اللہ،حقوق العباد، امانت، دیانت،شرافت،صداقت حب الوطنی وحب انسانیت کی بدولت اللہ کی راہ میں مارے جانے والے شہد ا کی طر ح زندہ رہتی ہیں۔عبدالستار ایدھی نے نہ صرف مُلک میں، بلکہ دیار غیر میں بھی بلارنگ و نسل انسانیت کی ایسی خدمت اور قومی خدمات سرانجام دیں کہ اللہ کی بار گاہ میں ان کا مقام تو بلند ہو گا ہی، مگر اہلِ پاکستان کے سر دنیا کے سامنے فخر سے بلند ہو گئے۔ریاست کی ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ وہ تعلیم ،صحت خوراک اور بنیادی سہولتیں فراہم کرے اور بے سہاروں کی کفالت کا اہتمام کرے،مگر حکومت اور ریاست کی بجائے عبدالستار ایدھی نے یہ فرائض سرانجام دیئے۔ 62ہزار سے زائد مُردوں کو خود غسل دیا۔ لاوراث بچوں کے وہ وارث بنے۔ یتیموں ،بیواؤں ،مسکینوں کی کفالت کی، حکومتِ پاکستان آج تک مُلک بھر میں ریسکیو ایمبولینسیں شروع نہیں کر سکی۔ عبدالستار ایدھی نے دُنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا اجرا کر کے لاکھوں زخمیوں کی زندگیوں کو بچایا۔ لاکھوں غریب خاندان جو میت کا کرایہ دینے کی سکت نہیں رکھتے تھے ان کے پیاروں کی میتوں کو عزت و احترام سے ان کی دہلیز تک پہنچایا اور تدفین کی۔ عبدالستار ایدھی کو نشان امتیاز ،شیلڈ آف آنر،امن انعام سمیت کئی اعزازات ملے۔انہوں نے مُلک بھر میں چائلڈ ہومز قائم کئے۔ سادہ زندگی بسر کی آج بڑے بڑے سیاسی، صنعتی ،تجارتی قد کاٹھ والے ان کے سامنے بونے دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کے لئے مرمٹنے کی قسمیں کھانے والوں کو نزلہ زکام بھی ہو جائے تو علاج کے لئے لندن، امریکہ چلے جاتے ہیں،لیکن عبدالستار ایدھی صاحب نے شدید بیماری میں بھی اپنے مُلک اور معالجوں کو ترجیح دی، ایدھیؒ رحلت فرما کر وہ عزت و مقام پا گئے کہ دنیا رشک کرتی ہے۔ عبدالستار ایدھی کو قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ گارڈ آف آنر پیش کیاگیا،19توپوں کی سلامی دی گئی،نمازِ جنازہ میں صدرِ مملکت ممنون حسین شریک ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف نے انہیں سلیوٹ پیش کیا۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں عبدالستار ایدھی کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سراج الحق نے کہاکہ عبدالستار ایدھی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت بے گھر لوگوں کو چھت ، بیماروں کو مفت علاج اور تعلیم مہیا کرے اور ایدھی کے نام پر ایک یونیورسٹی قائم کی جائے، جس میں انسانیت کی خدمت کے لئے مفت تعلیم دی جائے اور حکومت ان کی خدمات پر ان کے لئے عالمی نوبل پرائز کا مطالبہ کرے۔ مَیں عبدالستار ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی کے لئے استقامت کی دُعاکرتا ہوں اور ان کے لئے یہ شعر عرض کرتا ہوں جو عبدالستار ایدھی کا خدمت انسانیت کا مشن تھا۔

دیے بہر سو جلا چلے ہم،تم ان کو آگے جلائے رکھنا

روائیتیں کچھ چلا چلے ہم،تم ان کو آگے چلائے رکھنا

مزید :

کالم -