کورٹ کچہریاں،بچ سکتے ہوتو بچ جاؤ

کورٹ کچہریاں،بچ سکتے ہوتو بچ جاؤ
کورٹ کچہریاں،بچ سکتے ہوتو بچ جاؤ

  



اللہ معاف فرمائے ،دشمن کو بھی کورٹ کچہری کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہو۔میں تو کچہری میں نظام عدل کا سسٹم دیکھ کر شش و پنج میں پڑ جاتا ہوں یہاں شہریوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ قانون کے محافظ بخوبی طور پر انصاف کی قدر جانتے ہیں مگرشایدان کوسائلوں کی غربت ،مفلسی ، اور بے بسی پر رحم نہیں نہیں آتا ۔عوام اپنی مجبوریاں بیچ کرعدل کی تلاش میں مدتوں عدالتوں کا چکرکاٹتے ہیں۔ انصاف کے حصول کی تلاش میں عرصہ دراز سے کیسز زیر سماعت رہتے ہیں۔ کورٹ و عدالتوں میں کیسز کا ایک عدالت سے دوسری عدالت میں ٹرانسفر ہو نا ، کیس کی تیاری، و کلاء کی تبدیلی ہونایہ روٹین کے عمل ہیں جس سے متاثرین کا قیمتی وقت کے ساتھ پیسہ کا ضائع ہورہاہے۔ مجرم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے سب سے بڑا رول انوسٹی گیشن اداروں کا ہے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کیس کو میرٹ کے مطابق انوسٹی گیٹ کرے اور سچائی کا پتا چلا نے کے بعد کیس کو قانون میں درج قواعد کی روشنی میں فائل کرے۔ پولیس بھی اس نظام کاحصہ ہے سیا سی اثر و رسوخ سفارش، رشوت، ذاتی مفادات کی ترجیحات یہ وہ تمام کرپشن کے عناصر ہیں جنہو ں نے آئین و قانون کی دھجیاں بکھر کر رکھ دی۔ 

کچہریوں میں منشی، چپڑاسی ، ریڈر یہ سب چھوٹے آلہ کار ہیں جن کو اپنی ڈیوٹی امور کے ساتھ تھکن کیلئے چائے و پا نی کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ا قدا م قتل ، تاوان، دہشتگری، بھتہ خوری ، زمین پر قبضہ، گھریلو نا چاقی، لین دین سمیت دیگر جرائم کے لئے ہر کیٹگر ی کے وکلاء حضرات کے چمبرز موجود ہیں جو صرف اپنی پریکٹس کو چمکانے کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرتے ہیں۔ ایک لمبی جدوجہد کے بعد یہی وکلاء حضرات قانون و انصاف کا حلف لینے کے بعد ججزلگ جاتے ہیں۔ ترقی کی منازل طے کرتے کرتے سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپنے فرائض منصبی انجام دیتے ہیں۔وہ اپنے ماضی کی پریکٹس، تجربہ اور دانش وری کی بناء پر ہر کیس کی سچائی کو جانتے ہیں لیکن شاید قانون دان ہونے کے باوجود قانون کے آگے بے بس ہوتے ہیں، سرکاری اداروں کے ساتھ پولیس اور قانون کے محافظ اداروں کے اندر رشوت ، سفارش، اختیارات کاناجائز استعمال ، ذاتی مفاد اور لو ٹ کھسوٹ کا بازار سر گرم ہے۔ سرکار کے ان خدمت گزاروں کو کسی کا ڈر اور خوف نہیں ہے۔ان کے علم میں ہے کہ شہریوں کی شکایت کا ازالہ اور داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔ پاکستان میں احتساب کے نام پر صرف مک مکا اور مفا ہمتی پالیسی کا اصول لاگو ہے۔نیب احتساب سیل کے اندر کسی کی کرپشن پکڑ ی جائے تو اس کو بھی کرپشن سے دبا دیاجاتا ہے۔ معاشر ہ میں پیدا ہونے والے بگاڑ، بد امنی اور برائی کے خاتمہ کا انحصار اہمیشہ اخلاقی و معاشرتی ا قدار پرمنحصر ہوتا ہے۔ جن اقوام میں اخلاقیات ختم ہو جائیں اس معاشرہ کے اندر حقوق و فرائض نام کی کوئی چیز سلامت نہیں رہتی ہے۔

محکمہ پولیس کے اندر بڑے پیمانے پر سرجری کی سخت ضرورت ہے تاکہ تمام کالی بھیڑیں جو کرپشن کو ایک انڈسٹری کے طور پر چلا رہی ہیں ان کو کک آؤٹ کیا جائے۔ عوام الناس کا پولیس سے اعتماد بالکل اٹھ چکا ہے۔ اب شہری جرائم ہونے کے بعد تھانے میں پولیس کے سامنے رپورٹ نہیں درج کرواتے کیونکہ شہری جانتے ہیں اس کوکچھ حاصل وصول نہیں ہونا، الٹا اپنا وقت، پیسہ برباد کرنے کے ساتھ ذہنی ٹینشن میسر آئے گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ