’’تاریخ علی پور چٹھہ‘‘:چند گزارشات

’’تاریخ علی پور چٹھہ‘‘:چند گزارشات
’’تاریخ علی پور چٹھہ‘‘:چند گزارشات

  


چند دن ہوئے مجھے معروف اشاعتی ادارے ’’بُک ہوم‘‘ جانا ہوا۔اُس کے مالکان رانا عبدالرحمن اور رانا محمد سرور نے حسبِ معمول بڑی محبت سے چائے پلائی۔

ان سے گپ شپ ہو رہی تھی کہ معاً سامنے کی شیلف پر پڑی ایک کتاب پر نگاہ جم گئی، عنوان تھا:’’تاریخ علی پور چٹھہ‘‘۔ بڑے اشتیاق کے ساتھ اٹھائی،ضخیم اتنی کہ ہاتھ کی گرفت سے نکل نکل پڑتی۔

حیرانی ہوئی کہ چھوٹے سے شہر پر اتنی بڑی کتاب! پھر خیال آیا کہ ضروری تو نہیں کہ شہر چھوٹا ہو تو تاریخ بھی مختصر ہو۔مکان کی شان تو مکینوں سے ہوتی ہے۔گھر آ کر جو ورق گردانی کی تو جو حقیقتِ حال سامنے آئی، وہ قارئین کی نذر کرتا ہوں۔

تاریخ علی پور چٹھہ شعبہ نشرو اشاعت جمعیت العلمائے پاکستان کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ صفحات828 ہیں اور سائز7x4۔ پہلے60 اور آخری180 صفحات کا کتاب کے موضوع سے سرے سے کوئی تعلق نہیں۔

بہتر تھا فاضل مصنف اس مواد کو الگ سے کتابی صورت دے دیتے۔ تاریخ علی پور چٹھہ کے مصنف جناب خالد محمود قادری ہیں،جن کی تصویر ان کی 20عدد بقول ان کے اپنے: ’’شاہکار کتابوں‘‘ کی فہرست کے ساتھ پس ورق (بیک پیج) کی زینت بنی ہے۔

پنجاب کے ضلعوں، قصبوں اور شہروں پر لکھی گئی کتابیں اکثر میرے زیر مطالعہ رہتی ہیں۔چنانچہ خیال یہی تھا کہ پہلے باب میں شہر کی جغرافیائی صورتِ حال موضوع بنی ہوگی۔

دوسرے میں اٹھارویں صدی سے انگریزی عہد تک، تیسرے میں انگریزی عہد اور چوتھے میں حصول آزادی کے بعد کا دور زیر بحث آیا ہو گا۔اس میں شہر کی سیاسی، ثقافتی، تعلیمی، معاشی اور مذہبی ترقی پر روشنی ڈالی گئی ہو گی۔اجتماعی زندگی کے مختلف دوائر سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کا تعارف بھی شامل ہو گا۔شعر و ادب کی آبیاری کرنے والوں کا تذکرہ بھی یقیناًہو گا۔

لیکن افسوس مصنف نے تاریخ علی پور چٹھہ کے بارے میں مذکورہ بالا موضوعات پر معلومات پیش کرتے ہوئے کوئی سلیقہ طریقہ ملحوظ نہیں رکھا۔غیر ضروری مندرجات نے کتاب کو اِس قدر بوجھل کر دیا ہے کہ قاری اُکتاہٹ ،بلکہ بیزاری محسوس کرنے لگتا ہے۔

مثلاً ایک دفعہ جب لکھ دیا کہ علی پور چٹھہ کی بنیاد نور محمد چٹھہ نے 1722ء میں رکھی اور اپنے پوتے چودھری علی محمد کے نام پر بستی کا نام علی پور رکھا۔اس پر رنجیت سنگھ نے دھوکہ فریب سے قبضہ کر لیا تو پھر ان معلومات کو بار بار دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

فاضل مرتب نے علی پور چٹھہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کرام، علماء کرام،افسران،شعراء، تجار، حکماء، ڈاکٹر حضرات وغیرہ کی طویل فہرستیں دی ہیں،لیکن اکثر و بیشتر سنین غلط درج کیے ہیں۔

اب قارئین ہی اندازہ لگا لیں کہ جو مؤرخ سن و سال کا لحاظ نہیں رکھتا، لاپروائی برتتا ہے تو اس کی تاریخ پر اعتبار کون کرے گا لکھتے ہیں: ’’یہ جو زمزمہ توپ ہے رسول نگر میں بھی رہی ہے۔

اب لاہور مال روڈ پر ہے۔ یہ دراصل بابر کی زمزمہ توپ ہے۔ جلال الدین اکبر نے ابراہیم لودھی سے دورانِ جنگ چھینی‘‘ (ص565:)۔ تاریخ ہند کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ ابراہیم لودھی تو بابر کے ہاتھوں 1526ء میں مارا جا چکا تھا،اکبر نے اس سے توپ کیسے چھینی تھی۔اکبر کا دورِ حکومت تو 1556ء سے 1606ء تک کا ہے۔

اگلا نوٹ ممتاز جدید شاعر یوسف ظفر پر لکھا ہے،جس میں ان کا اصل وطن علی پور چٹھہ بتایا ہے، حالانکہ وہ رسول نگر کے رہنے والے تھے۔

مصنف نے کئی جگہ پنجاب پر انگریزی قبضہ کا سن 1839ء درج کیا ہے، حالانکہ اِس سال رنجیت سنگھ نے وفات پائی تھی اور اس سے دس سال بعد انگریز کو پنجاب پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ صفحہ233 پر آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کا سال 1908ء درج کیا ہے، حالانکہ وہ 1906ء ہے۔ علی پور چٹھہ کا سرمایۂ افتخار ن م راشد ہیں، جنہیں جدید اُردو نظم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

کتاب کے مصنف نے راشد کی بیٹی نسرین کی زبانی راشد کے حالات درج کئے ہیں، مگر بیان کا سلیقہ یہاں بھی ملحوظ نہیں رکھا۔ راشد کے بھائی کا نام فخر محمد واجد لکھا ہے، حالانکہ وہ فخر محمد ماجد تھے اور ف م ماجد کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ان سے راقم الحروف کو ملاقات کا شرف حاصل رہا ہے۔

کتاب کی غیر معمولی ضخامت کا بڑا سبب مقامی لوگوں کی آپ بیتیاں ہیں، جن سے شہر کی تمدنی تبدیلیوں کے کچھ زاویے اُبھر آتے ہیں،مگر زبان و بیان کا کوئی قرینہ نہیں برتا گیا۔

کئی مقامات پر بے معنی اور ٹیڑھی میڑھی عبارتیں ہیں،اس پر مستزاد پروف کی بے حد و حساب غلطیاں! ان سب کو انہوں نے تاریخ علی پور چٹھہ کا نام دے دیا ہے۔غیر ضروری تفصیلات کی صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔

’’علی پور کے چائے فروش‘‘ عنوان تلے دو سطریں مقامی چائے فروشوں کے بارے لکھنے کے بعد آٹھ صفحے چائے کی عالمی تاریخ بیان کرنے میں سیاہ کر دیئے ہیں۔

اِسی طرح علی پور کے پان فروشوں کے ضمن میں چند سطریں مقامی پان فروشوں کے بارے میں رقم کرنے کے بعد آگے چار صفحے پان کی تاریخ پر سپردِ قلم کر دیئے ہیں۔

مصنف کی نثر کئی جگہ ابلاغ گُم کر بیٹھی ہے۔ صفحہ 748پر ’’انوکھا اتحاد‘‘ کے عنوان تلے دس شخصیات کے نام مرقوم ہیں، آخری سطر ہے:

’’میاں محمد سلیم زکریا یونیورسٹی یہ سب علی کے فرزند تھے اور ہیں‘‘۔قاری چکرا جاتا ہے کہ زکریا یونیورسٹی کے مذکور کا کیا محل تھا اور علی کون ہے، جس کے ’’یہ سب فرزند تھے اور ہیں‘‘۔

میری تجویز یہ ہے کہ ایک تو فاضل مصنف آئندہ ایڈیشن میں فالتو مواد کتاب سے نکال دیں۔دوسرے،تاریخ علی پور چٹھہ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ فاضل مصنف تاریخ نگاری کے فن سے قطعی نابلد ہیں،جو کچھ لکھتے گئے اس کو دوبارہ پڑھنے کی زحمت نہیں کی، ورنہ کتاب کئی سامنے کی غلطیوں سے پاک ہو جاتی ۔

آئندہ ایڈیشن کے لئے کتاب پر نظرثانی ازبس ضروری ہے۔ مناسب ایڈیٹنگ کی جائے تو یہ بھاری بھرکم کتاب صرف 300صفحات میں سمٹ سکتی ہے۔امید ہے جناب خالد محمود قادری ہمارے تبصرے سے آرزدہ خاطر نہیں ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...