برصغر کا پہلا ’’سیاسی لوٹا‘‘ ڈاکٹر محمد عالم(1)

برصغر کا پہلا ’’سیاسی لوٹا‘‘ ڈاکٹر محمد عالم(1)
برصغر کا پہلا ’’سیاسی لوٹا‘‘ ڈاکٹر محمد عالم(1)

  


دریا کو کوزے میں بند کرنا ہو تو استعارات اور تشبیہات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ استعارات اور تشبیہات وقت کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ سیاست دان کے لئے لوٹے کی اصطلاح بھی ایک تشبیہ ہے

سیاست دانوں کو لوٹے سے تشبیہ کیوں دی گئی، اس پرابھی باقاعدہ کوئی تحقیق نہیں کی گئی، تاہم اس کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں۔

اولاً۔۔۔ایک وقت تھاجب لوہے سے بنا لوٹا استعمال کیا جاتا تھا۔یہ لوٹا بغیر پیندے کے ہوتا تھا، اسے جب زمین پر رکھا جاتا تو کسی طرف بھی جھک سکتا تھا۔ اسی طرح سیاست دان کے لئے کوئی اصول وضابطہ نہیں ہوتا وہ جب چاہے کسی اصول و ضابطے کے بغیر کسی بھی جماعت و اتحاد میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے اور اسے چھوڑ بھی سکتا ہے۔

ثانیاًَ۔۔۔دوسری وجہ یہ بیان کی جا سکتی ہے کہ جیسے لوٹے کوہرشخص استعمال کرتا ہے، ایسے ہی سیاست دان بھی ہر وقت اور ہر جگہ استعمال ہونے کے لئے تیار رہتاہے۔

ثالثاً۔۔۔بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے پچھلے ادوار میں جب ہارس ٹریڈنگ نے باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیارکی اور ہماری اسمبلیاں لوٹوں کے معاملے میں خود کفیل ہو گئیں تو اس وقت لوٹوں کی بہتات کی ایک توجیہہ یہ کی گئی کہ جیسے لوٹا ایک غلیظ عمل میں استعمال ہوتا ہے ایسے ہی ہمارے سیاست دان بھی ضمیر و ایمان کی پروا کئے بغیر ہارس ٹریڈنگ جیسے کاروبار کا حصہ ہیں۔

اس موقع پرایسے بھی ہوا کہ اپوزیشن کی طرف سے اسمبلیوں میں لوٹے اُچھالے گئے اور سپیکر کے ڈائس پربھی رکھے گئے، تاہم حزبِ اقتدارنے دلبرداشتہ و شرمندہ ہونے کی بجائے اپنے حوصلے قائم رکھے اور دلچسپ پیرائے میں جوابی وارکرتے ہوئے کہا:’’ہاں !ہم لوٹے ہیں،ہمیں لوٹا ہونے پرفخرہے، لوٹے سے غلاظت دورکی جاتی ہے اورطہارت حاصل کی جاتی ہے۔

سوہم بھی اسمبلیوں میں موجود غلاظت و نجاست دور کر رہے ہیں‘‘۔۔۔یہ درست ہے کہ لوٹے سے نجاست دورکی جاتی اورطہارت حاصل کی جاتی ہے، مگراس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے لوٹاپاک صاف ہواورخودکرپشن کی گندگی میں لتھڑاہوانہ ہو۔

لوٹے سیاست دان کاسیاست کی غلاظت صاف کرنے کادعویٰ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص ناک صاف کرکے منہ پرمل لے اورپھرکہے دیکھیں جناب میں نے ناک صاف کرلی ہے۔

رسولؐ اللہ کاارشادگرامی ہے:’’جب انسان میں حیانہ رہے توپھروہ جاچاہے کرے‘‘۔یہ حدیث الفاظ میں اگرچہ مختصرہے، مگراپنے معانی ومفہوم میں بہت وسیع ہے۔

سچ ہے جب انسان میں حیانہ رہے تووہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا کرنا بہت آسان ہوتاہے، جیساکہ ہمارے ملک میں ہورہاہے۔یوں لگتاہے جیسے جانورجنگلوں میں چرتے اورجہاں چاہے منہ مارتے ہیں ایسے ہی قومی وصوبائی اسمبلی کی ٹکٹوں کے حصول کے لئے میلے لگتے اوربغیرکسی ہچکچاہٹ و ترددکے ٹکٹوں کے حصول کے لئے پارٹیاں تبدیل کی جاتی ہیں۔

اب اصل منظر اس وقت دیکھنے والا ہو گا، جب حکومت سازی کا مرحلہ آئے گا، وسیع تر قومی مفادکے نام پر میلہ لگے گا اور اس میں اراکین اسمبلی کی میلہ مویشیاں میں جانوروں کی طرح بولیاں لگیں گی۔

یہاں ایک دلچسپ سوال یہ کہ برصغیر کی سیاست میں پہلی دفعہ لوٹے کی اصطلاح کب استعمال کی گئی اور ’’شخص کون تھا، جس نے پہلے پہل سیاسی طور پر وفاداری تبدیل کی،لیکن اس سے پہلے مختصراً اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہندوستان میں انتخابی عمل اور اسمبلیوں کے چناؤ کا آغاز کیسے اور کب ہوا۔۔۔؟

1857ء کے بعد جب ہندوستان برطانوی سرکار کی عملداری میں آیا تو 1861ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسلوں کا قیام عمل میں لایا گیا ،یہ سیاسی اصطلاحات کی بالکل ابتدائی شکل تھی جو بتدریج آگے بڑھتی رہی۔1909ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسلوں میں متعدد اصطلاحات کی گئیں، جن میں کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھا دی گئی۔ 1919ء میں لیجسلیٹو کونسلوں کی جگہ لیجسلیٹو اسمبلیوں نے لے لی۔

یہ ہندوستان کی پہلی اسمبلیاں تھیں۔ان اسمبلیوں میں نصف تعداد گورنروں کے نامزدکردہ ارکان کی ہوتی تھی اور باقی نصف کا انتخاب منتخب ارکان کرتے تھے۔1920ء کے انتخابات ہندوستان کے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔

ابتدا میں بالغ رائے دہی کی بجائے محدود بنیادوں پر لوگوں کو انتخاب کا حق دیا گیا۔ تحریک خلافت، جمعیت علمائے ہند اور کانگریس نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔یہ اسمبلیاں یکم جنوری1921ء کو معرض وجود میں آئیں۔ 1925ء میں دوسرے اور1931ء میں تیسرے انتخابات ہوئے۔1937ء میں پہلی باضابطہ صوبائی اسبمبلیاں معرض وجود میں آئیں۔

ان انتخابات میں مسلم لیگ کوئی قابلِ ذکر پوزیشن حاصل نہ کر سکی، جبکہ کانگریس نے11میں سے 7صوبوں میں اکثریت حاصل کرلی۔پنجاب میں یونی نیسٹ پارٹی1920ء سے برسراقتدارچلی آرہی تھی۔

1937ء کے انتخابات میں اس نے 175کے ایوان میں 88نشستیں لے کراپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔اس کے مقابلے میں کانگریس نے پنجاب سے 18 اور مسلم لیگ نے دو نشستیں حاصل کیں۔پنجاب سے مسلم لیگ کے کامیاب ہونے والے امیدوار ملک برکت علی اور راجہ غضنفرعلی تھے۔

راجہ غضنفر علی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر یونی نیسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ پنجاب سے مجلس اتحادملت اسلامیہ نے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔ مجلس اتحادملت اسلامیہ نے مسجد شہید گنج کا کارڈ کھیلا،مگر ڈاکٹر محمد عالم کے سوااس کے تمام امیدوار ہار گئے، جبکہ ڈاکٹر محمد عالم الیکشن جیت کر کانگریس میں شامل ہو گئے، گو کہ 1937ء کے انتخابات میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے والے ڈاکٹر عالم اکیلے نہیں تھے، تاہم برصغیرکی سیاسی تاریخ کا پہلا باضابطہ اور مستند لوٹا ہونے کاخطاب ڈاکٹر محمد عالم کو ہی ملا۔

لوٹے ہونے کے لئے انسان کابے ضمیر ہونا ضروری ہے اورڈاکٹرعالم میں یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ڈاکٹر عالم لاہور کے رہنے والے تھے۔وہ اعلی پائے کے مقرر، انتہائی کامیاب وکیل،نہایت ہی قدآور اور وجیہ انسان تھے۔وہ پکے نیشنلسٹ (قوم پرست) تھے۔انہوں نے پنجاب مسلم نیشنلسٹ کانفرنس کی بنیاد رکھی۔اپنی تمام ترقابلیت و اہلیت کے باوجود وہ ابن الوقت تھے۔ نفع کی امید پر اپنی عزت تک گنوا بیٹھتے۔ان کا دماغ بہت اُجلا، لیکن دِل بہت میلا تھا۔

ایک کامیاب فوجداری وکیل ہونے کی وجہ سے گفتگو میں نہایت کائیاں تھے جس سے بات کرتے اسے ایک دفعہ مسحورکرلیتے، اعلی پائے کے مقرر تھے، لیکن جو لوگ ان کے زخم کھا چکے تھے ان پران کا جادو نہیں چلتا تھا،وہ ان سے دوربھاگتے تھے۔ان کا پسندیدہ مشغلہ سیاسی آشیانے بدلنا تھا۔

وہ مولانا عبدالقادر قصوری کی کوششوں سے آل انڈیاکانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے ممبربنے۔تحریک خلافت میں بھی شامل رہے، مولانا محمد علی نے جامعہ ملیہ کی بنیاد رکھی تو اس کا پہلا شیخ الجامعہ ڈاکٹر عالم کو بنایا، لیکن وہاں سے چھوڑ دیا۔ پھرکانگریس کی مجلس عاملہ سے بھی استعفیٰ دے دیا، سال ڈیڑھ سال خاموش رہے۔مسجد شہید گنج کی تحریک چلی تو اس کے اصلاح کاروں، بلکہ ہدایت کاروں میں شامل ہو گئے۔ مجلس اتحاد ملت بنی تو اس کے شریک سفر ہو گئے۔آغا شورش کاشمیری نے اپنی کتاب ’’بوئے گل نالہ دل دودچراغ محفل‘‘ اور’’پس دیوار زنداں‘‘ میں جابجا ان کا ذکر کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں: ’’1937ء کے انتخابات کا غلغلہ بلند ہوا تو ڈاکٹرعالم مجلس اتحاد ملت کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں کود پڑے۔ان کے مقابلے میں سیدحبیب تھے۔سید حبیب یونی نیسٹ پارٹی کے امیدوار تھے۔سر سکندر حیات یونی نیسٹ کے سربراہ ہونے کے باوجود چاہتے تھے کہ سید حبیب کی بجائے ڈاکٹرعالم کامیاب ہوں۔ گورنر کی درپردہ حمایت بھی ڈاکٹر عالم کوحاصل تھی، یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر عالم انتخاب جیت گئے، مگر کامیاب ہوتے ہی بدل گئے۔ جواہر لال نہرو کو تار بھیجا مَیں آپ کو فی الفور ملنا چاہتا ہوں۔جاتے وقت مجھے رفیقِ سفر بنا کر ساتھ لے گئے۔ڈاکٹر عالم چونکہ ماضی میں کانگریس میں رہ چکے تھے اوران کویہ بھی معلوم تھاکہ کانگریس سے راہ فراراختیارکرنے کی وجہ سے نہروان سے خوش نہیں ہیں۔یہی وجہ تھی کہ لاہورسے چلتے وقت ڈاکٹرعالم کھدرپوش ہوگئے، سرپروہی گاندھی ٹوپی پہلی نظرمیں دیکھنے سے مسلمان کی بجائے سیٹھ سدرشن معلوم ہو رہے تھے۔

جواہرلال نہروسے معانقہ کیااورکہنے لگے: پنڈت موتی لال مجھے اپنابیٹاسمجھتے تھے، اس ناطے میں آپ کابھائی ہوں اورآپ بھی مجھے اپنابھائی ہی سمجھیں۔میراذہن ہمیشہ نیشنلسٹ رہاہے، لہٰذامیں نے کانگریس میں شامل ہونے کافیصلہ کر لیا ہے۔

پنجاب کی آب وہواتمام ملک سے مختلف ہے میں اپنے معاشی حالات کی خرابی کی وجہ سے کانگریس سے نکلاتھا،لیکن ذہناًاورقلباًکانگریس میں ہی تھا‘‘۔پنڈت جواہرلال کہنے لگے:’’ڈاکٹر صاحب! آپ جس ٹکٹ پرمنتخب ہوئے ہیں، اس سے انحراف کیسے کرسکتے ہیں یہ تواصولاََغلط ہو گا‘‘۔(جاری ہے)

ڈاکٹر صاحب نے کہا: ’’مَیں نے شہید گنج مسجد کی تحریک میں مسلمانوں کا ذہن فساد سے ہٹا کر قانون وامن کی طرف لگایا ہے۔ اگر میں مسلمانوں کو شہید گنج مسجد کی تحریک کے دوران مقدمے بازی کے چکر میں نہ ڈالتا تو پنجاب میں ہونے والے خونریز فسادات سے باقی ہندوستان بھی محفوظ نہ رہتا‘‘۔قصہ مختصر جواہر لال نہرو ڈاکٹر عالم کی چکنی چپڑی باتوں میں آگئے، ان سے ڈاکٹر گوپی چند بھارگو کے نام ایک خط لیا اور ہنسی خوشی لاہور روانہ ہو گئے۔

لاہور پہنچ کر کانگریس میں شمولیت کااعلان کر دیا اور اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں گاندھی ٹوپیاں لٹکا دیں۔ڈاکٹر عالم نے کانگریس میں شمولیت اس امید پر کی تھی کہ وہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن جائیں گے۔ لاہور آنے کے بعد جب وہ کانگریس میں شمولیت کا اعلان کر چکے تو کچھ دن بعد شیخ دین محمدان کے ہاں آئے اور کہنے لگے: ’’ڈاکٹرصاحب یہ آپ نے کیا غضب کیا، ابھی دو روز پہلے سکندر حیات نے آپ کو وزیر تعلیم بنانے کا فیصلہ کیا تھا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب یہ سن کر سخت پریشان ہوئے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب نہ تو اپوزیشن لیڈر بن سکے اور نہ وزیر تعلیم البتہ رکھ رکھاؤ کے لئے انہیں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر بنا دیا گیا۔اسمبلی کے انتخابات کے بعد جب سر سکندر کی وزارت بن گئی تو اس کے ساتھ ہی آغاشورش کاشمیری مرحوم پر جنڈیالہ گورو کی ایک تقریر کے جرم میں 124 الف کامقدمہ بنا دیا گیا۔

آغا شورش اس سلسلے میں لکھتے ہیں:’’ایک دن میں ڈاکٹر عالم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنے گھر میں اپنے بھائی نظام الدین کے ساتھ ٹہل رہے تھے۔میں نے ڈاکٹر عالم سے کہا کل عدالت میں میری پیشی ہے آپ ہی پیروی کر سکتے ہیں۔

تیوری چڑھا کر بولے ناممکن، ناممکن، ناممکن۔مجھ پرتوجیسے بجلی گر پڑی میں سکتے میں آ گیا۔یہ وہی ڈاکٹر عالم تھے جن کا الیکشن خطیبانہ حد تک مَیں نے لڑا اورجیتا۔ الیکشن کے دوران احرار جیسے عدیم المثال خطیبوں کا مقابلہ کیا۔جہلم وگجرات کے جلسے سر کئے۔

راولپنڈی کا محاذ فتح کیا، جلالپور جٹاں میں تلوارکازخم سہا اور ان سے پھوٹی کوڑی تک نہ لی۔جواب سن کرآنکھوں میں آنسو آ گئے، لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر آ گیا۔ میرے کان سُن رہے تھے کہ ڈاکٹرعالم کابھائی نظام الدین کہہ رہا تھا عالم تمہیں ایسا کورا جواب نہیں دینا چاہئے تھا اور ڈاکٹر صاحب بول رہے تھے ’’بھائی جی پانچ سال بعد پھر دیکھا جائے گا‘‘۔

گو کہ یہ واقعہ آج سے 73سال پہلے کا ہے، لیکن عزائم وارادے،سوچ و فکر، کردار گفتار کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے جیسے یہ واقعہ آج ہی رونما ہوا ہے، جس طرح اس وقت اسمبلیوں میں جانے والے عوام کو بیوقوف بناتے تھے آج بھی اسی طرح بیوقوف بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔شورش مرحوم اپنی کتاب ’’بوئے گل نالہ دل دودِ چراغ محفل‘‘میں مزید لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹرعالم عجیب و غریب انسان تھے۔ دماغ کے غنی اوردل کے غبی، اپنے سوا کسی کے وفادارنہ تھے۔حلق سے الٹی بات کرتے،سیدھی بات جانتے ہی نہ تھے۔

اپنی ذات میں اتنے محصورتھے کہ اس کے سواکسی عقیدے،کسی خیال،کسی جماعت،کسی رہنمااورکسی مسلک کے وفادارنہ تھے۔ان کاسیاسی شعورآصف علی اورڈاکٹرسیدمحمودسے کہیں بلندتھا،لیکن قانع اور صابرنہ تھے۔حرص نے ان کوکٹی ہوئی پتنگ بنا دیا۔

طمع نے ان کی زندگی کواتناکھوٹاکیاکہ آخر کچوکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے قبل ازوقت رحلت کر گئے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔قائداعظم نے یونی نیسٹ پارٹی کے جن ارکان کو بلواکرلیگ میں شامل کرنا چاہا ان میں ڈاکٹرعالم بھی تھے۔قائداعظم نے ان سے کہا: ’’عالم۔۔۔اسمبلی میں لیگ باقاعدہ پارلیمانی پارٹی بن گئی ہے اس میں شامل ہو جاؤ۔ ڈاکٹر صاحب نے جواباً کہا سوچنے کے لئے وقت درکار ہے‘‘۔

قائداعظم نے فرمایاعالم! کسی پارٹی میں آنے جانے کے لئے کیاتمہیں بھی سوچنے کی ضرورت ہے‘‘۔ڈاکٹرعالم اصلاً سوانگ رچانے کے ماہرتھے مثلاًپیرجماعت علی شاہ کاان کے دل میں رتی بھراحترام نہ تھا،لیکن مسجدشہیدگنج تحریک کے دِنوں میں ان کے سامنے اس طرح ہوتے جس طرح برہمن اپنے بت کے سامنے ہوتاہے۔

یہی ذہنی عیاریاں تھیں جن کی بدولت ڈاکٹرعالم عبرت کاورق ہوکرغفرلہ ہوگئے۔

ڈاکٹر عالم کو لوٹے کا خطاب کیسے ملا؟ اس بارے میں آغاشورش کاشمیری لکھتے ہیں: ’’اس پھبتی کے مصنف علامہ میرحسین کاشمیری تھے جوروزنامہ زمیندارکے مدیرمخابرات تھے۔

علامہ صوبائی محکمہ اطلاعات کی معرفت لاہورریڈیوکے لئے پنجابی پروگرام کی خبریں تیارکرتے تھے۔ڈاکٹرصاحب نے کسی پھبتی سے برافروختہ ہوکرانہیں نکلوا دیا۔

نتیجے میں علامہ میرحسین نے زمیندارمیں ایک خبر گھڑی، جس کاعنوان تھا: ’’ڈاکٹر لوٹا‘‘ اور ڈاکٹر لوٹا کی پھبتی آناً فاناً زبان زدعام ہوگئی۔ڈاکٹرعالم جہاں جاتے ان کااستقبال لوٹوں سے کیاجاتاحتی کہ پولنگ سٹیشن پربھی لوگوں نے لوٹے لٹکا دیئے۔ لاہورمیں مزنگ روڈ پران کی کوٹھی تھی، منچلوں نے ایک باران کی کوٹھی پرلوٹوں کوجھنڈیوں کی طرح سجادیا۔

آخر اسی صدمے سے نڈھال ہوکراللہ کو پیارے ہوگئے۔‘‘شورش کاشمیری نے ڈاکٹرعالم کے بارے میں اورعبرتناک واقعہ لکھاہے۔ ’’ایک رات ڈاکٹرعالم کے گھرمیں تھا۔علی الصبح اٹھا تو ڈاکٹر عالم ایک عورت سے جھگڑ رہے اور کہہ رہے تھے ’’دو روپے ٹھیک ہیں، بس اب بھاگ جاؤ‘‘۔ جواب میں عورت کہہ رہی تھی: ’’ڈاکٹرصاحب آپ نے پچاس روپے کا وعدہ کیا تھا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب عورت کے اصرار پر جھنجلا گئے، انہیں ڈرتھاکسی نے دیکھ لیا تو رسوائی ہو گی۔مولانا عبدالقادر قصوری برآمدے میں صبح کی نمازپڑھ رہے تھے۔ڈاکٹرصاحب نے عورت سے کہا: ’’ڈاکٹرصاحب تووہ سامنے مصلی پر نمازپڑھ رہے ہیں میں توان کامنشی ہوں۔بھاگ جاؤ ورنہ ڈاکٹرصاحب ہم دونوں کوقیدکروادیں گے۔غرض وہ عورت شب کامعاوضہ دوروپے لے کرچلی گئی اورمیں یہ لطیفہ سمیٹ کرگھرآگیا ‘‘۔

ڈاکٹرعالم کی وفات بھی مرقع عبرت ہے۔ ہوا یہ کہ ان کے باربارسیاسی آشیانے بدلنے کی وجہ سے لوٹے کاخطاب ان کے لئے جان لیواثابت ہوا۔ لوٹے کالفظ ان کے لئے گالی اورجان لیوا بیماری بن گیا،وہ اسی غم میں عالم بالا کو سدھار گئے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ ڈاکٹرعالم ہمارے آج کے سیاست دانوں سے پھربھی مختلف تھے جولوٹے کاطعنہ برداشت نہ کرسکے، جبکہ ہمارے آج کے سیاست دانوں کو لوٹاکہاجائے توخوشی سے سینہ پہلا لیتے ہیں ۔

sobanarshad15@gmail.com

*۔۔۔آغاشورش کاشمیری لکھتے ہیں، ’’ڈاکٹر محمد عالم دماغ کے اجلے، دل کے میلے،پسندیدہ مشغلہ سیاسی آشیانے بدلنا، حرص نے ان کو کٹی پتنگ بنا دیا، طمع نے زندگی کواتناکھوٹاکیاکہ کچوکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے اورمرقع عبرت ہوگئے‘‘۔

*ڈاکٹرعالم ہمارے آج کے سیاست دانوں سے پھربھی مختلف تھے جو ’’لوٹے‘‘ کاطعنہ برداشت نہ کرسکے اور عالم بالاسدھارگئے

*ایک وقت تھاجب ہماری اسمبلیاں لوٹوں کے معاملے میں خودکفیل ہوگئی تھیں کیااب پھروہی تاریخ دہرائی جائے گی۔

* لوٹابننے کے لئے بے ضمیرہوناضروری ہے۔

*حکومت سازی کے وقت وسیع ترقومی مفادکے نام پر کیا ایک بارپھراراکین اسمبلی کی منڈی مویشیاں کے جانوروں کی طرح بولیاں لگیں گی؟

مزید : رائے /کالم


loading...