سِندھ کی آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات

سِندھ کی آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات

الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطۂ اخلاق کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) سندھ کی آل پارٹیز کانفرنس میں شامل سیاسی جماعتوں نے قرار دادوں کے ذریعے سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آزادی کے ساتھ الیکشن مہم چلانے دی جائے، چہیتوں کو سہولتیں دینے کی بجائے سب کو برابر کی حیثیت دی جائے آزاد امیدواروں کا کردار واضح کیا جائے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کرکے غلطیوں کو دور کیا جائے شفاف انتخابات کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں الیکشن کمیشن نے جھنڈوں، بینرز کا جو سائز سیاسی جماعتوں کو دیا ہے اس کے مطابق ہی یہ بنائے جارہے ہیں لیکن کئی جماعتوں کے جھنڈے اور بینرز اتارے جارہے ہیں پولیس اور دیگر اداروں کو ہدایت کی جائے کہ پہلے متعلقہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے پھر جھنڈے اور بینرز اتارے جائیں الیکشن کمیشن نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو تمام سیاسی جماعتیں مرکزی قیادت کی مشاورت سے احتجاج کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی اس کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے مشترکہ طور پر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کریں گے اس اے پی سی میں جس کا اہتمام مسلم لیگ (ن) نے کیا تھا پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، جماعتِ اسلامی، اے این پی، جے یو پی اور نیشنل پارٹی نے شرکت کی، تحریک انصاف اور پاک سرزمین پارٹی اس اے پی سی میں شریک نہیں ہوئیں۔

الیکشن سے پہلے غیر جانبدار نگران سیٹ اپ اس لئے قائم کیا جاتا ہے تاکہ الیکشن میں حصہ لینے والی کسی جماعت کو یہ شکایت پیدا نہ ہوکہ اُس کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جو اس کی انتخابی پوزیشن کو منفی طور پر متاثر کرسکتا ہے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی اس کانفرنس میں جو مطالبات کئے گئے ہیں وہ عمومی نوعیت کے ہیں اور ذراسی توجہ سے یہ شکایات دور کی جاسکتی ہیں لیکن بعض شکایات ایسی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مثال کے طور پر گزشتہ دنوں بلاول بھٹو سندھ سے ریلی نکالتے ہوئے پنجاب کی سرحد میں داخل ہوئے تو وہ اوچ شریف میں مزار پر حاضری دینے کے لئے جانا چاہتے تھے جس کی انہیں انتظامیہ نے اجازت نہیں دی ممکن ہے انتظامیہ کے پاس اس کی کوئی معقول وجہ ہولیکن الزام یہ لگایا گیا ہے کہ صادق آباد کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کے حقیقی بھائی اس علاقے سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑ رہے ہیں اس لئے بلاول کو مزار پر حاضری کی اجازت نہیں دی گئی اگر ایسا ہے تو انتظامیہ کا یہ اقدام درست نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو شکایت ہے کہ لاڈلے اور ان کی جماعت کی سرپرستی کی جارہی ہے۔

الیکشن کمیشن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ تمام جماعتوں کو یکساں ہموار میدان فراہم کرے جس میں وہ آزادی کے ساتھ اپنی مہم چلا سکیں اگر ایسا نہیں اور یہ تاثر پیدا ہوگا کہ کسی کی بے جا حمایت اور کسی کی بے جامخالفت کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بعض ایسی ہی شکایات کی وجہ سے منعقد کی جارہی تھی اب اس کے جو مطالبات سامنے آئے ہیں اُن پر غور کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے جھنڈے اور بینر اُتارنے کی جو بات کی گئی ہے ایسی شکایات صرف سندھ کے شہروں ہی میں نہیں مل رہیں دوسرے صوبوں میں بھی کئی شہروں میں سیاسی جماعتوں اور اُن کے امیدواروں کو شکوہ ہے کہ ان کے ایسے جھنڈے اور بینر بھی اُتار لئے گئے جو الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ سائز اور ضابطے کے مطابق بنائے گئے تھے ہم یہ نہیں کہتے کہ اس سلسلے میں وہی موقف درست ہوگا جو اے پی سی میں اپنایا گیا لیکن اگر ایسی شکایت ہے تو اس کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے، بلاوجہ کسی جماعت کے جھنڈے اور بینر اتارنے کا کام لائقِ تحسین نہیں سیاسی جماعتوں کا یہ موقف درست ہے کہ اگر کوئی جھنڈا یا بینر الیکشن کمیشن کے مقررہ سائز کے مطابق نہیں ہے تو اسے اتارنے سے پہلے متعلقہ امیدوار کو آگاہ کردیا جائے بظاہر یہ ایک معصوم سا مطالبہ ہے جو پورا ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں اور نہ ہی اس سے الیکشن کمیشن کا کچھ بگڑتا ہے کیونکہ کسی نے یہ اصرار تو نہیں کیا کہ وہ ہر حالت میں وہ بینر لہرائے گا جو ضابطے کے مطابق نہیں بنایا گیا۔ اگر سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کواعتماد میں لے لیا جائے تو صورتِ حال کی اصلاح ہوسکتی ہے۔

25جولائی کے انتخابات میں آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے تجربہ شاہد ہے کہ ایسے امیدوار عموماً ہار جاتے ہیں کیونکہ ووٹر سیاسی جماعتوں کا پیغام تو آسانی سے وصول کرلیتا اور سمجھ لیتا ہے لیکن آزاد امیدواروں کے بارے میں اُسے گمان ہوتا ہے کہ یہ اگر کامیاب ہوبھی گیا تو کسی نہ کسی جماعت کا حصہ ہی بنے گا اس لئے ووٹر آزاد امیدواروں کو کامیاب کرانے میں چنداں دلچسپی نہیں لیتے تاہم بعض امیدوار اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں وہ آزاد کھڑے ہوں یا کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر، کامیابی اُن کے قدم چومتی ہے آزاد امیدواروں میں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ بھی ہوتے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ ہر انتخاب سے پہلے لوگ سیاسی پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن جب لوگ جوق درجوق ایک ہی سیاسی جماعت میں داخل ہورہے ہوں تو کان تو کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ جس جماعت میں یہ حضرات آج قطار اندر قطار شامل ہورہے ہیں وہ کوئی آج قائم نہیں ہوئی، رُبع صدی سے یہاں موجود تھی اس وقت ان کی محبت کہاں تھی اب تک اُن کی نگاہِ التفات اگر اس پارٹی کی جانب نہیں اٹھی تھی تو اب یکایک اس میں کیا خوبی پیدا ہوگئی ہے کہ یہ لوگ اِدھر کا رُخ کررہے ہیں اسی لئے بدگمانی بھی پیدا ہورہی ہے عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب انتخابی نشانات وغیرہ الاٹ ہو جاتے ہیں تو امیدوار پارٹی نہیں چھوڑتے اور اپنی توجہ الیکشن مہم پر مرکوز کردیتے ہیں لیکن اگر امیدواروں کا کوئی گروہ بیٹھے بٹھائے اچانک باجماعت پارٹی ٹکٹ واپس کرنے کا اعلان کردے اور آزاد الیکشن لڑنے کے لئے مخصوص انتخابی نشان طلب کرے تو شکوک و شبہات تو پیدا ہوتے ہیں کہ ایسا فیصلہ کرنے کے لئے ان کے پاس بہت وقت پہلے بھی تھا اس وقت وہ ٹکٹ کے لئے بھاگ رہے اور دوڑ دھوپ کررہے تھے بعد میں انہیں کیا سوجھی کہ وہ آزاد الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہوگئے اور پھر کس کرشمے کے تحت ان سب بندگانِ آزاد کو ایک ہی نشان الاٹ ہوگیا، کہا تو یہی جائیگا کہ یہ سب ہوتا رہتا ہے اس لئے اب بھی ہورہا ہے لیکن شبہات اور وسوسے بہر حال سراٹھا رہے ہیں ان کو دور کرنا ضروری ہے ۔

نگران وزیر اعظم سے لے کر تمام صوبائی حکومتوں کے سربراہ تسلسل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ انتخابات شفاف، منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوں گے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ جن لوگوں نے ان کے تقرر پر اعتراض کیا تھا وہ بھی ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کریں گے اللہ کرے ایسا ہی ہو، انتخابات نہ صرف آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف ہوں بلکہ ایسا ہوتا ہوا نظر بھی آئے اور جن اقدامات کو سیاسی جماعتیں یا ان کے ارکان ’’پری پول رگنگ‘‘ کہہ رہے ہیں وہ محض نظر کا دھوکا ہو، ہمیں حکومتوں اور اس کے اداروں پر پورا اعتماد ہے کہ وہ ان دعووں کو سچ کر دکھائیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...