مکینیکل دل ٹرانسپلانٹ کرنے کا شاندار کار نامہ

مکینیکل دل ٹرانسپلانٹ کرنے کا شاندار کار نامہ

قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ڈاکٹروں نے پہلی بار مکینیکل دل لگانے کا کارنامہ انجام دے کر عالمی اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ کراچی کی رہائشی 62سالہ خاتون کا دل 15فیصد کام کررہا تھا۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کے ماہر ڈاکٹر پرویز چودھری کی سربراہی میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے پانچ گھنٹے تک آپریشن کرکے مکینیکل دل لگایا، ٹیم میں امریکی ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ اس آپریشن پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ مکینیکل دل ٹرانسپلانٹ ہونے کے بعد پانچ سے سات سال تک کام کرتا ہے اور مریض نارمل زندگی گزارتا ہے۔ بلاشبہ پاکستانی ڈاکٹروں نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جس پر پوری قوم فخر کرسکتی ہے جبکہ شعبۂ طب سے وابستہ ماہرین طب ایک اہم ترین سنگِ میل عبور کرنے پر تاریخی کامیابی کا جشن منانے میں حق بجا نب ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ ڈاکٹروں کی جس ٹیم نے یہ عالمی اعزاز حاصل کیا ہے، ان کا تعلق سرکاری ہسپتال سے ہے۔ عموماً سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں سے اس قسم کی غیر معمولی کامیابی کی توقع نہیں کی جاتی اور نجی ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو ایسے کارناموں کے لئے مناسب اور موزوں سمجھا جاتا ہے۔ مکینیکل دل ٹرانسپلانٹ کئے جانے میں کامیابی کے بعد پاکستان میں تبدیلی دل کے آپریشن کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کے لئے اب دوسرے ممالک میں جانا ضروری نہیں ہوگا۔ تاہم آپریشن کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، عام آدمی ایک کروڑ دس لاکھ روپے کا بندوبست نہیں کرسکتا، حکومت کو اخراجات میں کمی کو یقینی بنانا چاہئے۔ قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ڈاکٹروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ مقامی ڈاکٹروں کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہم کارنامے انجام دینے والے ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ عام طور پر یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ باصلاحیت سرکاری ملازمین اپنی مدد آپ کے تحت کوئی کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی مناسب حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور محض بیان بازی کے ذریعے معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے۔ اسی نوعیت کے کئی کارنامے اس سے پہلے بھی سامنے آچکے ہیں لیکن ایک آدھ معاملے ہی میں حکومتی سطح پر نوٹس لیا جاسکا۔ اس وجہ سے عام لوگوں کی بہتری کے کارنامے انجام دینے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور بہت سے لوگ مایوسی کا شکار ہو کر اپنا کام ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عوامی فلاح و بہبود اور دکھی انسانیت کی مدد کرنے والوں کی حکومتی سطح پر سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے لئے اصولی پالیسی بنائی جائے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی! قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ڈاکٹروں کی ٹیم کو انعامات دے کر حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...