ڈیم بناؤ مہم، فنڈز قوم فراہم کرے گی

ڈیم بناؤ مہم، فنڈز قوم فراہم کرے گی
ڈیم بناؤ مہم، فنڈز قوم فراہم کرے گی

  


ڈیموں کی تعمیر میں اب فنڈز کی دستیابی غالباً کوئی مسئلہ نہیں رہے گی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جس قومی مہم کا آغاز کیا ہے، عوام شاید اسی کے منتظر تھے، مسلح افواج نے اپنے جوانوں کی ایک دن اور افسروں کی دو دن کی تنخواہ اس ’’ڈیم بناؤ فنڈ ‘‘میں دینے کا اعلان کردیا ہے، اس سے کروڑوں روپے اکٹھے ہوں گے، ادھر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں سب سے پہلے فیسکو یعنی فیصل آباد الیکٹریکل کمپنی نے اپنے ملازمین اور افسران کی بالترتیب ایک اور تین دن کی تنخواہ اس فنڈ میں دینے کی منظور دے دی ہے، باقی کمپنیاں بھی اس کی تقلید کریں گی، یہ سلسلہ تو اب چل نکلا ہے اور امید ہے کہ اتنے فنڈز جمع ہو جائیں گے کہ ہم ان دو ڈیمز کے علاوہ بھی کوئی اور ڈیم تعمیر کرسکیں گے۔ اصل میں مسئلہ یہ رہا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ختم ہوچکا ہے۔

اس قدر کرپشن کی گئی ہے اور عوام کے اعتماد کو اتنے دھوکے دیئے گئے ہیں کہ اب لوگ حکومت کی کسی اپیل پر پیسہ دیتے ہوئے سو بار سوچتے ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے بالکل درست کہا ہے کہ عوام پیسے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں، مگر یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس ’’ڈیم بناؤ فنڈ‘‘ کی نگرانی کرے۔

اب اس صورت حال میں اگر اسٹیٹ بینک سپریم کورٹ کی نگرانی کا آپشن استعمال نہیں کررہا، تو یہ اس کی نا اہلی ہے، جس پر چیف جسٹس نے اظہار نا پسندیدگی بھی کیا ہے، یہ معاملہ کس قدر ضروری ہے، اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے سب سے پہلے اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کا قدم اٹھایا ہے۔

اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ پانی کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور ملکی سلامتی کے لئے یہ مسئلہ بھی حالتِ جنگ کی طرح اہمیت اختیار کرچکا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے بعد تحریک انصاف نے بھی اپنے منشور میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیا ہے، گویا وہ خواب اب شرمندۂ تعبیر ہونے جارہا ہے، جسے دیکھتے کئی دہائیاں بیت گئیں، اب اقتدار میں کوئی بھی سیاسی جماعت آئے ڈیموں کی تعمیر کے ایشو کو پسِ پشت نہیں ڈال سکے گی، ایک تو ان کے فنڈز میں اس قدر پیسہ موجود ہوگا کہ مالی سکت نہ ہونے کا عذر ختم ہوجائے گا اور دوسرا عوامی دباؤ ہر وقت موجود رہے گا۔

چیئرمین واپڈا کا کہنا ہے کہ صرف فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث بھاشا ڈیم کی تعمیر رکی ہوئی تھی، اب اس سال ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوجائے گا۔ حیرت ہے ہم نے اربوں کھربوں کے منصوبے تو شروع کئے، مگر ان منصوبوں کے لئے فنڈز نہ رکھے،حالانکہ اورنج ٹرین اور سولر پاور جیسے منصوبے تو بعد میں بھی شروع کئے جاسکتے تھے، اصل منصوبے تو وہ ہوتے ہیں جو قوم کو مشکلات سے نکالیں۔ ڈیموں کے منصوبے شروع کرکے ہم نہ صرف پانی کے مسئلے سے نمٹ سکتے تھے، بلکہ سستی بجلی بھی حاصل کی جاسکتی تھی۔

اب بقراطی جھاڑنے والے اس نکتے میں الجھے ہوئے ہیں کہ ڈیم بنانا سپریم کورٹ کا اختیار کب سے ہوگیا؟ کچھ قانونی ماہرین بھی جنہیں سوائے اپنی بھاری فیسوں کے اور کسی بات کا علم ہی نہیں ہوتا، سپریم کورٹ کے اس عمل کو آئین کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آئین کا بنیادی منشاء یہ ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

بنیادی حقوق صرف یہی نہیں ہوتے کہ تشدد سے بچا لیا جائے یا غیر قانونی حراست سے چھڑا کر کوئی وکیل یہ کہے کہ اس نے بنیادی حقوق کو یقینی بنا دیا ہے۔ بنیادی حقوق کی تعریف تو بہت وسیع ہے۔ آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ تمام شہریوں کو خوراک، روزگار، تعلیم، صحت کی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔مگر یہاں یہ حال ہے کہ لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، ان کا یہ بنیادی حق بری طرح پامال ہورہا ہے، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہونے کے باوجود کسانوں کو کھیتوں کے لئے پانی دستیاب نہیں، حالانکہ یہ بھی بنیادی حق میں شامل ہے، پھر بنیادی بات یہ ہے کہ اس بحث میں پڑ کر ہم ’’پہلے تو یا پہلے وہ ‘‘کی تکرار نہیں کرسکتے۔ یہ ایک قومی اور اجتماعی مسئلہ ہے، گویا یہ ہر آئینی ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

یہاں باقی ادارے بد قسمتی سے مفلوج نظر آتے ہیں، حکومتیں اپنی ترجیحات کو اجتماعی مفاد سے زیادہ انفرادی مفاد کا اسیربنا لیتی ہیں، ایسے میں معاملات بگڑتے بگڑتے یہ حالت ہوجاتی ہے کہ ملک بنجر ہونے کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔

حق تو یہ ہے کہ پوری قوم سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرے، جنہوں نے ایک مردہ ایشو کو زندہ کردیا۔ وہ اس طرف توجہ نہ دیتے تو بحث اس نکتے پر اڑی رہنی تھی کہ کالا باغ ڈیم بننا چاہئے یا نہیں؟ کسی نے یہ نہیں سوچنا تھا کہ کالا باغ نہ سہی کوئی دوسرا ڈیم تو فوری بننا چاہئے، تاکہ کہیں تو ضائع ہونے والے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے۔ مجھے یقین ہے کہ سیاسی حکومتوں نے ڈیموں کی تعمیر سے اس لئے بھی پہلو تہی جاری رکھنی تھی کہ وہ اپنے ڈویلپمنٹ فنڈز کو شہروں اور سڑکوں پر خرچ کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتی ہیں، ڈیم جیسے پراجیکٹس چونکہ طویل مدتی ہوتے ہیں، اس لئے ان میں دلچسپی کم ہوتی ہے۔

کریڈٹ لینے کا مسئلہ بھی درمیان میں آجاتا ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان کی مداخلت نے اس بڑی رکاوٹ کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے ڈیم بنانے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ان کے لئے فنڈز کی فراہمی کا ذمہ بھی اٹھالیا ہے۔

اربوں روپے تو ان کے قائم فنڈز سے ہی حاصل ہوجانے ہیں، تاہم ان کا ڈوبے ہوئے قرضوں کی واپسی، منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر لے جانے والوں سے ریکوری اور ٹیکس نادہندگان کے گرد شکنجہ کس دینے کے بعد قومی دولت وصول کرنے جیسے فیصلوں سے اتنے زیادہ فنڈز مہیا ہوسکتے ہیں کہ ڈیم کئی گنا زیادہ تیز رفتاری سے بنیں گے اور قوم پانی کے بحران سے باہر نکل آئے گی۔

یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ہماری حکومتیں بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے بھی ڈیمز نہیں بناتی تھیں۔ آئی ایم ایف کی طرف بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں کہ اس نے بجٹ میں ڈیم کی تعمیر کے لئے بڑی رقم مختص کرنے کی ہمیشہ مخالفت کی تاکہ پاکستان ڈیمز بنا کر بجلی کے بحران پر قابو نہ پالے، چیف جسٹس ثاقب نثار کے علم میں یہ سب مسائل رہے ہوں گے، جبھی انہوں نے ڈیمز کی تعمیر کے لئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، اچھی بات یہ ہے کہ ان کی اس معاملے پر گہری نظر ہے اور وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ بیورو کریسی کہاں کہاں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے، جو ماضی میں ’’قرض اتارو ملک سنوارو ‘‘جیسے فنڈز کا اجاڑا کرچکی ہے۔ انہوں نے ڈیم فنڈ کی شفافیت کو قائم رکھنے کا حکم دیا ہے اور کوئی بھی شخص جمع ہونے والی رقم کا ریکارڈ چیک کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس کو ایسا فیڈ بیک ملا ہوگا ، جس کی بنا پر وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ لوگ حکومت کی زیر نگرانی اس فنڈ میں پیسے دیتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں، اس لئے ہم نگرانی کا نظام آڈیٹر جنرل کی معاونت سے سپریم کورٹ کی زیر نگرانی بنا رہے ہیں۔

اس فنڈ کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لئے سب سے پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار نے دس لاکھ روپے دیئے، پھر قائم مقام صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 15 لاکھ روپے جمع کرائے، اس کے بعد فوج کی طرف سے تنخواہیں جمع کرانے کا اعلان کیاگیا۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ وزیراعظم ناصر الملک کو بھی اپنے اور کابینہ کی طرف سے اس فنڈز میں عطیات جمع کرانے کا فوری اعلان کردینا چاہئے، تاکہ مملکت کے چاروں بڑے اداروں کی طرف سے عوام کو یہ پیغام جائے کہ اس فنڈ میں پورے ملک کی ذمہ داری ہے تاکہ ڈیمز کو جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی مسلسل یہ انکوائری کررہے ہیں کہ وہ غیر ملکی کرنسی میں عطیات کیسے جمع کراسکتے ہیں؟ اسٹیٹ بینک کو اس پہلو پر بھی فوری توجہ دینی چاہئے، تارکین وطن اتنے زیادہ فنڈز مہیا کریں گے کہ شاید ہمارے لئے دیگر عطیات کی ضرورت ہی نہ رہے، کیونکہ ان کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے اور وہ پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، بد قسمتی سے ’’قرض اتارو، ملک سنوارو‘‘ مہم میں ان کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا گیا، لیکن اب ڈیمز کے لئے فنڈز مہم کو وہ اس لئے اعتماد سے دیکھ رہے ہیں کہ اس کی نگرانی سپریم کورٹ کررہی ہے۔

امید کی جانی چاہئے کہ ’’ڈیم بناؤ مہم ‘‘کو کسی سیاست کی نذر نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اسے منفی نگاہ سے دیکھیں گی، اگر تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی بھاشا ڈیم کی تعمیر کو اپنے منشور میں شامل کرچکی ہیں تو یہ ان کے لئے اطمینان کی بات ہونی چاہئے کہ اقتدار ملنے کی صورت میں انہوں نے صرف ڈیمز کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے فنڈز کی فراہمی ان کا مسئلہ نہیں رہے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...