پاکستان حا لتِ جنگ میں ہے

پاکستان حا لتِ جنگ میں ہے
پاکستان حا لتِ جنگ میں ہے

  


یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے قومی معاملات درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں آزادی کے 70 سال گزرنے کے باوجود ہم انہی مسائل کا شکار ہیں جو ہمیں سقوط مشرقی پاکستان کی طرف لے کر گئے تھے مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح پر بھی انڈین ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ہماری سول بیوروکریسی، ہمارے سیاستدانوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتی رہی ہے ملک غلام محمد ، چودھری محمد علی سول بیوروکریسی سے تعلق رکھتے تھے۔

میجر جنرل سکندر مرزا بیک ڈور لیٹرل اینٹری کے ذریعے سول سروس میں لائے گئے تھے انہوں نے مل جل کر 1958 تک قومی معاملات کو چلایا چودھری محمد علی کے کریڈٹ پر ایک بات جاتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو پہلا آئین 1956 دیا لیکن انہیں بھی نہیں چلنے دیا گیا سکندر مرزا نے جنرل ایوب کو مارشل لاء لگانے کی دعوت دی اور خود صدر مملکت کے منصب پر قائم رہے جنرل ایوب خان ، جو ایک عرصے سے بنتے بگڑتے معاملات کو بڑی قریبی نظر سے دیکھ رہے تھے نے مارشل لاء لگانے کے 20 دن بعد سکندر مرزا کو بھی چلتا کیا اور اقتدار پر مکمل قابض ہو گئے۔ انہوں نے گیارہ سال تک 1958 تا 1969 ملک کو مطلق العنان حکمران کے طور پر چلایا 1962 کا آئین دیا بنیادی جمہورتوں کا نظام رائج کیا۔ انہوں نے عوامی و قومی سیاست کو پنپنے نہیں دیا۔ عوامی نمائندوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔

بنگالی ، جو مغربی پاکستان کے لوگوں سے زیادہ سیاسی شعور رکھتے تھے، ایوبی آمریت کے خلاف سینہ سپر ہوئے ان کے دلوں میں مرکز کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ بھارت بیچ میں کود پڑا۔ اس نے علیحدگی کی تحریک کو ہوادی۔

ویسے تو جنرل ایوب کے خلاف مغربی پاکستان میں بھی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی جو بالآخر جنرل ایوب کی رخصتی پر منتج ہوئی۔ جنرل ایوب خان جاتے جاتے خود ہی اپنے وضع کردہ آئین 1962 کا بوریا بستر گول کر گئے کیونکہ مستعفی ہونے کے بعد آئینی طور پر اقتدار سپیکر کے حوالے کرنا تھا لیکن اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کو پائمال کرتے ہوئے انہوں نے آرمی چیف جنرل یحیےٰ خان کو اقتدار سونپا اور پھر خود گوشہ عافیت میں چلے گئے۔

جنرل یحیےٰ خان نے عوامی دباؤ کے تحت الیکشن منعقد کرائے لیکن اقتدار کی منتقلی کے مسئلے پر غیر دانشمندانہ فیصلے کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہوا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا۔ عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست ٹوٹ کر ساتویں نمبر پر آگئی۔ ذولفقار علی بھٹو نے باقیماندہ پاکستان کو تعمیر کرنے کے عزم کا اظہار کیا مایوس اور نا امید قوم کو تعمیر و ترقی کی شاھراہ پر چلانے کی کاوشیں کیں لیکن وہ اپنے فسطائی مزاج کے ہاتھوں مار کھا گئے افراتفری پھیلی ۔

صنعتوں کے قومیائے جانے کے فیصلے نے معاشی ابتری پیدا کی تعلیمی اداروں کو قومیائے جانے کے فیصلے کے نتیجے میں سماجی سطح پر معاملات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ بھٹو نے عام آدمی کو اپنے حقوق کا شعور دیا لیکن اس شعور کو آگہی اور تعمیر و ترقی کی منازل کی طرف لیجانے میں ناکام رہے غیر ملکی سرمایہ کاری صفر ہو گئی۔

قومی پیداوار گھٹ گئی بے روز گاری عام ہو گئی اس بے چینی کے دوران عام انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں متحدہ اپوزیشن نے تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں ملک میں خونریزی شروع ہو گئی جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا خاتمہ کیا اور 5/4 جولائی 1977 کی درمیانی شب ملک میں مارشل لاء لگادیا گیا۔

جنرل ضیاء الحق کا دور پیپلز پارٹی کی بیخ کنی میں گزرا۔ بھٹو کو ایک مقدمہ قتل میں جو انہی کے دور میں انکے خلاف درج کیا گیا تھا، پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں عالم اسلام اور عالم مغرب کی عنائتیں پاکستان پر سایہ فگن رہیں پاکستان کی افغان پالیسی کے باعث عالم عرب و غرب کی نواز شات کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف اپنی دفاعی قوت مضبوط کی بلکہ نیوکلئیر پروگرام بھی مکمل کیا۔

جنرل ضیاء الحق کے 1988 میں منظر سے ہٹائے جانے کے بعد 1999 تک جمہورتیوں کا دور رہا جس میں سول اور ملٹری بیوروکریسی معاملات بنانے اور بگاڑنے میں شامل رہی بے نظیر اور نواز شریف ادوار حکومت چلتے رہے لیکن کوئی بھی اپنا عرصہ حکومت مکمل نہ کر سکا حتیٰ کہ 1999 میں جنرل مشرف ایک ڈرامائی انداز مین اقتدار ، پر قابض ہو گئے پھر 9/11 ہو گیا اور ہم نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں جو بزدلانہ افغان پالیسی اختیار کی اس کے نتیجے میں پاکستان بحران کا شکار ہو گیا جنرل مشرف کی اختیار کردہ افغان پالیسی کے نتیجے میں گزرے 17 سالوں سے پاکستان مصائب اور مشکلات کا شکار ہے ہم دھشت گردی کے خلاف امریکہ کے حلیف بنے لیکن ہم خود اس کا شکار ہو گئے ہم نے 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھا لیا ہے اور 75 ہزار سے زائد انسانی جانوں کی قربانی دے دی ہے جسمیں ہماری مسلح افواج کے افسران و جوانوں سمیت ، دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں اور سویلین، بچوں،جوانوں، عورتوں کی قربانی بھی شامل ہے۔

دھشت گردی کی اس جنگ نے ہماری اقتصادیات اور معاشرت کو تباہ و برباد کر کے رکھدیا ہے۔جنرل مشرف اپنے دور حکمرانی میں نواز شریف خاندان اور انکی پارٹی کی بیخ کنی میں لگے رہے پھر بے نظیر کے ساتھ شرمناک این آر او کر کے اپنا اقتدار پکا کرنے کی پالیسی میں ناکامی کے بعد اب در بدر پھر رہے ہیں وہ ایک مفرور ملزم قرار پا چکے ہیں۔

2008 میں منتخب حکومتیں کام کرنے لگیں تو انہیں ایک نئی قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے آصف علی زرداری اور نوازشریف حکومتیں آزادانہ انداز میں کام نہیں کر پائی ہیں 2008 تا 2018 کے اخبارات ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں کہ جمہوری حکومتوں کو چلنے نہیں دیا گیا ہے۔ نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان کا تاریخی دھرنا کسے یاد نہیں۔

جسمیں علامہ طاہر القادری کو بھی شامل کر دیا گیا تھا۔ پھر انہیں خدائی مدد ملی اور پانامہ لیکس سامنے آگیا جسمیں نواز شریف خاندان کو جس انداز میں نا اہل اور پھر مجرم قرار دے کر سزا وار قرار دے دیا گیا وہ بھی محل نظر ہے کرپشن اور منی لانڈرنگ تو ثابت نہیں ہو سکی لیکن فیصلے میں لکھا گیا کہ " بادی النظر میں ایسے لگتا ہے۔۔۔۔ " اور پھر نواز شریف خاندان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔سردست شریف خاندان کو سیاست سے الگ رکھنے کی کاوشیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔

سیاسی عمل سے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو ہٹانے اور عمران خان کو کلین سویپ دینے کی کاوشیں ابھی تک کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں 100 سے زائد الیکٹ ایبلز کو دیگر جماعتوں سے توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کرانے اور انہیں ٹکٹ دلوانے کے باوجود آزاد ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ نواز لیگ ہی سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی یہ صورتحال خاصی پریشان کن ہے۔

دوسری طرف اس کھیل نے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے 92 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی کمی ، ایکسپورٹ میں گراوٹ ، اخراجات جاریہ میں بے پناہ اضافہ نے ہماری قومی اقتصادیات کے کس بل نکال دئیے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکی و افغانی افواج کی شکست اور انڈین فورسز کی پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کے بھی ہماری معیشت اور معاشرت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکہ اپنی شکست کے لئے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتا ہے ہم پر افغان طالبان کو مزاکرات کی میز تک لانے کا شدید دباؤ ہے دھشت گردی کے ٹھکانوں کے خاتمہ کا مطالبہ اس کے علاوہ ہے۔ امریکی " ڈومور" کے مطالبے پر قائم ہیں۔

مستحکم حکومت کی عدم موجودگی کے باعث غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو کھل کھلا کر کھیلنے کے مواقع دستیاب ہو گئے ہیں انہوں نے نظریاتی انارکی پھیلا رکھی ہے بے لگام سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر حملے ہو رہے ہیں نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔

سی پیک کے باعث خطے کی دیگر قوتیں بھی پاکستان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی ہیں اطلاعات کے مطابق وہ بھی اس منصوبے کے خلاف یہاں" سرمایہ کاری " کر رہی ہیں یہ سب کچھ مل جل کر پاکستان میں انارکی کی صورتحال پیدا کر رہا ہے پاکستان ہندوستان کی آبی جارحیت کا طویل عرصے سے شکار ہے اب اطلاعات آرہی ہیں کہ افغانستان دریائے کابل پر ہندوستان کے تعاون سے ڈیم بنا رہا ہے جس سے ہمیں دستیاب پانی کی مقدار میں مزید کمی ہو جائے گی اس میں کسی شک و شہبے کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم پانی کے شدید بحران کا شکار ہیں۔

دستیاب فی ایکڑ پانی میں شدید کمی واقع ہو چکی ہے زرعی ماہرین کے بنائے گئے پیمانوں کے مطابق ہم " نیم بنجر ملک " قرار پا چکے ہیں زراعت کے لئے دستیاب پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ ہم پینے کے پانی کی شدید کمی کابھی شکار ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب معلومات خاصی پریشان کن ہیں۔

ہم اگر اپنی مجموعی صورتحال کا مطالعہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم حالتِ جنگ میں ہیں لیکن ہمارے ایکشن "سب اچھا ہے " کے عکاس ہیں۔ ہم اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔

ہر کوئی کام کر رہا ہے لیکن اپنا نہیں دوسرے کا۔ ادارے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں اداروں پر عوام کے اعتماد کی حالت پتلی ہے۔ اختلاف رائے، دشمنی اور بداعتمادی کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہا ہے ۔

اپنے اپنے طے کردہ اہداف کے حصول کی کاوشیں کی جا رہی ہیں جبکہ قومی اور اجتماعی مفادات کے حصول کا داعیہ کہیں گم ہو گیا ہے ایسی صورتحال میں پاکستان کہیں کسی حادثے کا شکا ر بھی ہو سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...