اگر میں نواز شریف ہوتا

اگر میں نواز شریف ہوتا
اگر میں نواز شریف ہوتا

  


اگر میں نواز شریف ہوتا اور میرے خلاف ایک بوگس فیصلہ آچکا ہوتا، مجھے سیاسی طور پر مقبول ہونے کے سبب گرفتاری دینا پڑتی، میری پارٹی سرووں میں سب سے آگے ہوتی، مجھے لندن سے اپنی بیٹی سمیت واپس آنا پڑتا، میری پارٹی کے لوگ جوق در جوق ایئرپورٹ پر پہنچے ہوتے، ایئرپورٹ پر کوئی ہیلی کاپٹر مجھے جہاز سے اترتے ہی جیل لے جانے کے لئے تیار ہوتا، میرے ساتھ میڈیا کا جم غفیر ہوتا، میری پارٹی ٹوٹ پھوٹ سے بچ چکی ہوتی تو میں گرفتاری ضرور دیتا!لیکن سوال نواز شریف کی گرفتاری کا نہیں ہے بلکہ گرفتاری دینے کے طریقے کا ہے۔ نواز شریف کے مخالفین چاہتے ہیں کہ نواز شریف کی بطور مجرم گرفتاری دھوم دھڑکے سے نہ ہو لیکن نواز شریف کے حامی بضد ہیں کہ وہ بینڈ باجے کے ساتھ یہ گرفتاری کروائیں گے۔ اب تک کتابوں میں پڑھا تھا یا لوگوں کی زبانی سنا تھا ، 13جولائی کو دیکھ بھی لیں گے کہ بینڈ باجے کے ساتھ گرفتاری کیسے ہوتی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، عوام سے پھڈا نہیں لے سکتی ، عدلیہ ایک پاپولر لیڈر کو ایک حد تک کنٹرول کرسکتی ہے، خاص طور پر جب پارٹی کے امیدوار سمجھتے ہوں کہ جیل میں بیٹھا نواز شریف جاتی عمرہ میں بیٹھے نواز شریف سے زیادہ پاپولر ہوگا، اس صورت میں ان کی جیت کا امکان دوچند ہوجائے گاخاص طور پر جب امریکہ علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ وہ پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندی پر احتجاج کرے گا اور انٹرنیشل آبزرور آنکھیں لگائے بیٹھے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات کا عمل کتنا شفاف ، کتنا آزاد اور کتنا منصفانہ ہے۔ایسے عالم میں نواز شریف کی متحمل مزاجی انہیں Payکرے گی۔

بحیثیت ایک سیاسی لیڈر کے نواز شریف کو گرفتاری سے قبل ایک تقریر کا حق ہے ، اگر انہیں پاکستان میں اس تقریر کی اجازت نہ ملنے کا امکان معدوم ہوا تو وہ برطانیہ روانگی سے قبل تقریر کریں گے، وہاں موقع نہ ملا تو دبئی میں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ الیکشن 2018ء کی وکٹری سپیچ ان کے پاس ہے اور انہیں اس قدر اکثریت لینی ہے کہ وہ کالے قانونوں کو ختم کرسکیں، انصاف کو اس کی اصل شکل میں بحال کرسکیں، وہ ہر صورت اپنی پارٹی کو قائم رکھیں گے اور کسی صورت یہ تاثر نہیں دینا چاہیں گے کہ وہ ایک کمزور شخص ہیں۔

پاکستان واپسی نواز شریف کے لئے ایک نادر موقع ہے ، وہ اس موقع پر نتقید اور تعریف کے امتزاج سے الیکشن میں اپنی پارٹی کی جیت یقینی بنائیں گے ، انہیں اپنے ووٹروں سپورٹروں کا لہو گرمانا ہے کیونکہ ان کا ووٹر ان کے ساتھ کھڑا ہے ، انہیں ان کی بھی ہمت بندھانی ہے جو گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں اور اس تاثر میں گھلے جا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ووٹ کو بے توقیر کردے گی اور عمران کے حق میں ووٹ ڈلوائے گی ، نواز شریف کو ایسے ووٹروں کو باور کرانا ہے کہ جیت ان کا مقدر ہے، نون لیگ کی ہار کوئی آپشن نہیں ہے خاص طور پر جب کہ نواز شریف کو اپنے انداز میں سیاست کرنے کا بھرپور موقع مل رہا ہے، ان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور لوگ بھٹو کو بھول گئے ہیں، اب لوگوں کو صرف نواز شریف یاد ہے ، ان کی تقریر الیکشن سے پہلے لمحات کو یادگار بناسکتی ہے۔

نواز شریف پیغام لا رہے ہیں کہ نون لیگ جیت رہی ہے کیونکہ نون لیگ کی قیادت اپنے لوگوں کے درمیان ہے ، اس کے باوجود کہ کلثوم نواز کی بگڑی ہوئی صحت نواز شریف کے لئے ایک کڑی آزمائش ہے لیکن اگر کلثو نواز کو ذرا سا بھی ہوش ہوتا تو نوا زشریف سے یہی کہتی کہ آپ اپنے لوگوں میں جائیں ، میرا اللہ مالک ہے!نواز شریف جیپ والوں کو بتانے آرہے ہیں کہ شیر بھاگا نہیں ہے ، وہ جنگل میں دندناتے نہیں گھوم سکتے!۔۔۔انہیں مخالفین کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے آنا ہے، پہلے ہی ان کے آنے کے اعلان سے مخالفین کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ چکے ہیں،وہ نواز شریف کی واپسی سے قبل کوئی کامیاب پراپیگنڈہ کرنا چاہتے ہیں، ایسے میں کہیں ریحام خان کی کتاب نہ شائع ہو جائے !نواز شریف کے خلاف نیب عدالت کا فیصلہ قلم کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی نامعتبر ہو چکا ہے ، کمزور عدالتی فیصلے نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ کررہے ہیں، ان کمزور فیصلوں کی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف اتنا پراپیگنڈہ ہوا ہے کہ اب نواز شریف کے حامی اس پراپیگنڈے کی ضد میں نواز شریف کو ووٹ ڈالیں گے، یہ الیکشن نواز شریف اور عمران خان کے درمیان نہیں ہے۔

اگر نواز شریف کے استقبال کے لئے بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے بڑا جلوس نکل آیا تو پاکستانی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم ہو جائے گی، پھر چاہے انہیں ایئرپورٹ پر گرفتار کیا جائے یا پھر وہ ایئرپورٹ لاؤنج میں تقریر کرکے رنگ روڈ سے نکل جائیں، کچھ فرق نہیں پڑتا، ان کو ہتھکڑی لگانا مہنگا پڑے گا، انہیں ایئرپورٹ کے اندر بھی روکنا آسان نہیں ہوگا، وہ گرفتاری کے لئے ہاتھ بڑھائیں گے تو اتنے ہاتھ ایک ساتھ میں بڑھیں گے کہ ہتھکڑی کا سائز چھوٹا پڑجائے گاکیونکہ ان کے خلاف عدالتی فیصلے کا فلوس نکل چکا ہے،اب نواز شریف خود پچھلے ستر سال میں عوام کی بے بسی کا مقدمہ بن کر اقتدار کے ایوانوں میں گونج رہے ہیں جس طرح بھٹو انصاف کے خون کا مقدمہ بن کر پچھلے چالیس برس سے گونج رہے ہیں، نواز شریف مخالفت سے گھبرانے والا نہیں ہے، ووٹر کو نواز شریف کے خلاف ہونے والے سلوک پر غصے کو سنبھال کر رکھنا ہے، یہ غصہ بیلٹ باکس سے ٹپکنا چاہئے، نواز شریف کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا جواب ووٹ سے بہتر اور کچھ نہیں ہوسکتا، اس کے حامیوں کو اپنا ووٹ محفوظ بنانا ہے، اپنا شناختی کارڈ سنبھال کر رکھنا ہے، کسی کے ہتھے نہیں چڑھنے دینا ہے!نواز شریف کا سیاسی سفر ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے شروع ہوا تھا اور ’مجھے کیوں نکالا‘ تک آن پہنچا ہے ، دیکھئے یہ دریا آگے کس طرف راستہ بناتا ہے، اس کا راستہ نہیں روکا جا سکتا ہے !۔۔۔ان کی واپسی ان پر جنرل مشرف سے بھی ڈیل کا داغ دھوڈالے گی !

نواز شریف جانتے ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے ووٹر کی نفسیات سے کھیلنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے جسے وہ بار بار ایک خطرناک کھیل قرار دے چکے ہیں۔ وہ بتارہے ہیں کہ یہی کھیل مشرقی پاکستان میں بھی کھیلا گیا تھا ، پیپلز پارٹی کے ووٹروں کے ساتھ بھی کھیلا گیا اور اب نون لیگ کے ووٹروں کو آگے لگالیا گیا ہے لیکن اس گیم پلان کو ترتیب دینے والے کو سمجھنا چاہئے کہ نون لیگ کا ووٹر اگر دل کڑا کرکے سڑکوں پر احتجاج کی سیاست نہیں کرتا ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ دل بھی نہیں ہارتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ اس کو اپنا غصہ کہاں اتارنا ہے، 2018ء کے انتخابات میں پولنگ اسٹیشنوں پرپڑے بیلٹ باکسوں سے نون لیگ کے ووٹر سپورٹر کا غصہ نکلے گااور نون لیگ کے متوالے اس مرتبہ کسی کو بھی بیلٹ باکس اٹھا لے جا کر بھرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...