قابل اعتماد انتخابی عمل کے تقاضے

قابل اعتماد انتخابی عمل کے تقاضے
قابل اعتماد انتخابی عمل کے تقاضے

  

الطاف حسن قریشی کے ادارہ پائنا اورپنجاب یونیورسٹی کے مرکز مطالعہ جنوبی ایشیا اور پاکستان سٹڈ یز سینٹر کے مشترکہ سیمینار میں پاکستان کے آنے والے انتخابات کو قابل اعتماد بنانے پر غور و خوض کیا گیا ، جس میں جناب ایس ، ایم ، ظفر ، احمد بلال محبوب، جسٹس فتح محمد کھوکھر کے علاوہ بریگیڈئر ریاض احمد طور، قیوم نظامی، ڈاکٹر امان اللہ ملک، سجاد میر، ڈاکٹر حسین پراچہ ،محمد مہدی، ظہیر احمد میر، ڈاکٹر رانا اعجاز، سحر صدیقی ، احسان وائین اور خود میں نے اظہار خیال کیا۔

نظامت کے فرائض پروفیسر شبیر احمد نے سرانجام دئیے۔ الطاف حسن قریشی نے تمہیدی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ جناب جسٹس ریٹائرڈ ناصرالمک کو نگران وزیر اعظم بنانا ایک اچھا اقدام ہے اور توقع ہے کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ 2013ء کے انتخابات والی شکایات آنے والے انتخابات کے سلسلے میں پیدا نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ فوج اور عدلیہ کی طرف سے بار بار منصفانہ انتخابات کی یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔

لیکن بعض شکوک پیدا کرنے والی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے تشدد پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ایسی فضا پیدا کرنے والوں کے خلاف ہمیں اس پلیٹ فارم سے آواز اٹھانی چاہئیے۔رہنماؤں کو بے یقینی پیدا کرنے، تشدد اور مذہبی تعصب پیدا کرنے والی باتوں سے اجتناب کرنا چاہئیے۔

سوشل میڈیا نے عوام میں اعتماد پیدا کیا ہے۔ امیدواروں پر تشدد کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے۔احمد بلال محبوب نے کہا کہ قوم گیارہویں عام انتخابات کی طرف جانے والی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء میں ایسے انتخابی قواعد منظور ہوئے ہیں جن سے اتنخابی عمل میں بہت بہتری پیدا ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے اختیارات بہتر ہوئے ہیں۔ آنے والے انتخابات اگر اب تک کے انتخابات میں بہترین نہیں تو ان میں یہ پوٹینشل ضرور ہے کہ وہ کم از کم بہتر ضرور ہوں گے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد اب الیکشن کمشنر کا تقرر حکومت اور قائد حزب اختلاف مل کر کرتے ہیں۔بھارت میں بہت کوشش کی گئی ہے کہ وہاں بھی اس سلسلے میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی جائے لیکن وہاں ایسا نہیں ہو سکا۔اب ہمارے ہاں ووٹرز کی درست فہرستیں تیار ہوچکی ہیں۔ پہلے یہ بھی تھا کہ ایک ہی ووٹر کا نام 27 بار درج ہو جاتا تھا، اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ صحیح معنوں میں کمپیوٹرائزڈ فہرستیں تیار ہوئی ہیں۔ انتخابی حلقہ بندی پر اعتراضات ہوتے رہے ہیں۔

یہ ذمہ داری تحصیلداروں وغیرہ کے سپرد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں1285 اعتراضات ہوئے، جنہیں بروقت نمٹا دیا گیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ نگران وزیراعظم سابقہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ تھے، اس طرح انہیں انتخابی عمل کی تمام کمزوریوں کا علم ہے۔ انہوں نے اس وقت بے اعتمادی کے39پوائنٹس کی نشاندہی کی تھی۔

امیدواروں کی سکروٹنی اور جانچ پڑتال کا عمل بھی بہت اچھا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نادر ا اور دوسرے اداروں سے بروقت ضروری مدد ملتی رہی ہے جس سے فیصلہ کرنے میں آسانی رہی۔ ہمارے ہاں انتخابی مہم کے سلسلے میں قوانین پر عملدرآمد کرانا مشکل رہا ہے اس کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنرز پر ہے۔ ساہیوال میں ڈپٹی کمشنر نے ایک امیدوار کو بلا اجازت جلوس نکالنے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کرکے اچھی مثال قائم کی ہے۔

ملک میں1970ء میں پہلی بار حق رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے۔ انہیں فری اینڈ فیئر انتخابات کہا جاتا ہے لیکن حقیت یہ ہے کہ اس وقت مشرقی پاکستان کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر عوامی لیگ کے غنڈوں کا قبضہ تھا اور ان کے مخالفوں کے لئے ووٹ ڈالنا محال تھا۔1988ء کے انتخابات کے سلسلے میں ایک قومی ادارے کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ اس نے ایک جماعت کو کمزور بنانے کے لئے دوسری جماعتوں کا اتحاد بنوایااوا اس اتحاد کی مدد کی۔

1990ء کے انتخابات کا معاملہ یہ ہے کہ آج بھی اس کے متعلق عدالتوں میں کیس موجود ہیں۔ 2002ء کے انتخابات بھی انتہائی مشکوک سمجھے جاتے ہیں۔

امید ہے کہ آنے والے انتخابات بہترین انتخابات میں شمار ہوں گے۔ انتخابات کرانے کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوتی ہے لیکن اگر سیاسی معاملات درست نہ ہوں تو تمام اچھی توقعات دھری رہ جاتی ہیں، تاہم موجودہ سیاسی صورتحال کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم کھیل کا میدان ہموار نہیں ۔ کیا آنے والے انتخابی نتائج کو ہضم کرلیا جائے گا ؟ اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔پوسٹ الیکشن پیرڈ کے آثار اچھے نظر نہیں آتے۔ سب سے بڑی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ہے۔

جناب ایس،ایم ، ظفر نے کہا کہ اگر انتخابات منصفانہ ہوتے ہیں تو یہ جمہوریت کی جیت اور نوکر شاہی کی شکست ہوگی۔ قابل اعتماد اور شفاف وہ عمل ہوگا جو عوام کی نظر میں قابل اعتماد اور شفاف ہو گا۔ صرف الیکشن کمیشن یا نگران حکومت کے کہنے سے قابل اعتماد نہیں ہو گا۔ انتخابات کے سلسلے میں قوم کا سب سے پہلا مطالبہ ان کے بروقت ہونے کے متعلق ہونا چاہئیے۔

اگر انتخابات ایک بار ملتوی ہوگئے تو اس کے بعد جو بھی انتخابات ہوں گے وہ قابل اعتماد نہیں ہوں گے، ابھی وقت ہے شکوک دور کرلئے جانے چاہئیں۔ پانامہ کیس تو عدلیہ نے شروع نہیں کیا یہ تو ان کے پاس آگیا۔ عدلیہ نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔

اگر فیصلے انتخابات کے قریب کئے جائیں گے تو اس سے پارٹی پر اثرات پڑیں گے، سپریم کورٹ نے جس طرح احسن اقبال کے سلسلے میں فیصلہ انتخابات کے بعد دینے کا کہا ہے اسی طرح دوسرے کیسوں کے فیصلے بھی بعدمیں کئے جاسکتے ہیں۔

یہ عدالت کی صوابدید کی بات ہے۔اس طرح سے اجتماعی طور پر دانشوروں کو اچھا پیغام جائے گا۔ سب کو فیئر پلے کا موقع دینے کا تاثر قائم ہونا چاہئیے۔ لیکن ہمارے سیاستدانوں کو بھی اپنی کمزوریوں کا الزام دوسروں پر نہیں دینا چاہئے۔ہارنے والے ہار مان جائیں اور جیتنے والے بھی اپنے حریفوں کے متعلق اچھے الفاط استعمال کریں تو اس سے عوام میں سیاستدانوں کے متعلق اچھا تاثر قائم ہوگا۔

ہمیں پرانے رویے ختم کرنا ہوں گے، ہمارے ہاں مقدمات کے فیصلوں کے سلسلے میں بھی یہ ہوتا ہے کہ ہارنے والا فیصلے کو درست تسلیم نہیں کرتا اور جیتنے والا اکٹر دکھاتا ہے۔ اگر سیاستدانوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کیا تو اس سے ہمارا جمہوریت کا نظام دھندلا جائے گا۔

انتخابات سے بہتر نتائج کی توقع ہے اس وقت ووٹرز کھل کر امیدواروں سے گلے شکایات کررہے ہیں اور اپنے حلقوں میں آنے والے سابق اراکین اسمبلی کا راستہ روک کر ان سے پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے ان کے لئے کیا کچھ کیا؟

قیوم نظامی نے کہا کہ وہ بہت سے انتخابات اور سیاست کے عینی شاہد ہیں۔پچھلے دس انتخابات سے ہم ایک ہی طرح کی باتیں کرتے چلے آئے ہیں۔ ہمارے نظام میں ستر سال کے دوران کوئی تبدیلی نہیں آئی نظام تبدیل ہوگا تو انتخابی نتائج میں بھی تبدیلی آئے گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری گذشتہ حکومتی جماعت اور اس کے اقدامات شفاف اور منصفانہ تھے؟ ہمارے نظام میں ووٹ دینے والوں کی نہیں ووٹ گننے والوں کی اہمیت ہے۔ ووٹ کی نہیں نوٹ کی طاقت ہے۔ ہماری جموریت نے ہمیں قائد اور اقبال کا پاکستان نہیں دیا۔ بریگیڈئر ریاض احمد طور نے کہا کہ ہمارے ہاں یہ عجیب بات ہے کہ جتنا علم غیب میڈیا والوں کے پاس ہے وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سیاست دان نو سال تک ملک کو آئین نہیں دے سکے۔ 1946ء کے انتخابات کے بعد انگریز کے پروردہ سارے موقع پرست سیاستدان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ ابھی تک ایسے ہی موقع پرست اقتدار کے لئے آگے آگے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر امان اللہ ملک نے کہ ہمارے ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ حکمران جمہوریت کی روح کے مطابق حکومت نہیں کرتے، لیکن الیکشن کو شفاف اور منصفانہ چاہتے ہیں۔ دشمن نے ہمارا پانی بند کردیا ہے اور الیکشن کی آڑ میں ہمارے ہاں فساد چاہتا ہے۔ ملک گرے لسٹ میں آچکا ہے اور ہم بحیثیت قوم تقسیم ہونے جارہے ہیں۔سجاد میر نے کہا کہ یہ تاثر پیدا ہونے جارہا ہے کہ آئندہ انتخابات فیئر نہیں ہوں گے اور یہ بات ملک کے لئے سود مند نہیں ہوگی۔ ہمارا ملک واحد ملک ہے جہاں انتخابی دھاندلی کے خلاف 1977ء میں پورے ملک میں بھر پور تحریک چلی تھی۔ صدر مجلس جسٹس فتح محمد کھوکھرنے کہا کہ سیاسی لیڈرز پر تشدد کا خطرہ موجود ہے اس سلسلے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

الیکشن کمیشن کو چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کی فوری طور پر میٹنگ بلا کر صورتحال کا جائزہ لینا چاہئیے، تاکہ امیدواروں پر حملوں کا سلسلہ بند ہو۔ اسی طرح جلوسوں کو نظم و نسق میں لانے کی ضرورت ہے۔ الیکشن ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

ملٹری انتخابات میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کرے گی؍انتخابات میں کسانوں اور مزدوروں کو بھی نمائندگی ملنی چاہییے،لیکن مزدور اور کسان بھاری انتخابی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے،گذشتہ انتخابات میں گھوسٹ سکول اور گھوسٹ پولنگ سٹیشن تھے جہاں سے دھاندلی کی گئی ، الیکشن کمیشن کو ان کا علم تھا۔ اس بار ایسی چیزوں پر نظر رکھی جانی چاہئیے۔ انتخابات ملتوی ہرگز نہیں ہونے چاہئیں ۔ انتخابات کے بعد سب کو انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا چاہئیے۔ جب تک انتخابات نہ ہوں انتخابی قوعد کو معطل نہیں کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم