فوری طور پر نئے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑیگا ، لاہور چیمبر

فوری طور پر نئے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑیگا ، ...

لاہور ( این این آئی) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک طاہر جاوید نے کہاہے کہ ملک میں پانی کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ پریشان کن ہوتی جا رہی ہے اگر فوری طور پر نئے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو ملک کو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا ، ملک میں پانی کی اس شدید کمی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو ملک کے لئے انتہائی اہم پانی اور بجلی کے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں ،پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور کسی بھی صورت پانی کی کمی گوارہ نہیں کر سکتا لیکن بدقسمتی سے اس اہم مسئلہ سے نمٹنے کے لئے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کا زیادہ تر انحصار دو بڑے ڈیموں تربیلا اور منگلا ڈیم پر ہے۔ ان دونوں بڑے ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانیکی سطح ڈیڈ لیول 1386فٹ پر آگئی ہے جبکہ منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح ڈیڈ لیول کی جانب بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جولائی اور اگست میں ڈیموں میں پانی کی سطح بہت اچھی ہوتی ہے تاہم کم بارشوں اور گلیشیرز کے نہ پگھلنے کی وجہ سے اس سال جولائی تک بھی ملک کے آ بی ذخائر میں پانی کی شدید کمی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ فلڈ فار کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد ایک لاکھ ایک ہزار اور اخراج 95ہزار 5سوکیوسک ہے جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 39ہزار اور اخراج 69ہزار 127کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پانی کی کمی کی ایک وجہ پانی کا بے جا استعمال اور اس کو محفوظ کرنے کے لئے میکانزم کی کمی ہے۔پانی کی موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ کالا باغ ڈیم پر تنازعات ہیں ۔ گذشتہ سال تقریبا 12ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گرا کر ضائع کر دیاگیا جو ان دو بڑے ڈیموں کے پانی کے برابر ہے ۔

ہر دو سے تین سال کے ہمیں سیلاب کے باعث ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہماری معیشت پر بُری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم بن جائے تو اتنی بڑی مقدار میں پانی کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اوراس کی 45%آبادی کے ذریعہ آمدن بھی ہے۔ جبکہ بڑی صنعتوں کا دارومدار بھی زراعت پر ہے اور پانی کے بغیر زرعی شعبے کی بقاء ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر آگیاہے جو ایک خطرے کی گھنٹی ہے ۔ اگر ملک میں پانی کی کمی برقرار رہی تو ملک کی زراعت اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے اور بہترین حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس


loading...